نیل آرمسٹرونگ کا اسلام قبول کرنا – مکمل کالم
1983 میں ملائشیا اور سری لنکا کے اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی کہ چاند پر قدم رکھنے والے پہلے خلاباز نیل آرمسٹرونگ جب چاند پر گئے تو انہوں نے وہاں ایک آواز سنی، پہلے تو انہوں نے اسے واہمہ خیال کیا مگر پھر ان کے ساتھیوں نے بھی اس آواز کو صاف سنا۔ بعد ازاں جب وہ مختلف ممالک میں لیکچر دینے گئے تو قاہرہ بھی ان کا جانا ہوا اور انہوں وہی آواز سنی، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ تو اذان کی آواز ہے، ہو بہو وہی جو انہوں نے چاند پر سنی تھی۔ یہ سن کر انہیں بہت تعجب ہوا اور انہوں نے اسلام کے بارے میں تحقیق و مطالعہ شروع کیا اور بالآخر متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ یہ خبر بعد میں دنیا کے دیگر اخبارات نے بھی نقل کر کے شائع کی اور یوں پوری دنیا میں پھیل گئی۔
مولانا وحید الدین خان اپنی کتاب ”اسباق تاریخ“ میں یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ خبر پڑھی تو نیل آرمسٹرونگ کو خط لکھ کر اس خبر کی بابت پوچھا۔ جواب میں نیل آرمسٹرونگ نے ذاتی دستخطوں سے خط کا جواب دیا اور لکھا: ”آپ کے خط کا شکریہ۔ میرے اسلام قبول کرنے کی خبریں، اذان کی آواز کو چاند پر اور اس کے بعد قاہرہ میں سننا، سب خلاف واقعہ ہیں۔ میں کبھی مصر نہیں گیا۔ ملائشیا، انڈونیشیا اور دوسرے مقامات کے کچھ رسالوں اور اخبارات نے یہ خبریں بغیر تصدیق کیے ہوئے چھاپی ہیں۔ اس اہل صحافت نے آپ کو جو بھی زحمت دی ہو اس کے لیے میں معذرت چاہتا ہوں۔ خلوص کے ساتھ۔ نیل آرمسٹرونگ۔“ مولانا وحید الدین لکھتے ہیں کہ ’کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمانوں نے آرم سٹرونگ اور ان جیسے دوسرے بندگان خدا کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کو تو پورا نہیں کیا۔ البتہ فرضی کہانیاں بنا کر خوش ہو رہے ہیں کہ چاند سے لے کر امریکی خلاباز تک سب کو ان کے دین اعظم نے فتح کر رکھا ہے۔‘
مولانا وحید الدین خان کی عمر اس وقت پچانوے برس ہے اور وہ بلاشبہ اسلام کے ایک جید سکالر اور بہت بڑے عالم دین ہیں، ان کی دین کی تعبیر یا سیاسی نظریات سے اختلاف ہو سکتا ہے، مگر ان کی علمی وجاہت سے انکار ممکن نہیں۔ ہم میں سے شاید ہر کسی نے نیل آرمسٹرونگ کا ’قبول اسلام‘ کا واقعہ سن رکھا ہے مگر کبھی اس کی تصدیق کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ مولانا وحید الدین خان نے البتہ تصدیق کرنا ضروری سمجھا اور سیدھا آرمسٹرونگ کو ہی خط لکھ کر پوچھ لیا کہ میاں بتاؤ سچ کیا ہے۔ ایک کھرے اور غیر جانبدار محقق کی یہی نشانی ہے۔ وہ اپنے تعصبات سے بالاتر ہو کر صرف سچائی کی جستجو کرتا ہے او ر اس بات کی پراہ نہیں کرتا کہ کون سی بات اس کے افکار و خیالات کے موافق ہے اور کون سی مخالف۔ آرمسٹرونگ کا واقعہ اگر سچ ہوتا تو مولانا وحید الدین خان سے بڑھ کر بھلا کسے خوشی ہوتی مگر انہوں نے اس واقعے کی تحقیق کر کے مسلمانوں کو احساس دلایا کہ وہ کہاں غلطی پر ہیں۔
ادھر ہم مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ جو شخص بھی ہمیں غلطی کا احساس دلاتا ہے ہم اسی کے پیچھے لٹھ کر پڑ جاتے ہیں، اپنی غلطی درست کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ اسی طرح میں نے مولانا وحید الدین خان کے کسی مذہبی نقطہ نظر کا حوالہ دیا تھا جو ہماری روایتی فکر سے میل نہیں کھاتا تھا تو بہت سے لوگوں نے مجھے ای میل کر کے مولانا کے بارے میں بدزبانی کی۔ ہمیشہ کی طرح دلیل ان کے پاس کوئی نہیں تھی۔
اس دنیا میں پونے دو ارب سے زائد مسلمان بستے ہیں جو آج منہ اٹھا کر مغرب کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب وہ کورونا کی ویکسین ایجاد کرے اور کب ہم اپنے بازوؤں میں ٹیکے لگوا کر دوبارہ انہی مغربی ممالک کی تباہی و بربادی کی دعائیں مانگیں۔ ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ ترقی یافتہ مغربی ممالک نے ہمارے مذہب کے اصولوں کو اپنا کر فلاحی معاشرے قائم کیے جہاں سے اگر صرف فحاشی ختم ہو جائے اور ان کے عوام کلمہ پڑھ لیں تو وہ مکمل اسلامی نظام کہلائے گا۔ دوسری طرف انہی ممالک کے بارے میں ہم بے حد معاندانہ رویہ بھی رکھتے ہیں۔ بندہ پوچھے کہ اگر ان ممالک نے ہمارے اصولوں سے کوئی فلاحی معاشرہ قائم کر لیا ہے تو ہمیں اپنی ہی دین کے اصول اپنانے اور لاگو کرنے سے کس نے روکا ہے؟ آج تک جس کسی سے بھی میں نے یہ بات پوچھی ہے اس نے دنیا جہان کی تاویلیں تو دی ہیں مگر اس بات کا شافی جواب نہیں دیا۔
ہماری تمام تر کوشش ان ممالک کے عوام کو کلمہ پڑھانے کی تو ہے مگر خود ہم سب نے جو کلمہ پڑھ رکھا ہے اس کی روشنی میں اپنے اعمال درست کرنے کی ہماری نیت نہیں۔ اگر پوری غیر مسلم دنیا کے بارے میں ہمارا رویہ مخاصمانہ ہوگا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ باقی دنیا کے دل میں ہمارے لیے محبت کے جذبات ہوں! بقول مولانا وحید الدین ”اس قسم کی ’خدمت اسلام‘ سے اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ البتہ یہ بہت بڑا نقصان ہوتا ہے کہ وہ معتدل فضا ختم ہو جاتی ہے جس میں دوسری قومیں اسلام پر غور و فکر کریں۔ دوسری قومیں جب ہمارے لیے نفرت کا موضوع بن جائیں تو ان کے لیے ہمارا دین محبت کا موضوع کیوں بنے گا۔“
انفرادی سطح پر جب کوئی شخص ترقی کرتا ہے تو اس کی کامیابی پر کتابیں لکھی جاتی ہیں، فلمیں بنائی جاتی ہیں، اسے رول ماڈل تصور کیا جاتا ہے، ناکام شخص کی بارے میں کوئی اپنا وقت ضائع نہیں کرتا کہ وہ زندگی کیسے گزارتا ہے۔ اسی طرح کامیاب قومیں بھی رول ماڈل ہوتی ہیں، دوسری قومیں ان کے معاشی، سماجی اور سائنسی ترقی کے ماڈل اپنا کر ترقی کی راہ پر چلتی ہیں۔ مسلمانوں کے عروج کے دور میں ان کا علمی ماڈل مغرب نے مستعار لیا اور پھر نشاۃ ثانیہ کی بنیاد رکھی۔
آج مغرب کا عروج ہے تو مسلمانوں کو ان سے سیکھنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے۔ مگر شرط یہ ہے کہ نیت سیکھنے کی ہو اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب مسلمان ممالک اپنے ہاں ویسی ہی علمی فضا پنپنے دیں جیسی مغرب میں ہے، اگر کسی کا خیال ہے کہ اس آزادانہ علمی فضا کی غیر موجودگی میں مسلمانوں کی ترقی اس لیے ممکن ہے کہ تاریخ میں ہر قوم کے عروج و زوال کا وقت معین اور یہ وقت کسی معجزے کے نتیجے میں جلد آ جائے گا تو یہ ہم مسلمانوں کا تاریخی مغالطہ ہے۔ جھوٹی خبریں پھیلا کرنیل آرمسٹرونگ کو مسلمان کرنے سے کہیں بہتر تھا کہ مسلمان اپنی سپیس شٹل چاند کی طرف بھیجتے جس میں کوئی صالح خلاباز سوار ہوتا جو چاند پر پہنچ کر اذان دیتا اور یوں ارض و سماوات میں اللہ کا پیغام گونج اٹھتا۔ یہ کام چونکہ مشکل تھا اس لیے ہم نے نہیں کیا۔ ’گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے!‘



Comments are closed.