انقلاب اسلامی کے متعلق چالمر جانسن کا نظریہ
معاشرہ ایک مجموعے کا نام ہے جس کے اندر مختلف خصوصیات کے حامل افراد مل کر رہتے ہیں۔ باہم رہنے والی چیزیں یا تو تجمیع کی حالت میں رہتی ہیں یا پھر ترکیب کی حالت میں۔ مثال کے طور پر گندم کا دانہ ایک خاص وزن، حجم، رنگ، غذائیت اور ذائقہ رکھتا ہے، اگر ہم گندم کے چند دانے ایک جگہ پر جمع کر دیں تو یہ حالت تجمیع کہلائے گی کیونکہ ان سب نے مل کر کوئی اجتماعی شکل اختیار نہیں کی۔ لیکن اگر اسی گندم کے دانے کو پیس کر، نمک اور پانی کے ساتھ ایک خاص مقدار اور طریقے کے ساتھ ملایا جائے تو ایک نئی شکل وجود میں آتی ہے جس کا ذائقہ اپنے اجزائے ترکیبی سے مختلف ہے۔ ان اجزائے ترکیبی کو الگ الگ چکھیں تو ان کا ذائقہ مرکب کے ذائقہ سے مختلف ہے۔ لیکن اگر ہم ان اجزائے ترکیبی میں سے کسی ایک کو بھی نکال دیں تو مرکب کی اصلی حالت ختم ہو جائے گی اور وہ اپنی خصوصیات کھو دے گا۔ پس مختلف خصوصیات رکھنے والی اشیا کا اس طرح سے باہم مل جانا ترکیبی حالت کہلاتا ہے۔
علم سماجیات کے ایک نظریہ کے مطابق انسانی معاشرہ تجمیع ہے اور دوسرے نظریہ کے مطابق انسانی معاشرے کو ترکیبی حیثیت حاصل ہے۔ معاشرے کے مجموعے کو ترکیب سمجھنے والے نظریہ کے اندر معاشرے کے وجود اور اس کے اندر رونما ہونے والی تبدیلیوں کی بنیاد کے متعلق مزید دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک نظریہ ساختار پسندی (structuralism) کا ہے جس کے مطابق معاشرے کی ساخت یا ڈھانچہ اصلی حیثیت و اہمیت کا حامل ہے اور عمل کو ثانوی حیثیت حاصل ہے۔ دوسرا نظریہ عمل پسندی (Functionalism) کا ہے جس کے نزدیک اصلی حیثیت ساخت یا ڈھانچے کو نہیں بلکہ عمل کو حاصل ہے۔ یعنی معاشرے کے افراد کا عمل ایک دوسرے پر لازمی طور پر اثر انداز ہونا چاہیے تا کہ معاشرے کی ترکیب باقی رہے۔ بالفاظ دیگر اگر عمل کی نوعیت تبدیل ہوگی تو ساختار کی نوعیت بھی بدل جائے گی۔
ہم اس سے قبل معاشرے میں انقلاب رونما ہونے کے مختلف نظریات قارئین کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں، جن میں سے ایک نظریہ تھیڈا اسکافل کا نظریہ تھا جس کی بنیاد در حقیقت ساختار پسندی پر قائم ہے جس نے اجتماعی و اقتصادی عوامل کو انقلاب کا باعث قرار دیا۔
انقلاب اور نظام اجتماعی (Revolution and the Social System) کے مصنف چالمر جانسن (Chalmers Ashby Johnson) کے نزدیک معاشرتی مجموعے میں اصل حیثیت عمل کو حاصل ہے۔ جانسن کے مطابق معاشرے کا ہر عضو دو کردار (Role) ادا کر رہا ہوتا ہے، جس میں ایک کردار دوسرے اعضا مجموعہ کی نسبت ادا کرنا ہوتا ہے اور دوسرا کردار خود مجموعے کی نسبت ادا کرنا ہوتا ہے۔ یہ مجموعہ اس وقت تک باہم مربوط رہتا ہے جب تک اس کے اعضا دونوں کردار بہترین طریقے سے ادا کرتے رہیں۔
جانسن اپنے نظریہ انقلاب کی بنیاد انہی عملی اقدار کو قرار دیتے ہیں کہ جب تک لوگ عملی اقدار قائم رکھیں گے معاشرے کو کسی انقلاب کی ضرورت نہیں ہوگی، لیکن اگر یہ عملی اقدار کسی وجہ سے خرابی کا شکار ہو جائیں تو معاشرے کا نظام شکست و ریخت کا شکار ہوجاتا ہے۔ جانسن کے مطابق اس خراب معاشرے کو واپس اپنی پہلی حالت کی طرف پلٹانا انقلاب کہلاتا ہے جس کے لیے نظام کی تبدیلی لازمی نہیں ہے۔ جیسے ایک انسان کے جسمانی نظام میں کسی بیماری کی وجہ سے کوئی خلل پیدا ہوتا ہے تو ڈاکٹر کا کام جسمانی نظام کو تبدیل کرنا نہیں ہے، دل کی جگہ معدہ اور گردے کی جگہ دل کو رکھ دینا نہیں بلکہ اس کام کام فقط جسمانی نظام میں موجود خلل کو دور کر کے جسم کو واپس اپنی درست کارکردگی پر لے کر آنا ہے۔
البتہ یہاں ضمناً ایک پہلو قارئین کی خدمت میں پیش کرنا لازمی ہے اور وہ یہ کہ جانسن کے نزدیک معاشرے کے درست کام کرنے کی بنیاد انسانی اقدار نہیں ہیں بلکہ وہ اقدار ہیں جس سے معاشرے کے اندر کام میں رکاوٹ پیدا نہ ہو اور کام کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا رہے۔ ایک انسان اپنے اندر انسانی اوصاف (عدالت، ایثار، تقوی وغیرہ ) رکھے یا نہ رکھے لیکن وہ وقت کی پابندی لازمی کرے، قطار میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرے اور یہ سب کام اس لیے کرے تاکہ عمل کی قیمت میں کوئی کمی نہ آئے بلکہ اس عمل سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے۔
مغرب کے اندر شاید انہی سطحی چیزوں کو دیکھ کر لوگ متاثر ہو جاتے ہیں اور یہاں تک بھی کہہ دیتے ہیں کہ حقیقی اسلام انہوں نے مغرب میں دیکھا ہے۔ لیکن اگر اسی پابندی وقت کرنے والے اور ٹریفک کی خلاف ورزی نہ کرنے والے معاشرے کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہاں عملی اقدار تو بکثرت نظر آتی ہیں لیکن یہ معاشرہ انسانی اقدار سے بالکل خالی ہے۔ کیونکہ وہاں عمل پسندی کا محرک صرف اور صرف مادی فوائد یا نقصانات ہیں، ان کے اقدار مادی فائدے اور نقصان کے گرد گھومتے ہیں۔
یہ عملی اقدار بچوں سے لے کر پیشہ وارانہ زندگی تک، ہر طبقے کو مسلسل سکھائے جاتے ہیں، کیوں سکھائے جاتے ہیں؟ تا کہ ان کے اندر ایسے اوصاف پیدا ہو سکیں جن کی مدد سے سے کام اچھا ہوتا ہے۔ اگر ایک انسان نماز کے وقت پر نماز ادا کرے اور اس کے اس عمل سے کام میں معمولی سی بھی سستی پیدا ہو جائے تو ان کے مطابق یہ اقدار نہیں ہیں کیونکہ اس سے پیداوار میں کمی آ گئی ہے۔ کوئی انسان اگر دفتر میں دوسرے کو اپنے ساتھ لایا ہوا کھانا پیش کرے تو اسے حیرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کیونکہ وہاں سب اقدار کے پیچھے کوئی نہ کوئی مادی فائدہ ہونا لازمی ہے۔
غرض کہ چالمر جانسن کے مطابق انقلاب تب رونما ہوتا ہے جب معاشرے میں عملی کی قیمت کو بڑھا دینے والے اقدار ضعیف ہو جاتے ہیں تو نتیجتاً حکومتی نظام غیر متوازن ہو کر بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔ چند دیگر اسباب و عوامل اس توازن کے بگاڑ کو مزید تیز کر دیتے ہیں، اس خراب معاشرے کو چند اصلاحات کے ذریعے واپس اپنی پہلی حالت میں لے جانا انقلاب کہلاتا ہے۔ انقلاب یعنی لوگوں کو واپس کام پر لے آنا جہاں دوبارہ سے ہر کوئی اپنا کام ٹھیک طریقے سے انجام دینا شروع کر دے۔
جانسن کے نزدیک ایران میں بھی عدم توازن پیدا ہوا، مثلاً معاشرتی اقدار تبدیل کی گئیں، ایرانی ثقافت کی جگہ مغربی ثقافت کو لازمی قرار دیا گیا، کسانوں کو حقوق نہیں ملتے تھے وغیرہ۔ ان نا مطلوب تبدیلیوں کے ساتھ کچھ ایسے واقعات و حادثات بھی رونما ہوئے جس کو روکنے یا حل کرنے میں شاہ ایران اور اس کے ماہرین ناکام ہو گئے۔
جانسن نے انقلاب اسلامی کی وجوہات کے طور پر عدم توازن کی جو مثالیں پیش کی ہیں، وہ حقیقی اسباب عدم توازن نہیں ہیں۔ کیونکہ معاشرے میں فنکشنل ویلیوز سے زیادہ انسانی اقدار کا عمل دخل تھا۔ جانسن کا کہنا ہے کہ اگر حاکم اور اس کے حکومتی ماہرین خراب نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے چند اصلاحات کر لیں تو عمل انقلاب سے بچا جا سکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شاہ ایران اور نے انقلاب کی کامیابی سے ایک سال قبل ہی بہت بہت بڑی تبدیلیاں کرنا شروع کر دی تھیں، مثلاً اس نے کئی وزرا کوہٹا دیا، مطبوعات پہ عاید پابندی کو کافی حد تک نرم کر دیا، تیرہ سال سے وزیر اعظم رہنے والے قریبی ساتھی کو جیل میں ڈال دیا، ملک خفیہ ایجنسی (ساواک) کے سربراہ کو برطرف کر دیا، اپنہ بہن اشرف پہلوی کو ایران سے نکال دیا، قم اور مشہد کے مذہبی مقامات پر باقاعدہ جانا شروع کر دیا، غرض کہ وہ انقلابی قیادت کے ہر مطالبے کو ماننے کے لیے تیار ہو گیا تھا۔
جانسن کے نظریہ انقلاب کے مطابق تو اتنی بڑی سطح کی اصلاحات کے بعد انقلاب کبھی بھی نہیں آنا چاہیے تھا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہر مذاکراتی اور اصلاحاتی عمل سے انقلابیوں کے غم و غصہ میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ آخر کار اپنی تمام جنایت کاریوں کا سر عام اعتراف کر کے شاہ ایران کو ملک چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔ در حقیقت جانسن نے انقلاب اسلامی کے آئیڈیالوجیکل پہلو کو نظرانداز کرتے ہوئے، اس انقلابی تحریک کو بھی عوامی سطح کی ایک ریلی سمجھا جس میں لوگ اپنے مفادات اور مطالبات حاصل کرنے آتے ہیں اور حکومتی وعدے سن کر گھروں کو چلے جاتے ہیں۔


