ایک بے ساختہ مشورہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ مجھ سے عمر میں ڈیڑھ گنا بڑے ہیں۔ ڈاکٹر ہیں۔ مجھے اپنے فلیٹ میں لیپ ٹاپ پر ایک پریزینٹیشن میں مدد لینے کے لئے مدعو کیا۔ میں داخل ہوا تو مجھے یہ کوئی کباڑخانہ یا سٹور روم دکھائی دیا۔ ہر شے گرد سے اٹی پڑی تھی۔

میز پر سالن سے لتھڑی ڈسپوزیبل رکابیاں دھری تھیں جن پر جما ہوا سالن اب پھپھوندی کا رزق بن رہا تھا۔ سامنے کی میز جو کسی زمانے میں سٹڈی ٹیبل رہی ہوگی اب ویزلین، کنگھا، تیل، جوتیوں کا برش، سکرال سویٹنر، بال پین، ہینڈ فری، بے مصرف کاغذ کے پرزوں، مارکر اور ٹیلی وژن کی مشترکہ آماجگاہ تھی۔

ساتھ پڑی ایک تپائی کے ساتھ پلاسٹک کا ایک سٹول جوڑ کر اسے بھی ایک میز نما بنا دیا گیا تھا جس پر دھول چٹایا ہوا ایک پینٹیم فور کمپیوٹر ان کی جوانی کی یاد دلاتا تھا۔ انہوں نے کمرے میں داخل ہوتے ہی گیس ہیٹر آن کر دیا تھا جس نے کمرے کا درجہ حرارت خاصا معقول کر دیا تھا ورنہ باہر دسمبر کی برفانی ہوا ہڈیوں کے گودے میں پیوست ہو ہوجاتی تھی۔

ایک سنگل بیڈ جس پر ایک میٹریس اور اس پر ایک کمبل مع رضائی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ عقبی حصے میں صوفہ موجود تھا مگر آدھا کہ اس کی دو سنگل کرسیاں غائب تھیں۔

صوفے پر ان کی میلی چکٹ جیکٹ، دو تین سویٹر اور چند شرٹیں بکھری تھیں گویا کسی ریڑھی پر لنڈے کی سیل لگی ہے۔

مشرقی سمت کی الماری بند تھی۔ اس کے بند دروازے کی درز سے باہر کو جھانکتے کف بتا رہے تھے کہ اس میں دھلے ہوئے استری شدہ کپڑے لٹکے ہیں۔ یہ فلیٹ تین کمروں پر مشتمل تھا جس میں دو باتھ روم تھے۔

ایک باتھ روم کا دروازہ ادھ کھلا تھا مگر اس کا عرش و فرش اور در و دیوار دیکھ کر اس کے اندر جانے کی تاب کسی رستم زماں کو بھی نہ تھی۔ ایک واشنگ مشین بھی اس میں موجود تھی۔

اسکی گیلی زمین پر رینگتے حشرات الارض پر نظر پڑتے ہی جسم میں ایک بار پھر کپکپی کی لہر دوڑ گئی۔
وہ مجھے پریزینٹیشن دکھا رہے تھے۔ اچانک یو ایس بی کی ضرورت پیش آئی۔
”ٹھہرو! یہ فائل یو ایس بی میں ہے۔ میں لاتا ہوں“
میں ان کے پیچھے پیچھے دوسرے کمرے میں آ گیا۔

یہاں کارٹن کے کارٹن ردی کے جمع تھے۔ ان پر پرانے ٹوٹے پھوٹے ٹیپ ریکارڈر، تاروں کے گچھے، ریڈیو و ٹیلی فون سیٹ، پرانے چارجر، کچھ سپیکرز، ایک دو مانیٹرز، ریزرز، قینچیاں، تاش کی گڈیاں، ماچس کی ڈبیاں، مقناطیس، پشت و ٹانگوں سے محروم ایک کرسی جس پر ایک کارٹن لدا تھا اور بہت غور سے دیکھنے پر معلوم ہوتا تھا کہ دولائی اور ایک دری کو کسی صحرا سے لاکر اس میں ٹھونس دیا گیا ہے، ، سکاچ ٹیپ، دو چھوٹے گملے، ورزش کا ڈمبل۔ یہ سب بھی خاک نشین تھے۔ ایک بینچ پر مائیکرو ویو اوون اور ٹوسٹر بھی پڑے تھے لیکن سالن سے لبڑے ہوئے۔

ہارر فلموں والا ایک سپارکنگ کرتا پیلا بلب سامنے کے بورڈ میں لگا تھا۔

اسکی جھلملاتی روشنی میں میں نے دیکھا کہ تمام ٹو پیس و تھری پیس سوٹ کمال بے نیازی سے ایک سٹیل کے سٹینڈ پر الف ننگے لٹکا کر سپرد فرش کیے گئے ہیں۔

میں : ”سر ان کو الماری میں کیوں نہیں لٹکاتے؟“
سر: (چڑچڑاہٹ اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں )
یار الماری میں پہلے سے بہت الا بلا جمع ہے۔ ان کی جگہ ہی نہیں بنتی۔

کتابیں بھی تو الماری میں ہیں۔ ایف سی پی ایس کے بعد کی تمام فائلز بھی وہیں رکھی ہیں اور ساری سروس کا ریکارڈ بھی۔ ”

پھر شاید خود ہی میرا سوال سمجھ کر ایک لحظہ کے توقف سے بولے
” ہاں یہ گرد و غبار سے بچانے کے واسطے میں اس کو کور کر دیتا ہوں اس بڑی پلاسٹک شیٹ سے۔“

یہیں ایک سٹینڈ پر ایک قتالۂ عالم دوشیزہ کی مختصر ترین لباس میں پینٹنگ بھی بنی تھی جو انہوں نے خود بنائی تھی۔

میری نظر پڑی تو کافی دیر ہٹ نہ سکی۔
سر یہ کون ہے؟ اور کہاں ہے؟
اک سرد آہ بھری اور فرمایا
”نہ جانے کون ہے۔ مگر میرے تخیل میں ہے“

یہاں ایک روشن دان میں قالین کو تہہ کیے بغیر گھسیڑا گیا تھا جس پر ایک لکڑی کا صندوقچہ پڑا تھا۔ اس میں سے یو ایس بی برآمد ہو گئی۔

”دیکھا؟ مل گئی ناں۔ ؟
اصل میں یاد ہی نہیں رہتا کون سی چیز کہاں پڑی ہے۔
تم چائے پیو گے؟ ”
میرے جواب کا انتظار کیے بغیر آپ کچن میں داخل ہوئے تو مجھے متلی ہونے لگی۔

فرائی پین چولہے پر تھا جس کی دیواروں پر چکنائی، پلاک اور جلی ہوئی خوراک نے قلعوں کی فصیلیں تعمیر کردی تھیں۔

ان میں سے ٹڈیاں اور مکڑیاں بے خوف و خطر اچھل کود کرتی تھیں۔

نیچے ڈسٹ بن میں دودھ کے ڈبے، بچا ہوا دہی، فنگس آلود پیسٹریاں اور شاید فرنی، گلے سڑے پھل اور بچی ہوئی روٹیاں۔ سب مل کر ایفل ٹاور بناتے تھے اور لال بیگوں کے لئے اچھی خاصی ہائی ٹی کا انتظام کرتے تھے۔

پاس ہی ایک فریج کھڑا تھا۔ نہ جانے اس میں کیا رکھتے ہوں گے ۔

سنک میں برتنوں کا ڈھیر تھا۔ چائے چھلنی کی پتی سنک کے سوراخ میں جمع تھی جس کے باعث تمام برتن میلے چکنائی زدہ پانی میں ڈوبے اپنی حالت کا نوحہ کہتے تھے۔

گیس کے چولہے پر دودھ نے ابل ابل کر اس کا وہ حشر کر دیا تھا جو اکثر فلموں میں میا خلیفہ و سنی لیون کا ہوا کرتا ہے۔

”سر! آآ آا ام میں چائے نہیں پیوں گا۔ ابھی چائے پی لی تو کھانا رہ جائے گا“

میں نے مردہ سا بہانہ گھڑا۔ وہ دوبارہ پہلے کمرے میں آ گئے۔ پریزینٹیشن کو فائنل ٹچ دینا شروع کیا اور مجھے دکھانے لگے۔ ساتھ ساتھ ایکسپلین بھی کرتے جاتے۔

تمام سلائیڈز ختم ہو چکیں تو سوالیہ نظروں سے گویا ہوئے
”میرا خیال ہے سلائیڈز اتنی ہی کافی ہیں،
اب مجھے اور کیا کرنا چاہیے؟ ”
”شادی“
میرے منہ سے اضطراراً نکل گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •