زیادہ بچے: توکل یا حماقت؟

شعیب منصور کی ایک مشہور فلم کا معروف ڈائیلاگ ہے، ”جب پال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو“ ، اپنے انتہائی پیارے وطن میں دو یا دو سے کم بچے پیدا کرنے کا رواج کیا سوال ہی نہیں، اگر غلطی سے کسی کے دو بچے نکل بھی آئیں تو وہ اظہار افسوس کرتا ہوا ملے گا کہ بس جی دو کے بعد اللہ نے دیے ہی نہیں۔ زیادہ تر لوگوں کے ”کافی“ بچے ہوتے ہیں، ایک نکھٹو شوہر کی بیوی اپنے نویں بچے کی پیدائش پر کہنے لگیں خدا نے مال تو دیا نہیں، جو دے رہا ہے کیا وہ بھی نہ لیں۔
زیادہ تر کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ بھئی جو روح دنیا میں آتی ہے وہ اپنا رزق ساتھ لے کر آتی ہے۔ اب کوئی پوچھے کہ اگر روح رزق لے کر آتی ہے تو پھر لوگ بھوک سے خود کشیاں کیوں کر رہے ہیں، مائیں اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتے دیکھ کر زہر دے کر کیوں مار رہی ہیں، باپ روٹی نہ مہیا کر سکنے کی اذیت سہتے سہتے تنگ آ کر اپنے ہی جگر گوشوں کے ساتھ نہر میں چھلانگ کیوں لگا دیتا ہے۔ چوک چوراہوں پر بچوں بوڑھوں جوانوں کے غول کے غول بھیک مانگتے ہوئے کیوں نظر آتے ہیں، لیکن ہم اپنے استدلال پر ڈٹے ہیں کہ جو روح آتی ہے وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لے کر آتی ہے۔
رزق تو جناب قسمت میں لکھا ہوا ہے، بلکہ عورت کی قسمت سے ملتا ہے (خیر یہ ایک جملہ معترضہ ہے ) وغیرہ وغیرہ، اوہ بھئی اس دنیا میں رزق کمانے کے لئے محنت کرنا پڑتی ہے، کوئی ہنر حاصل کرنا پڑتا ہے، دن رات ایک کرنا پڑتا ہے تب جاکر رزق ملتا ہے اور جس تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، لوگ آسائشوں کے عادی ہوتے جا رہے ہیں اور یہ آسائشیں ضروریات زندگی میں شامل ہوتی جا رہی ہیں تو اب ایک بندے کے کمانے سے یہ آسائشیں، یا یوں کہوں کہ زندگی کی بنیادی ضروریات حاصل ہونا مشکل ہے۔
لیکن چار، پانچ یا چھ بچے پیدا کر کے راگ الاپا جا رہا ہے کہ بھئی رزق تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، بے شک اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس نے تو رزق کمانے کے تمام ذرائع پیدا کر دیے ہیں اور عقل و شعور بھی دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ تو اتنے بچوں کو بہترین تعلیم دی جا سکتی ہے اور نہ ان کی اچھی تربیت کی جا سکتی ہے، بندہ دن رات کے پھیر میں ایسا پھنستا ہے کہ بنیادی ضروریات پورا کرنے کے چکر میں تعلیم و تربیت تیل لینے چلی جاتی ہے، روٹی مل جائے پیٹ بھر جائے یہ ہی بہت ہے، تعلیم و تربیت کے بغیر پھر جہالت ہی پنپ سکتی ہے۔ اور الا ماشاءاللہ وہ خوب پھل پھول رہی ہے۔
پاکستان میں شاید بڑے شہروں میں کچھ تفریح کے مواقع ہوں تو ہوں لیکن چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات میں تو تفریح کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں اور نہ ہی اتنے ذرائع ہیں، پھر ایک ہی تفریح جو کہ لوئر مڈل کلاس اور غرباء کے پاس رہ جاتی ہے اور وہ ہے سیکس، اوپر سے یہ بیچارے اچھے پکے اور سچے مسلمان بھی ہوتے ہیں، ان کے تئیں ہر قسم کی تفریحی سرگرمیاں حرام ہیں، موسیقی حرام ہے، مصوری منع ہے، ناچنے والا جہنمی ہے، سنگ تراش دوزخی ہے آخر میں تفریح کی ایک ہی چیز بچتی ہے جس کے حلال ہونے پر سبھی کا اتفاق ہے، اور اوپر سے طرہ یہ کہ مولوی نے ان کو جمعے کے خطبے میں بس یہی بتایا ہے کہ فیملی پلاننگ حرام ہے، اس لیے تقریباً ہر سال خاندان میں اضافہ ہوجاتا ہے، ایک کھانے والا جی اور بڑھ جاتا ہے۔ بھوک میں اور بڑھوتری ہو جاتی ہے۔
پاکستان جنوبی ایشیاء میں آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ تیزی سے ”ترقی“ کرنے والا ملک ہے۔ 2.69 % کی رفتار سے اس خطے میں سبھی ہمسایہ ممالک کو پچھاڑ دیا ہے۔ جس سرعت سے مملکت خداداد کی آبادی بڑھ رہی ہے اگر یونہی بڑھتی رہی (جو کہ فی الحال تو رکتی نظر نہیں آ رہی) تو پھر یہاں بندہ بندے کو کھائے گا، نہ روٹی ہو گی نہ پینے کو صاف پانی ہو گا نہ ہی تعلیم اور صحت کی کافی سہولیات ہوں گی، ہر طرف لاقانونیت کا دور دورہ ہوگا، بڑے شہروں میں خوفناک بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پہلے ہی جرائم بڑھ گئے ہیں، اصل بم یہ آبادی کا بم ہے، بلکہ ٹائم بم ہے جس دن پھٹے گا سب کچھ ساتھ بہا کر لے جائے گا۔ اور جس رفتار سے آبادی بڑھ رہی ہے لگتا ہے کہ جلد ہی پھٹ جائے گا۔ لیکن اپنا حال یہ ہے کہ مولوی کے سبق رٹو طوطے کی طرح دہرائے جا رہے ہیں کہ جو روح آتی ہے وہ اپنا رزق ساتھ لاتی ہے، اور رزق تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی ان کو بتائے رزق صرف روٹی کپڑے کا نام نہیں، معیار زندگی بھی کسی چڑیا کا نام ہے۔
ایک اور قول زریں کا بہت چرچا ہے کہ جی زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے بندہ لاعلاج مرجائے یا اعزہ و اقربا کی علاج میں کوتاہی سے راہئی ملک عدم ہو جائے یا ڈاکٹر کی کسی غلطی یا نا اہلی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلا جائے، خراب سڑکوں یا خراب ٹریفک کے نظام کی وجہ سے کسی حادثے میں مارا جائے، تو لوگ بس اتنا کہہ دیتے ہیں کہ اوہ جی! بس زندگی ہی اتنی لکھی تھی مرحوم کی، بس جی اللہ کی یہ ہی مرضی تھی۔ نہ کوئی پوچھے کہ جناب زندگی غیر ترقی یافتہ ملکوں میں ہی کیوں کم لکھتے ہیں اللہ میاں، کبھی کوئی یہ کیوں نہیں پوچھتا کہ یہ جاپان اور جرمنی جیسے ملکوں کے بڈھے کیوں جئے ہی چلے جاتے ہیں، یورپ اور امریکہ میں اوسط عمرکیوں زیادہ ہے، وہاں لوگ اسی نوے سال کیوں جیتے ہیں، پاکستانیوں کی اکثریت ساٹھ سال تک بمشکل کیوں پہنچتی ہے۔
کیا ان کا خدا کوئی اور ہے اور ہمارا خدا کوئی اور۔ یا خدا کو ہم سے کوئی ایسی خاص محبت ہے کہ جلدی سے اپنے پاس بلا لیتا ہے۔ جی نہیں نہ ان کا خدا کوئی اور ہے نہ ہی خدا کو ہم سے کوئی خصوصی محبت ہے۔ خدا کی بنائی ہوئی یہ دنیا اٹل اصولوں اور خدا ہی کے بنائے ہوئے قوانین پر چلتی ہے، اور اس کا قانون سب کے لئے ایک ہی ہے چاہے وہ ”کافر“ ہے یا اچھا سچا پکا مسلمان۔ جو جتنی کوشش کرے گا اتنا ہی پائے گا۔
وہاں ”کافر“ ممالک میں کھانے پینے کی چیزوں میں کوئی ملاوٹ نہیں کرتا جعلی دوائیں نہیں بیچتا، دودھ میں پانی اور کیمیکل نہیں ملاتا، ماحول کو صاف رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے، ٹریفک کے قوانین کی سب کو پاسداری کرنا ہی ہوتی ہے، صحت اور تعلیم کی بہترین سہولتیں میسر ہیں، آبادی میں اضافہ کنٹرول میں ہونے کی وجہ سے حکومتیں بہتر منصوبہ بندی کر پاتی ہیں، پہلے سے موجود انسانوں کی زندگی کی قدر کر پاتی ہیں۔ اس لیے وہاں اوسط عمر زیادہ ہے، وہاں پر روح دیر سے قبض ہوتی ہے۔ کوئی اپنی کوتاہی، اپنی نا اہلی کو خدا کے کھاتے میں نہیں ڈالتا۔ اپنی نالائقیوں کے لئے اللہ کو قصور وار نہیں ٹھہراتا کہ بس جی وقت آ گیا تھا۔ بس اتنی ہی لکھوا کر لایا تھا۔ اللہ آپ کو صبر دے۔ آمین۔

