منصور شباب کی گائیکی اور روح موسیقی
موسیقی سے وابستہ لوگ میرے حساب سے تین طرح کے ہوتے ہیں۔
ایک وہ جو اپنے لئے گاتے ہیں۔ بس وہ گاتے ہیں اور لطف اٹھاتے ہیں اپنی ذات کی حد تک۔ انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ ان کی گائیگی کے طرز، الفاظ کی ادائیگی، دھن کی بنت اور موسیقی کے آلات کے ردھم اور اپنی آواز کے زیروبام کے جوڑ کو کس طرح اور کس ناز سے اٹھانا ہے۔ یہ جنون ساری زندگی ان کے ساتھ چمٹا رہتا ہے وہ کوششوں کے باوجود اس عادت سے جان نہیں چھڑا پاتے۔ ضروری نہیں کہ یہ لوگ صرف برا گائیں۔ چونکہ ان کو صرف اپنی ذات تک گلوکاری سے عشق ہوتا ہے اس لئے وقت کے ساتھ ان کے فن میں نکھار کا آنا لازمی ہوتا ہے۔ وقت، برداشت اور محنت ان کے فن کو روانی، ردھم اور آہنگ عطا کرہی دیتا ہے۔
دوسرا طبقہ سامعین و ناظرین کے لئے گانے والوں کا ہے۔ ان کو موسیقی سے صرف اتنی ہی دلچسپی ہوتی ہے کہ وہ اس کی وجہ سے محفلوں کی جان بنے ہوتے ہیں۔ یا معاشرہ ان کو ان کے فن کی وجہ سے عزت دیتا ہے۔ عموماً معاشرہ ایسے افراد کو موسیقی، موسیقار اور گلوکاروں پر ڈھائے جانے والے ہر ستم کے بعد بھی احترام کا ایک غیر محسوس درجہ دے ہی دیتا ہے۔ اس طبقے کا عموماً روزی روٹی بھی موسیقی سے وابستہ ہوتا ہے اس لئے ان کے لئے گائیگی ایک طرح سے زندہ رہنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
یہ طبقہ اپنے فن میں نکھار لانے کے لئے دن رات محنت کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ریاض کے نام پر ساری زندگی ایک مستقل ہوم ورک ان کی زندگی کا حصہ ہوتا ہے۔ چونکہ زندگی کی بہت ساری ضروریات ان کے فن سے جڑے ہوتے ہیں اس لئے وہ اپنے سامعین و ناظرین کو بہتر سے بہتر مواد پیش کرنے کی کوشش میں زندگی تج دیتے ہیں۔ کمال فن ان کو بھی میسر آئے ناممکن تو نہیں۔ قدرت کسی کی محنت رائیگاں جانے کبھی نہیں دیتی۔
تیسرا طبقہ اور یہ سب سے خطرناک ترین طبقہ ہوتا ہے یہ طبقہ کوشش اور ڈھیر ساری لاپرواہیوں کے باوجود موسیقی کے ساتھ نا انصافی نہیں کر سکتا۔ اس بات سے سب ہی متفق ہیں کہ دنیا میں ہر انسان کی تخلیق ایک مخصوص فن میں مہارت کے ساتھ کی گئی ہے ایک شخص ایک ہی وقت میں بہترین لوہار، سنار، گلوکار، ڈرائیور، سیاست دان، منتظم یا پھر تمام مروجہ فنون میں ماہر نہیں ہو سکتا جس ایک کام کی مہارت قدرت کی طرف سے عنایت کی گئی ہے اگر آپ اسی شعبے میں موجود ہیں تو دنیا کو اپنی تخلیق کی وجہ رخصتی سے قبل ثابت کر چکے ہوتے ہیں۔ ہر انسان کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ قدرت کی عنایت کردہ اپنی اس صلاحیت کو تلاش کرسکے۔ تاکہ کامرانیوں کے دروازے ان پر وا ہو سکیں۔ اور معاشرے کو بھی اس شعبے کا بہترین مل سکے۔
منصور شباب بھی اسی قدرتی انعام کے ساتھ گلوکاری کے لئے پیدا کیے گئے اس تیسرے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ان کی محفل سے پیرومرشد، ساقی و شیخ، انس و جن سبھی جھومتے ہوئے نکلتے ہیں۔ ایسے سرور میں مبتلا ہو کر کہ پھر کئی دنوں اس سحر سے باہر نکلنا ان کے بس سے باہر ہوتا ہے۔ ان کی آواز میں آبشاروں کا گرتا ہوتا ترنم، بارش کا سبز پتوں پر گرتا ہوا ساز، برف باری میں چلتے ہوئے کانوں کی لوؤں کو ٹچ کرتے ہوئے گرنے والی برف کی خاموشی، بے آب و گیاہ ویرانے میں رات گزارتے ہوئے اپنی ہی سانسوں کی آہنگ کو سننے کا تجربہ سب کچھ موجود ہے۔ ان کی محفل میں بیٹھا ہر شخص سنار کے لکھنوی تہذیب کے مدھم سروں میں جب ڈولنے لگتا ہے تب ہی وہ لوہار جیسی چنگیزی پر اتر آتے ہیں۔ مگر کمال ان کا یہی ہے کہ جب وہ موسیقی کو برتنے لگتے ہیں تو ان کی چنگیزی بھی دل کو بھلی ہی معلوم ہوتی ہے۔
ستار پر جب ساز چھیڑی جاتی ہے تو منصور پھر منصور نہیں رہتا وہ سر تا پا موسیقی بن جاتا ہے۔ ان کے رواں رواں سے موسیقی برآمد ہی نہیں ہوتی بلکہ آبشاروں کی طرح بہنے لگتی ہے۔ وہ سیکنڈوں میں محفل میں موجود تمام ذی روح پر قابض ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فیصلہ کرنے میں تمام اہل محفل شش و پنچ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ روح کا خیال رکھیں، موسیقی کا یا پھر سب کچھ چھوڑچھاڑ کر منصور کی مریدی اختیار کر لیں۔





