معاشرتی قفس میں قید ایک آزاد پنچھی کی سچی کہانی


قید اور غلامی فقط دو چھوٹے چھوٹے لفظ ہیں مگر اپنے اندر ایک پوری تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں تصورات انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور کسی ان دیکھی قوت کا ان تصورات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ انسان بڑی چالاک مخلوق ہے اپنی تصوراتی سلطنت اور جاہ و جلال کو برقرار رکھنے کے لیے ہر وہ کہانی بنتا ہے جو اسے اقتدار کی مچان تک پہنچا دے اور اس کہانی کا سرا وہ ایک ان دیکھی اور سپر نیچرل قسم کی طاقت کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے تاکہ کاروبار سلطنت چلتا رہے۔

اس ان دیکھی طاقت کی بھول بھلیوں کی بدولت وہ ایک ایسا مایا جال بن دیتا ہے جسے کاٹنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا اور یہی روایتی تسلسل غیر روایتی لوگوں کے پاؤں کی زنجیر بن جاتا ہے جسے توڑنے کے چکر میں زندگی کے کے قیمتی ماہ و سال بیت جاتے ہیں۔ میں بھی ایک ایسے ہی آزاد پنچھی کو جانتا ہوں جس کی ”سیلف“ یا انفرادیت کو بچپن کی ان ڈاکٹری نیشن کی نظر کر کے بری طرح سے کچل دیا گیا تھا۔ اس کا بچپن ایک ایسے گھر میں گزرا تھا جہاں اس کے والدین کی زندگی کا مقصد ہی اسے ایک روایتی مذہبی انسان بنانا تھا تاکہ وہ ان کی سات نسلوں کو بخشش کا سرٹیفیکیٹ دلوا سکے۔

اس بچے کا نام عدنان ہے جب وہ پیدا ہوا تھا تو وہ فزیکلی بہت کمزور تھا۔ جیسے ہی وہ فائیو کلاس میں پہنچا تو وہ گلے کے ٹانسلرز کے مرض کا شکار ہو گیا اور اس مرض کے علاوہ اس کے کان مسلسل بہتے رہتے تھے۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ اس کے گلے کا آپریشن ہوگا۔ آپریشن کے بعد اس کے گلے کا مسئلہ تو حل ہو گیا مگر کان مسلسل بہتے رہتے تھے۔ عدنان ایک طرف اپنی ذہنی اور جسمانی بیماریوں سے جھوج رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مدرسے میں قرآن حفظ کرنے کی ایک ناممکن کوشش کر رہا تھا۔

اس کا یہ بڑا ذہنی مسئلہ تھا اسے کچھ بھی زبانی یاد نہیں ہوتا تھا مگر والدین نے قاری صاحب کو مکمل آزادی دے رکھی تھی کہ وہ اپنی پوری کوشش کر کے اس کو حافظ بنائے اس کام کے لیے انہیں بھر پور اختیار دے دیا گیا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو جسمانی تشدد بھی کر سکتے ہیں۔ قاری صاحب نے اس اختیار کا بھر پور استعمال کیا اور مسلسل تشدد کرنے کے باوجود عدنان کو حافظ بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ وہ حافط قرآن تو نا بن سکا مگر تشدد کی وجہ سے ایک ذہنی مریض ضرور بن گیا۔

ا سکی شخصیت میں کئی طرح کے خوف سرایت کر گئے والدین نے مدرسے سے ہٹا کر سکول کے حوالے کر دیا مگر اس کی سکولنگ گروتھ بہت آہستہ اور ابنارمل تھی۔ بچپن کے گھریلو اور مدرسہ کے مسلسل تشدد کی وجہ سے اس کی ذہنی صلاحیتیں بہت حد تک دب چکی تھیں۔ یہاں تک کہ وہ شرم اور ڈر کی وجہ سے کلاس میں سب سے پیچھے چھپ کر بیٹھتا تھا۔ وہ کلاس میں ہونے والے لیکچرز کو پوری طرح سے سمجھنے کی کوشش کرتا تھا اور بہت سارے سوالات اس کے ذہن میں کلبلاتے تھے، وہ سوال اس کے لبوں پر تو آتے تھے مگر زبان پر نہیں۔

اسے یوں لگتا تھا کہ اگر اس نے سوال کیا تو استاد اسے تشدد کا نشانہ بنائے گا۔ زندگی کے ابتدائی تشدد کی تصویر اس کے ذہن میں اٹکی رہتی تھی۔ وہ بہت کچھ سیکھنا اور پوچھنا چاہتا تھا مگر اس کی زبان گنگ ہو چکی تھی اور وہ خاموشی سے اپنی ذہنی دنیا میں مست رہنے لگا تھا۔ اسے اکثر سبق زبانی یاد نہیں ہوتا تھا اور اسی وجہ سے استاد اس کے دونوں ہاتھوں پر ڈنڈے مارتا تھا اور اس قسم کی مار کھانا اس کی نارمل روٹین کا حصہ بن چکا تھا۔

حقیقی دنیا میں مار دھاڑ اور تشدد کے سوا کچھ نہ تھا اس لیے وہ اپنے ذہن میں کوئی کردار بناتا اور اکیلے میں بیٹھ کر اس کی اداکاری کرنے کی کوشش کرتا رہتا۔ وہ ایک سہمے ہوئے دانشور کی طرح ایک عمدہ پین اپنی اوپر والی جیب میں سجا کر رکھتا تھا اور خالی کاغذوں پر کچھ نا کچھ لکھتا رہتا تھا۔ شاید وہ اپنی ذہنی فرسٹریشن کو کاغذ کے دامن پر اتارنا چاہتا تھا مگر جو وہ لکھتا تھا وہ اسے بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا کیونکہ اس کے لاشعور میں ڈر اور خوف کے سوا کچھ بھی سٹور نہیں تھا اس خوف اور سہمی والی کیفیت کے ساتھ وہ شعور کے زینے چڑھتا گیا زندگی کی اسی کھینچا تانی میں اس نے گریجوایشن مکمل کر لی مگر اس منزل تک پہنچنے کے لیے اس نے مشکلات کے بہت سے دریا پار کیے ۔

اس منزل تک پہنچتے پہنچتے وہ اینٹ کے روڑے کی مانند بن چکا تھا جسے لوگوں اور حالات کی ٹھوکروں نے گول سا بنا دیا تھا۔ مشکل کے اس سفر کو نہ تو اس کے والدین اور نہ ہی کسی ٹیچر نے ہموار بنانے کی کوشش کی اسے زندگی میں کوئی ایسا نہ مل سکا جو اسے اس کے ذہنی خوف سے باہر نکال کر اسے اپنی ذات سے ملا دیتا۔ گریجوایشن کرنے کے بعد اس نے ایک انقلابی فیصلہ کیا اور اپنے جیسے لاچار اور بے بس طلباء کی آواز بننے کا فیصلہ کیا۔

اس نے ایک اکیڈمی کا اجراء کر دیا جہاں پر ایسے بیسیوں طلباء اور طالبات آتے ہیں جو کسی نہ کسی سماجی جبر اور دکھ کا شکار ہوتے ہیں مگر اب انہیں یہاں آ کر حوصلہ ملتا ہے کیونکہ ان کو گائیڈ کرنے والا وہی عدنان ہے جو کہ حالات سے جھوجتے جھوجتے خود ایک کندن بن چکا ہے۔ وہ اب مختلف ویب سائٹ پر بلاگ لکھنے لگا ہے جو سوال برسوں اس کی ذہنی لیبارٹری میں کلبلاتے رہے وہ اب جوان ہو کر بالغ ہو چکے ہیں۔ اب وہ ان سوالات کو پوری سمجھ بوجھ کے ساتھ پوچھنے لگا ہے۔

اب وہ آہستہ آہستہ peer pressure سے باہر نکل کر اپنی نگاہوں سے اس دنیا کو دیکھنے لگا ہے۔ اب وہ اپنے طریقے سے جینا، بولنا اور سیکھنا چاہتا ہے۔ اب وہ معاشرتی قفس کی قید سے پوری طرح رہائی چاہتا ہے اور ایک آزاد پنچھی کی طرح کھلی فضاء میں پرواز کرنا چاہتا ہے اور زندگی کے سبھی رنگوں کو اپنی ذات کے اندر سمونا چاہتا ہے۔ وہ اب سپون فیڈنگ کے مایا جال کو اپنے عزم سے کاٹنا چاہتا ہے۔ وہ اب تک جن ذہنی آزادیوں سے محروم تھا وہ اب کو پانا چاہتا ہے اور اپنے ذہن کے پیرا شوٹ کو مکمل طور پر کھول کر زندگی کی حقیقتوں کو جاننا اور سمجھنا چاہتا ہے چونکہ اب وہ قید اور غلامی کے حقیقی مفہوم کو جان چکا ہے۔

Facebook Comments HS