انتون چیخوف، بوڑھا قیدی اور بیس لاکھ روپے کا نروان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"hina آج آسمان سے زمین کی طرف خاموشی سے اترتی دسمبر کی دھند دیکھ کر جہاں دل میں بہت سی تلخ یادوں اور واہموں نے سر اُٹھایا وہیں دل سے ایک دعا بھی نکلی کہ کاش محبت کی آگہی اورامن کا نروان اس دھرتی پربسنے والوں کے دلوں میں بھی اسی طرح دھیرے دھیرے اُتر جائے۔کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے ہم نے خود پر اُترنے والی ہر آگہی ،نروان اور شعور کا دروازہ مقفل کر لیا ہے اور اس کی کُنجی کہیں ہوا میں اچھال دی ہے جو اب ان تلخ حالات کی دھند میں کہیں کھو گئی ہے۔ ہمارے دلوں پر برسنے والی ہماری محبتوں کی گرمجوشیاں دسمبر کی بارشوں کی مانند ہم سے روٹھ گئی ہیں ، یا شاید ہمارے سرد رویوں نے ہمارے احساسات کوبھی منجمد کر دیا ہے۔ذرا دیکھئے تو کہیں اندر اور باہر کا موسم ایک ہی نقطے پر تو نہیں ٹھہر گیا اور اگر سچ مچ ایسا ہی ہے تو سوچئے کہ آگہی کا وہ کونسا دریچہ ہے جو شعور و ادراک کی شمع جلا کر ہماری سرد مہری اور بے حسی کو پگھلا سکے گا؟

 حال ہی میں پڑھی گئی چیخوف کی ایک شہرہ آفاق کہانی \”The Bet\”(1889) جس کا ترجمہ منور آکاش نے” شرط“ کے نام سے کیا ہے، ذہن کے کسی دریچے پر دستک دیتی ہے۔ اگرچہ یہ کہانی پرانی ہے تاہم اہلِ نظر کے لیے اس میں اب بھی بہت کچھ نیا ہے۔کہانی کا آغاز ایک امیر بینکر اور وکیل کی ایک دعوت میںکی گئی بحث سے ہوتا ہے کہ پھانسی کی سزا چونکہ غیر اخلا قی ہے ، لہٰذا اسے تاحیات قید سے بدل دیا جائے۔ بینکر پھانسی کے حق میں دلیل پیش کرتا ہے کہ تاحیات قید سسک سسک کر مرنا ہے ،جس سے کہیں بہتر لمحے بھر کی پھانسی کی موت ہے۔

جبکہ وکیل اپنے موقف پر کچھ ایسے بضد تھا:\"chekhov\"

”دونوں ہی طریقے غیر اخلاقی ہیں۔ ریاست خدا تو نہیں ہے، ایسی چیز چھین لینے کا اُسے کوئی حق نہیں، جسے اگر وہ چاہے بھی تو واپس نہ دے سکے۔۔اگر مجھے کبھی دونوں میں سے ایک کو چننے کا موقع ملے تو میں دوسری کو بغیر تامل کے پسند کروں گا۔ کسی بھی طور زندہ رہنا مر جانے سے بہتر ہے۔“

وکیل کی اِسی بات کو بنیاد بنا کر کر بینکر نے اُس سے بیس لاکھ کے عوض پندرہ سال قید کی ایک تلخ شرط لگائی ۔ جسے وکیل نے اُس وقت گرمجوشی میں قبول کر لیا۔تب کڑی شرائط سے مزین ایک معاہدہ تحریر کیا گیا، جس کی خلاف ورزی یا مقرہ وقت سے دو منٹ بھی پہلے نکلنے کی صورت میں وکیل کی بیس لاکھ سے دست برداری طے پائی۔بینکر کے باغ کے ایک کونے میںبنے چھوٹے سے کمرے میں، انتہائی سخت نگرانی میں وکیل کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔اُس کا باہر کے لوگو ں سے کلام ممنوع تھا ہاں البتہ اُسے موسیقی کا کوئی آلہ رکھنے، شراب، تمباکوپینے اور کتب پڑھنے کی رعایت دی گئی جو وہ ایک پرچی پر لکھ کر منگوا سکتا تھا ۔

”قید کے پہلے سال وکیل تنہائی اور بیکاری کی وجہ سے سخت تکلیف میں رہا۔ جیسا کہ اُس کی مختلف پرچیوں سے ظاہر ہوتا تھا۔۔اُس نے شراب اور تمباکو سے انکار کر دیا۔ شراب خواہشات کو اُکساتی ہے اور خواہشات ہی ایک قیدی کی سب سے بڑی دشمن ہیں۔۔ پہلے سال میں وکیل نے ہلکے پھلکے موضوعات پر کتابیں پڑھیں۔ مثلاََ عشقیہ ناول، جاسوسی افسانے اور مزاحیہ کہانیاں اُس کو بھیجی گئیں۔۔ دوسرے سال اُس نے صرف مستند موضوعات پر کتب پڑھیں۔۔وہ لوگ جو اُس کی دیکھ بھال اور نگرانی کرتے تھے انھوں نے بتایا کہ۔۔وہ اکثر غصے میں اپنے آپ سے باتیں کیا کرتا تھا۔ رات کو اکثر بیٹھ کر لکھا کرتا اور بہت دیر تک لکھتا رہتا ۔ لیکن صبح ہوتے ہی اُسے پھاڑ ڈالتا۔کئی مرتبہ اُسے روتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔۔چھٹے سال کے نصف آخر میں قیدی نے بڑے شوق سے فلسفہ اور تاریخ کا مطالعہ شروع کر دیا ۔ اُس نے ان مضامین کو اتنے شوق اور تیزی سے پڑھنا شروع کیا کہ بینکر کے لیے اُس کی ضرورت کے مطابق کتب مہیا کرنا مشکل ہو گیا۔ چار سال کے عرصے میں اُس کی درخواست پر چھ سو کتب خریدی گئیں۔۔مطالعہ وہ کچھ اس طرح کرتا تھا جیسے وہ ایک سمندر میں ڈوب رہا ہو اور اپنی جان بچانے کی خواہش میں کبھی ایک تنکے اور کبھی دوسرے تنکے کا سہارا لے رہا ہو۔“\"anton-chekhov1\"

وقت گزرتا گیا ۔ اس دوران بینکر کے حالات نے پلٹا کھایا اب وہ رئیس سے ایک مقروض بینکر رہ گیا ۔ شرط مکمل ہونے کا وقت قریب آیا تو اُس کی جان پر بن آئی۔مستقبل میں پیش آنے والی ممکنہ بے عزتی سے بچنے کی خاطر اُس نے وکیل کے قتل کا ارداہ کیا، اور جب اس ارادے کی تکمیل میں وہ چپکے سے قید خانے تک پہنچا تو یہ دیکھ کر اُسے سخت ندامت ہوئی کہ اُس کی شرط کی بھینٹ چڑھنے والا نوجوان اپنی عمر سے قبل ہی بوڑھا ہو چکا تھا، وہ گھٹنوں پر سر دھرے بیٹھا تھا،پاس ہی کاغذ پر ایک تحریر لکھی تھی جسے اُس نے تجسس میں پڑھ ڈالا۔

”پندرہ سال تک میںنے دنیا اور زندگی پر غور کیا ۔یہ حقیقت اپنی جگہ کہ نہ دنیا دیکھی نہ ہی لوگوں سے ملا۔میں نے تمہاری کتابوں سے  شراب کشید کی اور گیت گائے۔۔ میں نے خوبصورت شیطانی روحوں کے پر چھوئے جو اُڑتی ہوئی مجھے خدا کے بارے میں بتانے کے لیے آتی تھیں۔ میں نے ان کتابوں کے ذریعے گہرائیوں میں غوطے لگائے، میں نے شہروں کو جل کر راکھ ہوتے ۔۔نئے مذاہب کو ایجاد ہوتے دیکھا ۔۔ انسانی تاریخ کے وہ تمام خیالات جوکئی صدیوں کی پیداوار تھے سکڑ کر میری چھوٹی سی کھوپڑی میں سما گئے ہیں۔۔میں دنیا کی تمام نعمتوں ، دانش کی سب باتوں سے نفرت کرتا ہوں کہ ہر چیز ایک شعبدے کی طرح کھوکھلی، عارضی اور دھوکے پر مبنی ہے۔۔موت تم سب کو چوہوں کی طرح ناپید کر دے گی۔۔تم جھوٹ کو سچ سمجھے ہو اور بد صورتی کو خوبصورتی۔۔ تم حیران ہو جاﺅ اگر سیب اور نارنگی کے درخت پر پھلوں کی بجائے مینڈک اور چھپکلیاں پیدا ہونے لگیں اور اگر گلاب کے پھولوں سے گھوڑے کے پسینے کی بو آئے۔۔ اپنی نفرت کے اظہار کا عملی ثبوت دینے کے لیے میں تمہارے اُن بیس لاکھ سے دست بردار ہوتا ہوں۔۔ میں مقررہ وقت سے پانچ منٹ قبل یہاں سے چلا جاﺅں گا اورمعاہدے کی خلاف ورزی کروںگا۔“

ندامت اور شرمندگی نے بوڑھے بینکر کو رات بھر سونے نہ دیا۔ اگلی صبح چوکیدار نے اسے اطلاع دی کہ شرط کی مدت پوری ہونے سے \"a3681-1\"کچھ دیر قبل اُس نے قیدی کو مقفل کھڑکی سے نکلتے اور باغ کے پھاٹک کی طرف جا کر غائب ہوتے دیکھا۔

کہانی کا یہ نا مانوس اختتام جہاں قاری کے سامنے کئی تلخ سوال کھڑے کرتا ہے ، وہیں آگہی کا ایک در بھی کھولتا ہے۔کہانی کی ابتدائی بحث کو کسی بھی طور نظر انداز کرنا نا ممکن ہے۔خاص طور پر یہ کہ کیا ریاست کو وہ تمام فیصلے لینے کا اختیار ہونا چاہیے، جن کے غلط ثابت ہونے پر وہ کوئی ازالہ بھی پیش نہ کر سکے؟ کیا ریاست کی تشکیل دی گئی حکومت اور اس کے اداروں کی نا اہلی کا خمیازہ بھگتنے کے لیے عوام ہمہ وقت ہاتھ باندھے حاضر رہیں؟ کیا غفلتوں کی بھینٹ چڑھنے والوں کو شہادتوں کے تاج پہنا کر رضائے الٰہی کے نام سے قبروں میں اتار دیا جانا ہی ہم سب کا قومی اور ریاستی فرض ٹھہرا ؟

بڑی عجیب سی بات ہے کہ ایک ایسی ریاست جس میں فیصلہ دینے اور لینے کے معاملے میں ہر شخص خود کفیل ہو، جہاں دانائی اور فہم کی بہتات اس حد تک ہو کہ دنیا میں کسی کے آنے سے لے کر اُس کے جانے تک ، اس کے جنتی سے لے کر جہنمی ہونے تک ، کفر کے فتووں سے لے کر خواب کی بشارتوں تک ہر شخص دوسرے کی ذاتیات تک اترنا جانتا ہو۔ جہاں شدت پسندی عدل، عدلیہ اور عدالتوں کونظر انداز کرتے ہوئے ہر شخص خود منصف بن بیٹھے اور اپنے من چاہے فیصلے صادر کرتے وقت پھانسی سے بھی زیادہ اذیت ناک سزا کا متمنی ہو،جہاں مذہب مسمارکیے جائیں اور عبادت گاہیں نفرت کی آگ سے بھڑک اُٹھیں ،وہاں ریاست، عوام اورانکے بنیادی حقو ق جیسے بلند آہنگ نعرے پست قامت دکھائی دیتے ہیں۔

کہانی کا دوسرا سوال بھی اپنے طور پرایک بڑی فکر کا حامل ہے کہ کیا انسانی سماج کے اخلاقی زوال کاآغاز محض لالچ اور ہوس سے طے \"olga-chekhova-18\"پایا ہے؟ یا اُن نعمتوں کی نظر اندازی سے جن کا وہ ہوتے ہوئے بھی انکاری ہے؟ ہم حرص و ہوس کے مارے ہوئے لوگ ہر چیز کا اثبات محض روپے پیسے سے تعبیر کرتے ہیںاور ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور نعمتوں کو بھلا دیتے ہیں جنھیں صرف دیکھنے کی آرزو میں ہیلن کیلر جیسی خاتون بصارت کے تین دن کی التجا کرتی ہے ۔ ہم بصیرتوں سے عاری لوگ اپنے جیسے انسانوں کی پرکھ بھی پیسے سے کرتے ہیں اور اس کی پامالی بھی۔ ہمارا دین ، دھرم، دنیا سب محض اِک دکھاوا ٹھہرا۔

کہانی کا تیسرا اوراہم سوال اُسی آگہی سے متعلق ہے جس کی تلاش میں ہم یہاںتک آئے۔یہ سوال اب ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ بحیثیت ایک قوم ہم نے کتاب سازی سے لے کر کتاب سوزی تک کے عمل میں خود اپنا مقام کہاں متعین کیا؟ ہم نے مقدس کتابوں سے آگہی لینے کی بجائے آگ ہی کیوں لی؟ ہم نے گیان و نروان بانٹنے والی کتابوں کو آہنی اور دیدہ زیب الماریوں کے گرد پوش خانوں میں مقفل کر ڈالااور عقل و شعور کی تمام راہیں خود اپنے ہاتھوں بند کر ڈالیں۔ یہ ظلم ہم نے صرف اپنے آپ پر ہی نہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ بھی کیا۔ شاید اسی لیے ہمارے دل سخت اور رویے سرد ہوگئے اور آج ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا آنے والے وقت میںباہمی نفرتوں تلے دفن ہمارے بانجھ خیالات آگہی اور سچ کامزید بوجھ سہار پائیں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *