دوسروں کے ایمان کا فیصلہ کرنے والے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اٹھو! نماز پڑھو۔ نماز دین کی کنجی ہے۔ نماز پڑھو گے تو جنت میں جاؤ گے ورنہ تم پر اللہ کا عذاب آئے گا۔

یہ نماز پڑھنے کی تلقین، جنت میں جانے کی نوید اور عذاب عظیم کے قصے ہم میں سے ہر شخص بچپن سے اپنے بڑوں سے سنتا آ رہا اوربڑوں نے اپنے بڑوں سے سنے ہوں گے اور انہوں نے اپنے بڑوں سے۔ پتہ نہیں کب سے یہ سلسلہ چلا آ رہا شاید ازل سے۔

آپ غلط سمجھے یہاں ہم نماز کی تلقین کی بات نہیں کر رہے صرف سنی سنائی پہ یقین رکھنے کی بات کر رہے ہیں۔ کیونکہ تحقیق کرنے کی عادت ہم میں کبھی رہی ہی نہیں شایدہمارے بڑوں میں بھی نہیں تھی اور ان کے بڑوں میں بھی۔ ورنہ ہماری تربیت کا حصہ ضرور ہوتی۔

نتیجتاً ہم ایک اچھے نمازی تو کیا بنتے ہم ایک بہتر انسان بھی نہ بن سکے۔ ہمیں دین میں داخل ہونے کی کنجی تو پالنے میں ہی کسی سلطنت کے دروازے کی چابیوں کی طرح تھما دی گئی کہ لو بھئی تم ہی اصل وارث ہو اب تم ہی سنبھالو۔ کچھ سے تو یہ بچپن میں ہی کھو گئی اور کچھ سے جوانی میں اور چند جو دروازے سے داخل ہو گئے انہیں اس سلطنت میں رہنے کے اسرارورموز اور طریق کارہی نہیں پتہ اور سو نے پہ سہاگہ یہ کہ ان میں سے بہت سے اس گمان میں مبتلا ہیں کہ کنجی ان کے ہاتھ میں ہے اس لئے سلطنت بھی ان کی اور اس کو تخلیق کرنے والا۔

ان میں سے بیشتر تو خالق کے اختیارات بھی اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش میں ہیں۔ انہوں نے آدھے ادھورے سچ اور سنی سنائی باتوں کو بنیاد بنا کر گھر گھر، گلی گلی میدان حشر لگا رکھا ہے اور خلق خدا کے نامۂ اعمال کو ترازو پہ رکھے زندگی و موت، جنت و جہنم کے فیصلے کرتے نظرآتے ہیں۔ کمزور مخلوق کے اعمال کے پلڑے کے مدمقابل ان کی طاقت، برتری اور عداوت کا پلڑا ہے جوہمیشہ سے بھاری ہے

یہ برتری کے نشے میں ڈوبے انسان جو شاید انسان کہلانے کے لائق نہیں کسی بھی ہم مذہب یا غیر مذہب کو کافر کہہ کر مار دیتے ہیں ایسے جیسے خالق نے روح قبض کرنے کا اختیار انہیں دے رکھا ہو یا مذہب ذاتی دشمنیاں نبھانے کی چیز ہو یا پھرکائنات کو صرف انہی کے نفس کو مطمئن کرنے کے لئے ہی تخلیق کیا گیا ہو۔ اور پھر یہ صرف اسی پہ اکتفا نہیں کرتے انہوں نے اپنی طاقت کے زعم میں اس دنیا کو کمزور کے لئے جہنم بنا رکھا ہے اصل جہنم کے تو کچھ قواعد و ضوابط ہیں درجات ہیں جب کہ ان کی بنائی دنیاوی جہنم میں ایک ہی قانون لاگو ہے جس سے بھی اختلاف رائے ہو اسے بس کاٹ دو، ماردو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •