ہم کس کس کا استحصال کر رہے ہیں؟

کل ایک جاننے والے کہنے لگے اللہ کا بہت کرم ہے ہم نے کبھی کسی کا استحصال نہیں کیا۔ کچھ ہی دیر میں شہر میں بڑھتی ہوئی دھول مٹی کا ذکر ہونے لگا تو بڑے فخر سے بتانے لگے کہ میں تو اپنی گاڑی روز دھلواتا ہوں۔ ان کے جانے کے بعد ایک ٹاک شو نظروں سے گزرا جہاں اینکر پرسن تھر اور بلوچستان میں پانی کی کمی، پچھلی حکومت کی نا اہلی اور دیہاڑی دار طبقے کے استحصال کی

Read more

گرین کارڈ ایک آلۂ قتل بھی ہے

ہمارے بچپن میں ہمارے والد صاحب کے پاس ایک ریوالور ہوا کرتا تھا جو انہیں ہمارے دادا سے وراثت میں ملا تھا۔ والد صاحب ہم بچوں کو کبھی بھی اسے چھونے نہیں دیتے تھے۔ ہمارے استفسار پر ہمیشہ کہتے کہ یہ ایک آلۂ قتل ہے اس کو چھونا تم بچوں کے لیے نقصان دہ ہے لیکن یہ وقت پڑنے پر چور اچکوں، ڈاکوؤں اور دشمنوں سے ہماری حفاظت کرے گا۔ کچھ عرصہ قبل جب ہمیں امریکن گرین کارڈ ملا تو

Read more

ہم حالت غم میں ہیں

یہ تحریر نہیں، نوحہ ہے۔ ہمارے روزمرہ کے غیر انسانی رویوں کا، ہماری انتہا پسندی کا، طاقت ور کی طاقت کے زعم کا، کمزور کیے بسی کا اور سب سے بڑھ کے اس قوم کی بے حسی کا۔ آپ کا تعلق چاہے کسی بھی مکتبۂ فکر سے ہے آپ امیر ہیں یا غریب، آپ آزاد خیال ہیں یا قدامت پسند، آپ مذہبی ہیں یا غیر مذہبی۔ آپ جو کوئی بھی ہیں خدا راہ صرف چند لمحوں کے لیے بھی خاموشی

Read more

زبردستی کی مختلف شکلیں

ہمارے ہاں پچھلے کچھ عرصے سے زبردستی کا لفظ اس قدر زبان زد عام ہے کہ اب اجنبیت نہیں رہی۔ جہاں کہیں بھی اس کا ذکر ہو تو یہ مانوس مانوس سا لگتا ہے، چاہے وہ ذرائع ابلاغ ہوں یا روزمرہ کی گفتگو۔ ایسا محسوس ہوتا جیسے ہمارا اور اس لفظ کا جنم جنم کا ساتھ ہے۔ لیکن رکیے! آپ زبردستی کو صرف ایک لفظ مت گردانیے ، یہ ایک رویہ ہے جو صدیوں سے ہمارے ہاں پنپ رہا ہے

Read more

اقبال سے محبت کرنے والے مالی اور گفتار کے غازی

سننے میں آیا ہے کہ اقبال کے شاہین جو پچھلے کچھ عرصے سے فکری سکوت اور ذہنی جمود کا شکار تھے آج کل محو پرواز ہیں لیکن افسوس کہ ان کی پرواز آسماں کی بجائے سماجی رابطے کے ذرائع فیس بک اور ٹویٹر تک محدود ہے۔ ہم ان کی خودداری، وسعت نظر اور غیرت مندی سے آشنا تو نہیں لیکن یہ تنقیدنگاری میں اپنی مثال آپ ہیں کردار کا تو معلوم نہیں گفتار کے غازی ضرور ہیں اس لیے آئے

Read more

دوسروں کے ایمان کا فیصلہ کرنے والے

اٹھو! نماز پڑھو۔ نماز دین کی کنجی ہے۔ نماز پڑھو گے تو جنت میں جاؤ گے ورنہ تم پر اللہ کا عذاب آئے گا۔ یہ نماز پڑھنے کی تلقین، جنت میں جانے کی نوید اور عذاب عظیم کے قصے ہم میں سے ہر شخص بچپن سے اپنے بڑوں سے سنتا آ رہا اوربڑوں نے اپنے بڑوں سے سنے ہوں گے اور انہوں نے اپنے بڑوں سے۔ پتہ نہیں کب سے یہ سلسلہ چلا آ رہا شاید ازل سے۔ آپ غلط

Read more

میں جو سچ کہوں

تم جانتے ہو کیا دنیا میں بہت سے خوبصورت لوگ بھی ہیں اس قدر خوبصورت کہ ہم جیسے لوگ جو ساری زندگی حسن کو پیروں کی دھول سمجھتے آئے ان کی نگاہیں بھی چند لمحوں کے لیے انہیں داد دینے کے لیے رک جاتیں اور سوچنے پہ مجبور ہو جاتیں کہ کیسا حسن ہے یہ۔ شاید حسن یوسف

Read more

گڑوی والوں کا محلہ

آئیے آج ہم شہر لاہور کی رونقوں، اشتہا انگیز کھانوں اور پکی سڑکوں کے جال سے کچھ پرے دریائے راوی کے اس پار نظر ڈالتے ہیں۔ ان تصویروں کو دیکھ کر اگر آپ یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ شاید ہم آپ کو آج ایک کچراکنڈی سے متعارف کروانے جا رہے ہیں تو آپ صحیح پہچانے یہ علاقہ کچرا کنڈی ہی تو ہے۔ کیوں کہ ہمارے معاشرے میں طاقت کی اونچی مسندوں پہ بیٹھے ہوئے شرفاء اور نام نہاد ملا اس جگہ کے باسیوں کو معا شرے کا کچرا ہی تصور کرتے ہیں یا پھر کچرے پہ بھنبھناتی ہوئی مکھیاں۔

Read more