خواب ادھورے ہیں تو دوبارہ سو جائیں


ہمارے ایک بہت ہی پیارے دوست نے مذاق مذاق میں ایسی بات کہ دی کہ ہمیں زندگی کا فلسفہ ہی سمجھا گئی۔ یار من نے کہا کہ ادھورے خوب پورے کرنے کے لئے پھر سو جائیں۔ یہ جملہ سنتے ہی جیسے ہمارے سارے طبق روشن ہو گئے ہمیں اس مملکت خداداد میں بلکہ اس دنیا میں رہنے کا جیسے گر سمجھ میں آ گیا۔ پر سکوں زندگی گزارنے کا طریقہ آ گیا۔ کرونا کے دنوں میں بڑے رات کو نصیحت کرتے ہیں کہ سو جاؤ، سو جاؤ صبح اٹھ کے پھر سونا ہے۔ اسی سونے سے ہی یہ سونے جیسا اصول اخذ ہو گیا۔ اگر کرونا ختم بھی ہو گیا یا ہو جائے تو ہمارے لئے یہی ایک راہ نجات ہے یہی ایک روش ہے جس پر ہم خراماں خراماں چمن دیکھ سکتے ہیں۔

ہم غریبوں کے لئے یہ ہی ایک راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے من کی دنیا میں ڈوب کر سراغ زندگی پا سکتے ہیں۔ اپنی متعین راہ حیات کا حصول ممکن بنا سکتے ہیں۔ ، یہی خواب غفلت ہی تو ہماری متاع حیات ہے۔ ہمیں اب وہ خواب غفلت سے بیدار کرنے اور ہونے والے فقرات تک اچھے نہیں لگتے۔ اچھے بھلے سکون کو خراب کرنے کی کوشش!

ویسے اس وقت تو ایسا کوئی بھی مائی کا لعل نہیں جو ہمیں جگا سکے اور ایسا کوئی کرے بھی کیونکر؟ سارے اسی سعی پیہم میں لگے ہیں اور کامیاب بھی ہیں کہ ہمیں پر سکوں نیند مہیا کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس انسان کو بھوک لگے اور سکون کی نیند آئے اسے بھلا اور کیا چاہیے؟

جو بھی کوئی اس بیچارے انسان کو گہری نیند سے جگا نا چاہے گا وہ آخر اس مٹی کے پتلے سے کروانا کیا چاہتا ہو گا؟ یہ نیند ہی ہے جو جاگتے کی ہو یا سوتے وقت کی جو اسے بہت ساری ذلتوں، دکھوں، اندیشوں، فکروں اور سب سے بڑھ کراپنی اور اپنوں کی زبوں حالی سے چشم پوشی کا سامان مہیا کر سکتی ہے۔ یہی خواب خرگوش ہی اس کا واحد مخلص ساتھی ہے جو اسے مسلسل سکوں مہیا کرتی ہے۔ کیونکہ یہ غفلت کی نیند اس پکی پکی نیند سے کئی درجے بہتر ہے جو کہ آنکھ کھلنے کی وجہ سے آ سکتی ہے۔ اور ویسے بھی ہم اور آپ اس جھوٹ کے دور میں سچ کیسے وا گزار کروا سکتے ہیں ان ناجائز قابضین سے جنہوں نے جھوٹ کو ہی زندگی کی سب سے بڑی سچائی سمجھ رکھا ہے۔

اس نیند کی وجہ سے ہی ہم اتنی سکون بھری زندگی گزار رہے ہیں۔ ہمارے سارے ارمان پورے ہو رہے ہیں۔ یہ نیند ہمارے لئے سونا نہیں بلکہ سونا ہے۔ اس کی بدولت ہی ہم اپنے ادھورے خواب پایہ تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔ ہم سو کر ہی اپنا مقصد حیات پا سکتے ہیں اور پا رہے ہیں جاگتے ہوئے تو ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی نوکری کبھی گھر کبھی فلاحی ریاست کی خواہش اور کبھی مساوات اور انصاف کا بول بالا یاد آنے لگتا ہے۔ علاوہ از ایں

میرٹ آڑے آ جاتا ہے جس کے لئے محنت بھی کرنا ہو گی۔ تبھی تو آنکھ کھلتے ہی ہمیں چھلیڈے اور چھلاوے نظر آنے لگتے ہیں ہمیں گھبراہٹ ہونے لگتی ہے اور ہماری چیخیں نکلوا دیتے ہیں اس لئے ہم حسب روایت طبیعت کی بحالی کے لئے پھر سو جاتے ہیں۔ ہماری بہتری اور بھلائی اسی میں ہے کہ ہم سوئے رہیں اور جو بھی ادھورے خواب ہیں ان کی تکمیل کرتے رہیں۔ ابتدائے آفرینش سے حضرت انسان کا یہی چلن ہے، یہی ساری سیاست ہے یہی حکمرانی کا انوکھا فلسفہ بھی ہے کہ سوتے ہوؤں کو سوتے رہنے دیں۔ نہ جگائیں ورنہ ان کے خواب ادھورے رہ جائیں گے۔

Facebook Comments HS