امریکی سپریم کورٹ نے تین مسلمانوں کو ایف بی آئی ایجنٹوں پر مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دے دی
مذہبی آزادی کے حامی قدامت پسند جج کلیرنس تھامس نے اکثریتی رائے کا فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ افراد مذہبی آزادی سے متعلق سن 1993 کے قانون کے تحت اپنی نجی حیثیت میں ایجنٹوں کے خلاف مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔
جسٹس تھامس نے گیارہ صفحات پر مبنی فیصلے میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی آزادیوں کا قانون فریقِ مقدمہ کو اجازت دیتا ہے کہ وہ نجی حیثیت میں وفاقی اہلکاروں کے خلاف زر تلافی کا مقدمہ دائر کر سکتا ہے۔
شہری حقوق کے لیے وکالت کرنے والے مسلمان امریکیوں نے اس فیصلے کو سراہا ہے۔
کونسل آف امیریکن اسلامک ریلیشنز نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ آج امریکی مسلمانوں اور تمام عقائد پر ایمان رکھنے والوں کے لیے یوم فتح ہے۔
Congratulations to @CUNY_CLEAR! Today's unanimous #SCOTUS decision is a victory for American Muslims and all people of faith. We can, should and must continue to hold government agents fully responsible for engaging in religious discrimination. #RFRA #SCOTUS https://t.co/XbfekFCZvB
— CAIR National (@CAIRNational) December 10, 2020
کونسل کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو سرکاری ایجنٹوں کو مذہبی امتیاز کے خلاف جوابدہ ٹھہرانے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئیے۔
ایف بی آئی نے فوری طور پر اس فیصلے پر کوئی بیان دینے سے گریز کیا ہے۔
محمد تنویر، جمیل علیباہ اور نوید شنواری نے ایف بی آئی سمیت ہوم لینڈ سیکیورٹی کے 25 ایجنٹوں کے خلاف سن 2014 میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان تین مسلمان مردوں نے اپنے دعوے میں کہا تھا کہ انہیں ملک سے باہر پرواز کرنے کی ممانعت کر دی گئی تھی کیونکہ انہوں نے ایف بی آئی کے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ اپنی مذہبی برادریوں پر نظر رکھیں اور ان کی جاسوسی کریں۔


