زندگی اور موت سے جڑی بدنظمی!


حال ہی میں خیبر ٹیچنگ ہاسپیٹل پشاور کے آئی سی یو وارڈ میں آکسیجن کی کمی سے ہونے والی اموات نے دل غم سے بھر دیا۔ ایک صوبائی دارالحکومت کے بڑے ہسپتال میں حکومت کی ناک کے عین نیچے ہونے والے اس دلخراش سانحہ نے جہاں ذمہ داران کی نا اہلی اور بے حسی کا بھانڈا پھوڑا وہیں انسانی زندگی اور موت سے جڑے انتہائی اہم مقام پر پیشہ ورانہ بدنظمی کا ایک بدترین ثبوت بھی فراہم کیا۔ وطن عزیز میں ایسے کتنے ہی واقعات ہو چکے ہیں جن میں انتہائی واضح پیشہ ورانہ بدنظمی نے جیتے جاگتے انسانوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیا۔ ہر واقعے کے بعد ارباب اختیار کے آئندہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہونے دینے کے مصنوعی عزم اور کھوکھلے دعوے اگلے ایسے ہی کسی دلخراش واقعے سے ملیامیٹ ہو جاتے ہیں۔

جس طرح کنویں میں گرا ہوا کتا نکالنے کے بجائے پانی کے ڈول بھر بھر کر باہر بہا دینے سے نجاست ختم نہیں ہوتی اسی طرح موت اور زندگی سے جڑے اداروں کی رگوں میں بھری بے حسی، نا اہلی اور بدنظمی کو ختم کیے بغیر ان اداروں کی کارکردگی بہتر نہیں ہو سکتی۔ ایک جدید اور منظم معاشرے میں کوئی واقعہ جہاں ایک دلخراش حادثہ کو جنم دیتا ہے وہیں یہ اہلیت، نظم اور سائنسی انداز فکر کے امتزاج سے آئندہ ایسے تمام ممکنہ حادثات کی روک تھام کے لیے ایک بے مثل موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

انسانی زندگی کے تقدس کو ہر چیز سے اہم سمجھنے والے معاشروں میں ایسے کسی بھی واقعے کی جزئیات تک کا جائزہ لے کر مستقبل میں ایسے سانحات سے بچنے کا فول پروف انتظام کیا جاتا ہے۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے معاشروں میں وقوع پذیر ہوا کوئی برسوں پرانا سانحہ ایسے نئے سانحات میں ہونے والے ممکنہ نقصانات سے بچاتا ہے۔

یوں تو ہماری بدنظمی اور بے حسی زندگی کے تمام شعبوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے لیکن زندگی اور موت کے انتہائی اہم فیصلوں کی آماجگاہ یعنی ہسپتال اس کی بدترین مثال ہیں۔ کسی بھی سرکاری اور اکثر نجی ہسپتالوں میں بدنظمی اور بے حسی کے ایسے مظاہر جا بجا نظر آتے ہیں۔ کچھ ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ قابلیت کے جزیرے ایڈمنسٹریشن کے بدبودار، بے ہنگم اور بے ترتیب گندے جوہڑوں میں تیرتے نظر آتے ہیں۔ معاشرے میں رائج ہو چکے دباؤ کے مختلف موثر حربے ذمہ داران کو کسی حادثے کے نتیجے میں ہونے والی ایسی کسی بھی تادیبی کارروائی سے بچ نکلنے کے ان گنت مواقع فراہم کرتے ہیں۔ نتیجتاً کسی دلخراش حادثے کے ذمہ داران کا نہ تو قطعی تعین کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان کو گرفت میں لایا جاسکتا ہے۔ یوں ان حادثات کا ایک شیطانی چکر چلتا رہتا ہے۔

ہمارے جیسے نمائش کے عادی معاشرے میں سیاسی حکومتوں کی اپنے حامیوں کو نوازنے اور ووٹروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی مجبوریاں اداروں کے نظم میں کسی جوہری اچھائی کو نہ صرف وقوع پذیر ہونے سے روکتی ہیں بلکہ بدنظمی، ‏نا اہلیت اور بے حسی کو مزید فروغ دیتی ہیں۔ آئے دن ذرائع ابلاغ میں نا اہل اور غیر موزوں افراد کا انتہائی حساس عہدوں پر تقرر اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتیں انسانی زندگی کے تقدس کے بجائے اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ میں زیادہ سنجیدہ ہیں۔ ایسے حالات میں اسپتالوں میں ایک سائنسی طور پر مربوط بندوبستی نظام جس میں زندگی اور موت سے جڑے فیصلوں کی حساسیت کو مدنظر رکھا جاتا ہو اور ممکنہ حادثات اور ان کے بچاؤ پر دھیان دیا جاتا ہو، کی امید رکھنا ایک دیوانے کا خواب ہی نظر آتا ہے۔

Facebook Comments HS