اپوزیشن کی ترجیحات میں کورونا کی تباہ کاریاں شامل نہیں


قائد اعظم کا فرمان ہے ”مسلمان نوجوانو! اس امر کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھو کہ آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کی باگ ڈور کل آپ کے ہاتھ میں ہو گی۔ کیا آپ صاحبان نے اپنے آپ کو اس جانشینی کے لیے تیار کر لیا ہے؟ کیا آپ نے ایسی تربیت اور ایسا نظم حاصل کر لیا ہے کہ اس عظیم ذمہ داری کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکیں؟ اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آج ہی اس کی ابتدا کر دیں۔ ایسا کرنے کا وقت اب ہے خدائے تعالی آپ کو کامیاب کرے“ ۔

آج ضرورت ہے کہ پاکستانی قوم اپنے محبوب قائد کے اس فرمان کو ذہن میں رکھ کر سوچے کہ موجودہ ملکی حالات کی پکار کیا کہتی ہے؟ کورونا کی للکار کیا کہتی ہے؟ اپوزیشن کی پھنکار کیا کہتی ہے؟ این آر او کی جھنکار کیا کہتی ہے؟ اب پاکستانیوں کو بتانا ہوگا کہ کیا ہم دوستوں اور دشمنوں کی پہچان رکھتے ہیں؟ کیا ہم کھوٹے اور کھرے کے فرق کو سمجھتے ہیں؟ کیا ہم سفید اور سیاہ کو الگ کر سکتے ہیں؟ یاد رکھیں! تربیت مکمل ہوتی ہے یا نامکمل ہوتی ہے، درمیان میں کچھ نہیں ہوتا۔

اگر ہم غیر تربیت یافتہ رہے اور ماضی کی طرح اپنے ناخداؤں کے غلط فیصلوں کو ہی اکسیر سمجھتے رہے تو پھر اللہ ہی ہمارا حافظ ہو گا کیونکہ ہماری سیاسی اور مذہبی قیادت تو پہلے ہی اپنے اعمال کے ذریعے سے گویا اپنی متاع زندگی کو لٹا چکی ہے بلکہ یوں کہیے کہ انھوں نے سرے سے مقصد حیات و زیست ہی کو لٹا دیا ہے۔ انہوں نے دنیا کو اپنے وجود کا احساس کیا دلانا تھا وہ تو خود بھی اپنے وجود کی افادیت کو محسوس نہ کر سکے۔

یاد رکھیں! جن لوگوں نے اپنے آپ کو دنیا کی لذتوں کا شکار بنایا اور اپنے مقصد حیات سے لا علم رہے تو کیا آپ جانتے ہیں کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا؟ دنیا والوں کے لیے عبرت ناک اور سبق آموز واقعات سے تاریخ کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو عقل و شعور رکھتے ہوئے بھی دھوکے کی دنیا میں انجان بنے بیٹھے رہے مگر اب یہ ہمارا فرض ہے کہ اپنی آواز بلند کریں اور موجودہ اشرافیہ اور شہنشاہیت والے سیاسی نظام کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکیں۔

ہماری اپوزیشن اس وقت اپنی سیاسی زندگی کے آخری سانس لے رہی ہے کیونکہ ان کا بیانیہ عوام نے مسترد کر دیا ہے اور اس سبب ان کے جلسے بے رونق ہونے لگے ہیں۔ ملتان کے جلسے میں عوامی شرکت کم ہونے کا اثر ہے کہ اب اپوزیشن کو لاہور کا جلسہ کامیاب کرنے کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں نون لیگ نے مریم صفدر کی سرپرستی میں چھوٹی چھوٹی ریلیاں نکالنے کا پلان بنایا ہے تاکہ عوام کو جلسے سے پہلے متحرک کیا جا سکے۔ جبکہ دوسری طرف ساری دنیا کورونا کے سبب اپنی سرگرمیوں کو محدود کر رہی ہے تاکہ اس کی ہلاکت خیزی کو کم کیا جا سکے۔

عوامی، مذہبی اور سیاسی اجتماعات پر پابندی ہے اور عوام کو مسلسل ایس او پیز پر عمل کرنے کی سختی سے تلقین کی جا رہی ہے۔ تمام حکومتیں اس بیماری سے نپٹنے کے لیے مکمل وسائل کا استعمال کرتے ہوئے بہتری کا راستہ تلاش کر رہی ہیں۔ کورونا کے پہلے دور کے نقصانات کی تلافی ابھی نہ ہو پائی تھی کہ اس بیماری نے پھر سے اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ حملہ کر دیا ہے۔ ہمارا ملک بھی اس وقت اس مرض کا بری طرح سے شکار ہے اموات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

مگر حیرت ہے کہ ہماری اپوزیشن جو کورونا کے پہلے دور میں مکمل لاک ڈاؤن کی حامی تھی اور حکومت وقت کو تنقید کا نشانہ بناتے نہ تھکتی تھی مگر اب عوام کی جانوں سے کھیلنے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ نظر یہ آتا ہے کہ اب نوز شریف کا برطانیہ مزید رہنا مشکل ہے کیونکہ پاکستان کے برطانیہ کی حکومت سے سیاسی اور فوجی رابطے ہو رہے ہیں۔ چنانچہ ان حالات میں اپوزیشن خصوصاً نون لیگ کو مزید صبر کرنا بیکار نظر آتا ہے کیونکہ انتظار کا مطلب ہے کہ سینٹ کے الیکشن میں حکومت کو پلیٹ میں رکھ کر اپنا سر پیش کر دیا جائے۔

اس خودکشی سے بچنے کے لیے اب اپوزیشن نے خود کش حملہ کرنے کا سوچ لیا ہے۔ طبل جنگ بج چکا ہے اور مریم نے کہا ہے کہ آٹھ دسمبر کو بڑا فیصلہ ہوگا اور تیرہ دسمبر کو جلسے میں خوشخبری سنائی جائے گی۔ اگر تقریر میں ذکر نہیں تو کورونا کے روک تھام کا ذکر نہیں اور عوام کی جان کی فکر نہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی اشرافیہ علاج معالجہ کی بہترین سہولت حاصل کر سکتی ہے کیونکہ ان کا رہن سہن، اوڑھنا بچھونا اور کھانا پینا اعلیٰ معیار کا ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف عوام کو نہ خالص خوراک ملتی ہے نہ ادویات نہ پانی نہ دودھ اور نہ صحت مند ماحول۔

افسوس یہ کیسی سیاسی قیادت ہے جو صرف اپنے کیسوں سے بچنے کے لیے عوام کا قتل عام کرنے پر تلی بیٹھی ہے۔ کیا یہ لوگوں کو ذہنی غلام سمجھتے ہیں؟ کیا عوام ان کے ذاتی ملازم ہیں؟ کیا عوام ابھی تک ان کے کرتوتوں سے ناواقف ہیں؟ کیا کورونا سے ہلاکت شہادت ہے؟ کیا عوام بے وقوف ہیں؟ کیا وہ اس بات کو جانتے نہیں کہ خود ان سیاسی رہنماؤں کے پورے خاندان باہر بیٹھے ہیں اور سڑکوں پر ذلیل ہونے کے لیے عوام ہیں؟ لاٹھی کھانے، جیل جانے، بھوک ہڑتال کرنے اور لانگ مارچ کرنے کے لیے عام لوگ جبکہ سرکاری خزانہ لوٹنے کے لیے خاندان کے لوگ۔ سن لو! وقت کے فرعونوں، اب تمہارا دور گزر گیا۔ عوام مزید نا انصافی برداشت نہیں کریں گے اور اب صرف حق کا ساتھ دیں گے چنانچہ لاہور کے لوگوں کا اب فرض ہے کہ وہ اپوزیشن گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دیں۔

Facebook Comments HS