حکومت پھوہڑ عورت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت پاکستان کا حال ایسی پھوہڑ عورت جیسا ہے جو صرف دکھاوے اور ہمسائی کو نیچا دکھانے کے لیے فضول خرچی کر کے گھر کا بجٹ خراب کر بیٹھتی ہے۔ جس کا نتیجہ بد امنی، ذہنی تناؤ اور گھریلو ناچاقی کی صورت میں نکلتا ہے اور پھر ہفتہ وار مینیو میں بریانی کی جگہ ”گزشتہ سبزی ہی چلے گی“ لکھا ہوا ملتا ہے۔ پلستر اکھڑا ہوا، صحن کا بلب لٹکا ہوا پایا جاتا ہے۔ گھر کی خستہ حالیوں کی دہائی دیتی ٹوٹی پر بے دردی سے اینٹ رکھ کر خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ اوپر سے موسمی تبدیلی کسی چھوٹی موٹی بیماری کو گھر کا راستہ دکھا دے تو بگڑا بجٹ انوکھے لاڈلے کی طرح مزید بگڑ جاتا ہے۔

یہی صورت حال حکومت پاکستان کی ہے جو دفاع کا پیٹ بھرنے کے چکر میں بجٹ ڈی۔ شیپ کر بیٹھی ہے جس کا نتیجہ مہنگائی، قرض، کرپشن، نا انصافی، غربت، بیماری، ناقص نظام تعلیم، تذبذب، خودکشی، قتل و غارت، ریپ اور نفسیاتی مسائل کی صورت میں نکل رہا ہے۔ اوپر سے بغاوت کی آگ سے اٹھنے والا دھواں ماحول کو الگ آلودہ کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ تمام مسائل کے باوجود موجودہ حکومت نے امن کا راستہ چنا ہے جس کی مثال کرتار پور راہداری اور ابھی نندن کی امپورٹڈ سوٹ کے ساتھ واپسی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ ایسے میں حکومت سے گزارش ہے کہ امن کے راستے پر تو ہم چل ہی پڑے ہیں تو کیوں نا ایٹمی ہتھیاروں کو نیلام کر دیا جائے ہو سکتا ہے اس سے ہمارا بجٹ مینج ہو جائے قرض بھی ادا ہو جائیں اور عین ممکن ہے غربت میں بھی کچھ کمی آئے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امن کے خواہاں تو ہم ہیں سرحد پار والے نہیں۔ وہ یہ جاننے کے باوجود کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں زور آزمائی کرتے رہتے ہیں۔ اور اگر ہم اس طاقت سے بھی محروم ہو گئے تو وہ ہم پر چڑھ دوڑنے میں ذرا دیر نہیں کریں گے۔ لیکن اگر ہمسائے سچ میں ایسا ہی کریں گے تو یہ ان کی بے وقوفیوں میں ایک اور بڑا اضافہ ہو گا۔ لہذا انڈین حکومت کو بھی چاہیے کہ ٹھنڈے دماغ سے سوچتے ہوئے ہمارے امن کے متعین کردہ راستے کو فالو کرے اور جلدی سے بم بیچ کر خود کو سگھڑ عورتوں کی فہرست میں شامل کرے۔ جی ہاں اس معاملے میں ہم ایک دوسرے کو فالو کر سکتے ہیں۔ جب ہم ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے والی پالیسیوں میں ایک دوسرے کو فالو کر سکتے ہیں تو امن کی خاطر کیوں نہیں۔ ویسے بھی جب ہمارے مسائل ایک سے ہیں تو ان کا حل ایک جیسا کیوں نہیں ہو سکتا؟

ویسے آپس کی بات ہے اگر ہم بم نیلام کرتے ہیں تو ہمیں انڈیا کے مقابلے میں زیادہ فائدہ ہو گا کیونکہ ہمارے بم اسلامی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •