آرمی پبلک سکول کا سانحہ اور میری نظم
پشاور کے وارسک روڈ پر قائم آرمی پبلک سکول پر مسلح شدت پسندوں نے 16 دسمبر 2014 کو حملہ کر کے طلبہ، اساتذہ اور عملے کے ارکان کو نشانہ بنایا تھا۔ اس حملے میں 147 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والا گروپ 27 ارکان پر مشتمل تھا جس کے نو ارکان مارے گئے جبکہ 12 کو گرفتار کیا گیا تھا۔
پاکستانی حکام نے اس واقعے میں ملوث متعدد افراد کو فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلا کر سزا دی ہے تاہم ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کا موقف رہا ہے کہ ان کے بچے ایک چھاؤنی میں قائم فوج کے زیر انتظام سکول میں حصول تعلیم کے لیے گئے تھے وہ جنگ کے محاذ پر نہیں تھے اور یہ کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کی فیس سکول انتظامیہ کو باقاعدگی سے دیتے تھے تو پھر یہ واقعہ کیسے پیش آیا، کس کی ایما پر ہوا اور کس کی غفلت کا نتیجہ تھا؟
والدین کا یہی مطالبہ رہا ہے کہ اس سلسلے میں ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور جن کی غفلت یا لاپرواہی سے یہ حملہ ہوا ہے انھیں سزا دی جائے۔
جس کے بعد اس واقعے پرتحقیقاتی کمیشن سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے 2014 میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے میں مارے جانے والے طلبا اور اساتذہ کے والدین کی درخواست پر 2018 میں قائم کیا تھا۔
کمیشن کی جانب سے اس واقعے میں زخمی ہونے والے بچوں اور مارے جانے والے بچوں کے والدین سمیت 132 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جن میں 101 عام شہری اور 31 سکیورٹی اہلکار اور افسران شامل تھے۔
کمیشن پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد ابراہیم خان پر مشتمل تھا اور اس نے 500 سے زائد صفحات پر مشتمل سانحہ آرمی پبلک سکول کی رپورٹ جولائی 2020 میں چیف جسٹس آف پاکستان کو بھیجی تھی۔
واضح رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے چھ برس قبل پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے سے متعلق تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے عدالتی کمیشن کی رپورٹ عام کرنے کا حکم دیا تھا۔ رپورٹ عام ہونے کے بعد سب نے اس کے محرکات، امکانات، ممکنات اور مضمرات پر پڑھا، سنا اور بولا پر سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران بچوں کے والدیں نے جو موقف اپنایا کہ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ گولیاں کس نے چلائیں لیکن اس واقعے کی ذمہ داروں کو کڑی سزا دینی چائیے، ہمارے بچے تو واپس نہیں آسکتے پر اوروں کے بچے محفوظ ہوسکتے ہیں۔ جس پر اس ناچیز نے بھی کچھ جسارت کی اور تئیس دسمبر دو ہزار چودہ کو اس واقعے پر لکھی ہوئی نظم جو اس وقت سوشل میڈیا پر ہوسٹ کی گئی تھی، کو اپنے اس کالم کا حصہ بنایا جو کہ نذر قارئین ہے۔
ادھوری خوشخبری
———
ایک پر امید ماں نے
تمام کاوشیں سر کر لیں
سارے کورسز پایہ تکمیل تک پہنچائے
سارے ٹیکے اپنے وجود کی رگوں میں خالی کر ڈالیں
اس غرض سے کہ خوش خبری کا مسقبل ادھورا نہ رہے
لیکن اس بدبخت ماں کو کیا معلوم تھا
ادھر ایک ایسی بیماری اور وبا بھی موجود ہے
جو تمام کورسز اور ٹیکوں کے بعد بھی بچوں پر حملہ آور ہوتی ہے
اے دنیا کے عاقلو! اے دنیا کے بالغو!
چلیں! پہلے یہ بیماری مارڈالیں
آؤ! پہلے اس وبا کا راستہ روکیں
پھر کورسز بھی کریں گے
ٹیکے بھی لگوائیں گے
ورنہ کوئی ضرورت نہیں
کہ اس موجود وبا میں
کہ اس پھیلی ہوئی بیماری میں
مائیں امیدیں پالیں
مائیں خوشخبری سنائیں


