فلسفی حکمران اور محدود جمہوریت کا تجربہ
افلاطون نے مستحکم معاشرے اور آئیڈیل ریاست کے لئے فلسفی حکمران کا تصور پیش کیا تھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے جسٹس کی ایک بالکل نئی تعریف بھی پیش کی تھی۔ افلاطون کے مطابق افراد ذہنی اور جسمانی لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ سوچنے والے ہوتے ہیں، کچھ جسمانی قوت رکھتے ہیں اور کچھ محض روزمرہ کے معمولی کاموں کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے معاشرہ تین قسم کے افراد سے عبارت ہوتا ہے۔ سوچنے والے افراد معاشرے کا اوپری طبقہ ہوتا ہے، جسمانی قوت رکھنے والے اس سے نچلے طبقے میں شمار ہوتے ہیں جبکہ تیسرے طبقے میں معمولی صلاحیتوں والے افراد شامل ہوتے ہیں۔
پس انصاف، اس کے مطابق، یہ ہے کہ معاشرے کے یہ 3 طبقات صرف وہ کام کریں جن کے لئے یہ قدرتی طور پر فٹ ہیں۔ ذہنی طور پر مضبوط افراد چونکہ ہر مسئلہ حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اس لئے ان کو حکمران ہونا چاہیے۔ سوچنے والوں میں جن کی ذہنی سطح تھوڑی کم ہو، وہ انتظامی امور چلائے۔ جسمانی طور پر مضبوط افراد کو دفاع کے امور سرانجام دینے چاہیے جبکہ تیسرا طبقہ کاشتکاری اور کاریگری تک محدود ہونا چاہیے۔ اس بات کی دفاع میں وہ کہتا ہے کہ چونکہ فلسفی حکمران وسیع مطالعہ اور سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس وہ ہر مسلے کا حل ڈھونڈ سکتا ہے اس لئے ریاست میں حکمرانی کاحق اسے حاصل ہونا چاہیے۔
اس فلسفے سے اختلاف اور اتفاق دونوں ممکن ہے۔ اختلاف اس لحاظ سے کہ افراد کی ایسی تقسیم تھوڑی مشکل ہے۔ نیز یہ فلسفہ انسانی برابری کے متضاد ہے۔ مزید یہاں فلسفی کو absolute پاور مل جاتے ہیں۔ اتفاق اس لحاظ سے کہ وہ ممالک جہاں تعلیم اورسیاسی شعور کی کمی ہوتی ہے اور جہاں جمہوریت ناکامی سے دوچار ہو، وہاں افلاطون کا فلسفی حکمران ہی نجات دہندہ ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ سچ ہے کہ جمہوریت ہی حکومت بنانے کا قابل قبول نظام ہے لیکن اس کی بہت سی شرائط ہیں جن کو پورا کیے بغیر اس کی کامیابی کا تناسب انتہائی کم ہے۔ چونکہ اس نظام میں حکمران چننے کا اختیار عام آدمی کے پاس ہوتا ہے اس لئے عام آدمی کی قابلیت اور کوالیفیکیشن کا سوال بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ جہاں ووٹرز سیانے ہوتے ہیں وہاں بہتر حکمران چنے جاتے ہیں اور نتیجتاً بہتر طرز حکمرانی اور سیاسی استحکام ہوتا ہے۔ معاملہ اس کے برعکس ہو تو جمہوریت مزید مسائل ساتھ لاتی ہے۔
پاکستان کی مثال لے تو یہاں جمہوریت کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ووٹر کی ”سیاسی ناخواندگی“ ہے۔ ووٹرز کی اکثریت سیاسی نظام کے ادراک، نمائندے کی پرکھ اور اپنے ووٹ کی اہمیت سے ناواقف ہے۔ اسی وجہ سے ان کا سیاسی استحصال کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً یہاں گورننس کی ناکامی اور سیاسی عدم استحکام ایک مسلسل عمل رہا ہے۔ پارلیمنٹ، جسے سیاسی فروغ کا ضامن ہونا چاہیے تھا، نے کبھی یہاں پختگی کا مظاہرہ ہی نہیں کیا ہے۔ اس کے کریڈٹ پر کوئی بڑا سیاسی کارنامہ ہی نہیں ہے۔ گنے چنے چند سیاسی، معاشی، سماجی اور آئینی تبدیلیوں کے پیچھے پارلیمٹ سے زیادہ چند افراد کا ہاتھ تھا۔
ووٹر کی سیاسی پسماندگی کا ایک لازمی نتیجہ لیڈرشپ کا خلا بھی ہے۔ لیڈرشپ کا یہ خلا غیر جمہوری قوتوں کے سیاسی کردار کے لئے ہمیشہ ایک تیار جواز رہا ہے۔ ووٹر ناخواندہ ہے تبھی سیاسی لیڈرشپ پیدا نہیں ہو رہی۔ یعنی جیسے ووٹر، ویسے لیڈر یا حکمران ہیں۔ ایسے سیاسی ماحول میں لیڈرشپ پنپ ہی نہیں سکتی۔ پیدا ہو بھی جائے تو سروائیو نہیں کر سکتی کیونکہ ناخواندہ ووٹر، جس کے ووٹ کا معیار بجلی کے کھمبے، ٹرانسفارمر اور نوکری کا وعدہ ہوتا ہے، اس کو ووٹ نہیں دے گا۔
اس ملک میں، جہاں ہمیشہ سیاسی تجربات ہوتے رہتے ہیں، لازم ہے کہ ایک تجربہ فلسفی حکمران کا بھی کیا جائے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیسے؟ یقین کیجئے یہ تجربہ موجودہ جمہوری نظام میں تھوڑی سی تبدیلی سے ممکن ہے۔ یہ تبدیلیاں ووٹر کی کوالیفیکیشن، امیدوار کی کوالیفیکیشن اور طرز حکومت کے حوالے سے کی جانی چاہیے۔
ایک محدود جمہوریت جس میں ووٹ کا حق تو سب بالغ افراد کو حاصل ہوگا لیکن اہلیت کی بنیاد پر ووٹرز کے مختلف درجے ہونے ہوگے۔ آپ پانچ تصور کرلے۔ لیول ون کے شہری کے 5 ووٹ اور لیول 5 یعنی آخری درجے کے ووٹر کا ایک ووٹ شمار ہوگا۔ یہ درجہ بندی کئی طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔ ووٹر کی تعلیم، سیاسی سمجھ بوجھ، سماجی خدمات، اختراعات کی اہلیت اورمسائل کو حل کرنے کی صلاحیت وغیرہ۔ ان چیزوں کو جانچنے کے لئے ٹاسک، امتحان اور ٹسٹ بھی لئے جا سکتے ہیں۔ امیدوار کے لئے بھی اس کوالیفیکیشن کے ساتھ ساتھ حکومت کے لئے اس کا پروگرام، آئینی، معاشی و سیاسی فارمولے وغیرہ جیسی شرائط رکھی جا سکتی ہیں۔ نیز طرز حکمرانی میں بھی تبدیلی کرنا ہوگی۔ حکمرانی کا نظام پارلیمانی کے بجائے صدارتی ہوگا تو فلسفی حکمران بطور صدر منتخب ہو سکے گا۔
جہاں رئیلسٹوں کے تمام فلسفے ناکامی سے دوچار ہو رہے ہو تو وہاں ایک آئیڈیل ازم والوں کا فلسفہ اپنانے میں کوئی حرج نہیں۔ خاص کر ایک ایساملک جس کی پوری تاریخ جمہوریت کی ناکامی، غیر جمہوری قوتوں کی بالادستی اور سیاسی عدم استحکام سے عبارت ہو، وہاں ایک تجربہ فلسفی حکمران کا بھی ہونا چاہیے۔


