انتخابی سرمایہ کاری: امریکا اور پاکستان کی جمہوریت میں فرق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو ہزار سولہ میں جو بائڈن نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ وہ اور ان کی اہلیہ اپنے بیٹے بیو بائڈن کے علاج معالجے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنا گھر فروخت کرنے کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ یو بائڈن، دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کو متاثر کرنے والے جان لیوا ٹیومر یا کینسر سے لڑ رہے تھے، جب باراک اوبامہ کو بائڈن کے اس ارادے کا علم ہوا تو صدر اوبامہ جن کی آمدنی بھی دو چار لاکھ ڈالر سالانہ سے زائد نہ تھی، بائڈن کو مالی مددکی پیشکش کی، بائڈن اوبامہ کی اس فراغ دلانہ پیشکش سے بہت متاثر ہوئے، تاہم بائڈن نے ان کی مدد قبول نہ کی اور کسی نہ کسی طرح علاج کے اخراجات پورے کر لیے۔ لیکن اس کے باوجود بیو بائڈن جانبر نہ ہو سکے اور دو ہزار پندرہ میں انتقال کر گئے، بائڈن نے یہ انکشاف اس وقت کیا تھا جب امریکی نشریاتی ادارے، سی این این کی چیف پولیٹیکل تجزیہ کار گلوریا بورجر نے ایک انٹرویو میں ان سے باراک اوبامہ سے رفاقت کے دوران کسی یادگار لمحہ کے متعلق دریافت کیا تھا۔

‎امریکی انتخابات جن پر اربوں ڈالر کا خرچ آتا ہے، بائڈن اور اوباما جیسے لوگ پارٹی مدد، عوامی چندے اور خاص طور پر سرمایہ داروں کے کثیر سرمائے کے بغیر ان صدارتی انتخابات کا خرچ برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، سرمایہ دار بعد میں وائٹ ہاؤس کی پالیسیوں ہر اثر انداز بھی ہوتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ حکومت یا کانگریس ایسی پالیسیاں نہ بنائے جس سے ان کے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچے، مثلاً امریکہ کی نیشنل رائفل ایسوسی ایشن (این آر اے ) کو داخلی سطح پر امریکہ کی طاقتور ترین لابی سمجھا جاتا ہے، برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق این آر اے، سالانہ 250 ملین ڈالرز، اسلحہ کی حمایت میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے مختلف ایڈوکیسی گروپس پر خرچ کرتی ہے، اور اس رقم کا بڑا حصہ گن پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے بھی خرچ کیا جاتا ہے۔

امریکہ میں کسی مسئلہ یا مفاد کی خاطر قانون سازی کرنے کے لیے لابنگ کرنے کو آئنی اور قانونی حیثیت حاصل ہے اور سرمایہ دار ملک ہونے کی وجہ سے لابنگ کرنے کے لیے پیسہ استعمال کرنے کی بھی ایک حد تک اجازت ہے۔ باوجود اس کے، کہ امریکہ میں ہزاروں افراد ماس شوٹنگ کے سبب ہلاک ہوچکے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد اسکول کے معصوم بچوں کی بھی ہے، لیکن پھر بھی امریکہ میں اسلحہ رکھنے پر این آر اے کی موثر لابنگ کی وجہ کوئی سخت قانون سازی نہیں کی جا سکی۔

اسی طرح جب صدر باراک اوباما نے عوامی صحت کے منصوبے اوباما کیئر کو لانے کا منصوبہ بنایا تو اوباما کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ اوباما کیئر کی بدولت امریکہ میں نجی انشورنس کمپنیوں کے کاروباری مفادات کو ضرب لگتی تھی اور شاید اسی وجہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے ہی اوباما کئیر کو ختم کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ اسی طرح میڈیا، پورن انڈسٹری، ڈرگز، فارماسیٹیکل، ریئل اسٹیٹ ایسے شعبے ہیں جن ہر کارپوریٹ طبقہ لابنگ کر کے اپنے مالی مفادات کا تحفظ یقینی بناتا ہے۔

خارجہ سطح پر اسرائیل پالیسی، اسلحہ کی فروخت، بین الاقوامی تنازعات میں امریکہ کا جنگی کردار، دنیا کے مختلف ممالک پر پابندیاں وغیرہ ایسے معاملات ہیں جن پر سرمایہ دار کافی حد تک اثرانداز ہوسکتے ہیں، کشمیر سمیت دیگر معاملات پر بھارت کے حق میں امریکی جھکاؤ کی کچھ حد تک وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت کا سرمایہ اور لابنگ پاکستان سے بہتر اور موثر ہے۔

اگر ہم وطن عزیز کی بات کریں تو ہمارے ملک میں وزیر اعظم عمران خان بھی کم و پیش اوباما اور بائڈن جیسے طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں، ان کی پارٹی اور انتخابات کے اخراجات برداشت کرنے میں بھی سرمایہ داروں کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ مہنگائی، بے روز گاری، خاندانی اجارہ داری اور کرپشن سے تنگ آئی ہوئی عوام نے عمران خان سے امید لگائی تھی کہ وہ اقتدار میں آ کر نیک نیتی سے پاکستان کے دیمک زدہ نظام کو بہتر کریں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد انتظامی شعبے کی بدنظمی مزید بڑھ گئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق، بغیر کسی واضح منصوبہ بندی کے سبب ایل این جی، گندم اور چینی کی امپورٹ اور ایکسپورٹ کی وجہ سے قومی خزانے کو ساڑھے پانچ سو ارب سے زائد نقصان اٹھانا پڑا ہے، میڈیا اور اپوزیشن عمران خان کے اردگرد موجود سرمایہ داروں پر ناجائز منافع کمانے کا الزام لگا رہے ہیں۔

ماضی کے حکمرانوں پر تحریک انصاف الزام لگاتی رہی کہ اپنی کرپشن چھبانے کے لیے غریب لوگوں اور ملازمین کے نام سے جھوٹے اکاؤنٹس بنا کر ماضی کے حکمران اپنی کرپشن چھپانے کی کوشش کرتے رہے لیکن اس حکومت کے دور میں بھی میڈیا رپورٹس کے مطابق فیصل آباد کے ایک غریب پنکچر لگانے والے کے نام پر اربوں روپے کی چینی کی خرید و فروخت کی گئی اور یہ بات متاثرہ شخص پر تب آشکار ہوئی جب اس کو ایف بی آر کی جانب سے اسی لاکھ روپے کا ٹیکس نوٹس موصول ہوا۔

امریکہ میں سرمایہ دار چاہے جس قدر بھی لابنگ کے ذریعے حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہوں مگر ایک بات واضح ہے کہ امریکی عوام، پاکستانی عوام کی طرح انتخابی سرمایہ کاری کا بوجھ آٹے، چینی اور خورونوش کی دیگر اشیاء کی کم یابی اور مہنگائی کی صورت میں برداشت نہیں کرتے، کیونکہ کاروبار کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں اور جنگل کے بھی کچھ قانون ہوتے ہیں، بھیڑیا بھی اپنے بچے نہیں کھاتا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).