مانا نہیں ہے، ہم نے غلط بندوبست کو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سقوط ڈھاکہ ایک ایسا زخم ہے، جو ہمیشہ رستا ہی رہتا ہے۔ عرصہ بیت گیا کہ لیکن ہر سال 16 دسمبر کو با شعور جمہوریت پسند افراد کے سر شرم سے جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔ چونکہ مشرقی پاکستان کے عوام کے ووٹ کو عزت نہیں دی گئی۔ مقام افسوس ہے کہ اس سانحہ کے بعد بھی ہم نے ہوش کے ناخن نہیں لیے ہیں۔ گو کہ وطن عزیز میں کہنے کو تو جمہوریت ہے۔ لیکن جمہوریت کی آڑ میں کھیل وہی کھیلے جا رہے ہیں۔ جو سقوط ڈھاکہ جیسے سانحہ پر منتج ہوتے ہیں یا وطن عزیز کی جڑوں کو مزید کھوکھلا کرتے ہیں۔

موجودہ حکومت تبدیلی اور شفافیت کے نعرے پر عوام کے سر پر تھوپی گئی۔ 2018 کے جنرل الیکشن سے قبل ہی موجودہ حکومت کی کارکردگی سے کوئی خاص یا اچھی توقعات وابستہ نہیں تھیں۔ اور انتخابات کے بعد جس طرح اڑن کھٹولے کی مدد سے معمولی اکثریت کے ساتھ حکومت تشکیل دی گئی۔ اس نے رہی سہی توقعات بھی زمیں بوس کر دیں۔ وزیر اعظم کے عظیم رہنما بننے کے زعم میں پے در پے یو ٹرن اور کرپشن نے مملکت اور عوام کے مستقبل کو مزید خطرات میں ڈال دیا ہے۔

وزیر اعظم ایمان دار ہیں۔ یہ ایک ایسا جملہ ہے، جس کا ورد حکومتی اراکین کرتے نہیں تھکتے۔ مقام حیرت ہے کہ اسی ایمان دار وزیر اعظم کے دور حکومت میں بھی بد ترین حکومتی کارکردگی کے نمونے اور بد عنوانی پر مبنی سکینڈلز کی بھرمار ہے۔ اور حال یہ ہے کہ وزیر اعظم جس مسئلے پر نوٹس لے لیں تو وہ مسئلہ مزید سر اٹھا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ آٹے، چینی اور پٹرول کا بحران اس کی تازہ مثال ہے۔ جس کی زد سے عوام نہ اب تک نکل پائے اور نہ سنبھل پائے ہیں۔ عوام کی اکثریت اسی لیے ہر لمحہ ہر آن دعا گو رہتی ہے کہ وزیر اعظم کوئی نوٹس نہ لیں۔ چونکہ بھگتنا عوام کو پڑتا ہے۔

کروڑوں نوکریوں کا وعدہ ہو یا لاکھوں گھروں یا اربوں درختوں کا، عدالتیں اور عوام حیران و پریشان ہیں۔ افراط زر کے اشاریے بتاتے ہیں کہ خطے میں سب سے زیادہ افراط زر کا شکار وطن عزیز ہے اور ترقی کی رفتار میں سب سے سست۔ لیکن حکومت کامیابی کے ڈھول بجا رہی ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ وطن عزیز کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے، تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جس بندوبست کے تحت یہ حکومت وجود میں آئی ہے اور کام کر رہی ہے۔ ایسی حکومتوں سے کسی بہتری کی نہیں، بربادی کی ہی توقع کی جا سکتی ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتیں بھی وطن عزیز کی موجودہ صورت حال سے پریشان ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعتیں روز اول سے جنرل الیکشن میں دھاندلی کا الزام لگاتی آئی ہیں اور جس بندوبست کے تحت موجودہ حکومت وجود میں آئی ہے۔ اس کو مسترد کرتی آئی ہیں۔ وطن عزیز کی موجودہ صورت حال میں حزب اختلاف حکومت کو مزید وقت دینا، مملکت کے لیے سنگین خطرہ سمجھتی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم جلسوں کے ذریعے اپنی قوت اور موقف کا بھرپور اظہار کر چکا ہے۔ اور حزب اختلاف کی جماعتیں اگلے مرحلے میں لانگ مارچ اور اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کا عندیہ دے چکی ہے۔

آنے والے چند ماہ میں ملکی سیاست کیا رخ اختیار کرتی ہے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ پر حقیقت تو یہ ہے کہ جس طرح موجودہ حکومت وجود میں آئی ہے۔ وطن عزیز کے با شعور عوام ہمیشہ ایسی حکومت کو مسترد کرتے آئے ہیں۔ جون ایلیا مشہور و معروف شاعر ہیں۔ ان کی نظم ’استفسار‘ کے چند اشعار پیش خدمت ہیں۔

نا قابل شکست ہیں اس قوم کے عوام
اس قوم کے عوام کی تعظیم کیجئے
یہ قوم آج بھی ہے سرفراز و سرخرو
اس قوم کے جلال کو تسلیم کیجئے
مانا نہیں ہے، ہم نے غلط بندوبست کو
ہم نے شکست دی ہے ہمیشہ شکست کو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •