راستہ بھولی ہوئی قوم: ایک اور 16 دسمبر بیت گیا
ماضی میں سولہ دسمبر اس قوم پر دو سانحات لے کر وارد ہوا تھا۔ ایک سانحہ کو نصف صدی مکمل ہونے کو ہے جبکہ دوسرا سانحہ تو ابھی سامنے کی بات ہے۔ دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول میں بچوں کو بے دردی سے قتل کرنے کے مناظر اب تک آنکھوں میں سمائے ہیں۔ سوچنا چاہیے کہ کیا کسی بڑی اور باشعور قوم کی طرح اہل پاکستان نے بھی کوئی سبق سیکھا یا اسی بے ڈھنگی چال پر اصرار جاری ہے جو سوائے ناکامی و نامرادی کے کچھ ہماری جھولی میں نہیں ڈال سکی۔
دیکھتے ہیں کہ 16 دسمبر 1971 آیا تھا تو اس وقت ملک کا سربراہ اور فوج کا کماندار سال بھر تک اس سانحہ سے بچنے کے لئے کیا تدابیر کر رہا تھا۔ جنرل یحییٰ نے انتخابی نتائج کے باوجود سارا سال ان سازشوں کا جال بننے اور یہ خواب دیکھنے میں صرف کیا کہ عوام کے نمائندے منتخب ہو جانے کے باوجود وہ خود کیسے اور کیوں کر اقتدار پر قابض رہ سکتا ہے۔ مغربی حصے کی سیاسی قیادت فوج کے بے دام غلام کی طرح مشرقی حصے سے ہزاروں میل دور لوگوں کو وہی جھوٹ ازبر کروانے میں مصروف تھی جس سے اس کی اپنی قوت میں اضافہ ہوتا یا ذاتی مفادات حاصل ہوسکتے تھے۔ بڑی آبادی والے حصے کی شکایتوں کو ہندو کی سازش اور بھارت کی دشمنی قرار دیا گیا۔
ملک کی صحافت تو پچاس سال گزرنے کے بعد بھی آزاد ہونے کا خواب ہی دیکھ رہی ہے، ایک فوجی حکومت کے دور میں وہ ایسی خبریں کیسے عوام تک پہنچا سکتی تھی جو ساری دنیا کے علم میں تھیں۔ مغربی حصے کے سادہ لوح عوام کو شرپسندی کے خلاف افواج پاکستان کی شاندار کامیابی کا پاٹھ ازبر کروایا جا رہا تھا۔ دانشوروں کی آنکھوں پر ملکی یا ذاتی مفاد نہیں تو لاعلمی کی پٹی بندھی تھی۔ قوم کے دو حصوں کے درمیان ایک فاصلہ تو جغرافیہ اور زبان کی وجہ سے حائل تھا لیکن اس سے بڑی دیوار ان عناصر نے کھڑی کی تھی جنہوں نے زور زبردستی اور نام نہاد قومی مفاد کی ایک نئی نویلی تشریح کے لئے سیاسی جد و جہد سے حاصل کیے گئے ملک میں عسکری برتری اور عوامی خواہشات مسترد کرنے کی ایک نئی لغت ترتیب دینا شروع کی تھی۔ یہی لغت بعد میں تاریخ کی نئی تفہیم اور قوم کے خلاف ہونے والی سازشوں کا سبق ازبر کروانے کے کام آئی۔ دیکھئے نصف صدی میں پروان چڑھنے والی نسلوں نے کیسے یہ جھوٹا سبق یاد کرتے ہوئے 16 دسمبر 2014 کی راہ ہموار کی۔
اس دہائی کے شروع میں جب دہشت گرد منہ زور تھے اور ملک کی سلامتی کو چیلنج کر رہے تھے، اس وقت ملک کا آرمی چیف ناپسندیدہ سیاسی حکومت کو کمزور اور بے بس کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ دھرنے کے ذریعے اسلام آباد کے وزیراعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ کی دیواریں کھوکھلی کرنے کی امید کی جا رہی تھی۔ تاکہ ملک کا آرمی چیف سرحدوں کا محافظ ہونے کے علاوہ سیاسی لیڈروں کا رہنما بھی تصور ہو۔ یہ اصول متعین کیا جائے کہ اس قوم کی وفاداری پر بھی ایک خاص طبقہ اور ایک خاص گروہ کی اجارہ داری اہم ہے۔ باقی لوگ ملک کے عوام ہوں یا ان کی نمائندگی کرنے والے سیاست دان، انہیں اپنی دیانت و خلوص ثابت کرنے کے لئے ’کیریکٹر سرٹیفکیٹ‘ کی ضرورت ہوگی۔ جو سیاست دان سند یافتہ نہیں ہوگا یا اس طریقہ کو فرسودہ اور ناقابل قبول کہنے کی کوشش کرے گا، اس کے لئے سامنے آنے والی عوامی حمایت بھی بے معنی ہوگی۔ اسے آئینی شقات کی نت نئی توجیہات کے ذریعے قومی خدمت کا نا اہل قرار دیا جاسکتا ہے۔ یا پھر بدعنوانی نام کا ایک ایسا راگ الاپا جاسکتا ہے جس کے مد و جذر سے ’عوامی قبولیت‘ کا ایسا طوفان برپا ہو جو آئین شکنی، وسائل و اختیارات میں خرد برد کے مزاج کو مسترد کرنے کی بجائے اسے قومی مفاد کا نیا درخشاں باب قرار دے۔ یعنی نئے پاکستان کی تعمیر کا آغاز ہو۔ جہاں امور جہاں بانی صرف ’محفوظ‘ ہاتھوں میں ہوں اور آئین کی دہائی دینے والے غدار، ملک دشمن اور چور اچکے قرار پائیں۔
پچاس برس کے مختصر عرصے میں دو سانحات اس قوم پر بیت گئے۔ دیکھنا چاہیے کہ اس قوم نے اصلاح احوال کے لئے کیا سبق سیکھا۔ کیا آج پاکستان کی قیادت اور پانچ دہائیوں میں یہاں پروان چھڑنے والی نسلیں یہ اندازہ کر پائی ہیں کہ وہ کون سے عوامل تھے جن کی وجہ سے قیام پاکستان میں ہراول دستہ کا کردار ادا کرنے والے بنگالی عوام ’مکتی باہنی‘ کے پشت پناہ بن گئے۔ جو مجیب الرحمان مسلم لیگ کا پرچم اٹھایا کرتا تھا، اس نے 6 نکات پر کیوں اصرار کیا اور وہ کون سی وجوہات تھیں کہ ملکی قیادت اور سیاسی لیڈر دسمبر 1970 میں منعقد ہونے والے انتخابات کے نتائج ماننے سے منحرف ہو گئے۔ سلیبس کی کتابوں میں جو حقائق لکھے ہیں، اگر وہ سچائی کا پرتو ہوتے تو اس وقت ملک کے تین چھوٹے صوبے مرکز کی اجارہ داری کے شکوہ کناں نہ ہوتے۔
اگر یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہوتی کہ فوجی جبر سے امور مملکت نہیں چلائے جا سکتے تو مشرقی پاکستان گنوانے کے سانحہ کے بعد دہائیوں سے بلوچستان میں قومی تحریک دبانے کے لئے مسلسل عسکری دستے سرگرم عمل نہ ہوتے۔ اگر عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی قیادت کو حق حکمرانی نہ دینے کے نتیجہ کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہوتی تو پاکستان کی متحدہ اپوزیشن فوجی قیادت کا نام لے کر سیاسی معاملات میں غیر آئینی مداخلت کا الزام عائد نہ کر رہی ہوتی۔ اہل پاکستان وہ بدنصیب قوم بن چکے ہیں جو سانحات سے سبق سیکھنے کی بجائے، دوبارہ ویسے ہی تجربوں سے گزر رہے ہیں جو اس سے پہلے بھی ملک کو دو لخت کر چکے ہیں۔
ایک اور 16 دسمبر بیت گیا۔ یادوں کے طاق پر ایک نیا دیا روشن کر کے پاکستان پھر سے پرانے سفر پر روانہ ہوا چاہتا ہے، کیوں کہ یہ دیا سچ کی روشنی کی بجائے سراب کا سایہ ہے جو پاکستانیوں کی تقدیر کو اپنی پرچھائیں میں لئے ہے۔ اب صرف چھوٹے صوبے ہی نہیں 70 برس تک ایک مخصوص اشرافیہ کے گناہوں کا بوجھ اٹھانے والے پنجاب نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔ لاہور میں 13 دسمبر کو منعقد ہونے والے جلسہ میں پنجاب کی قیادت نے ہی ’انٹیلی جنس اداروں میں سیاسی انجینئرنگ کی فیکٹریاں بند کرنے‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن کیا یہ مطالبہ کسی سماعت پر اثر انداز ہوگا؟
ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کے ٹھیک 43 برس بعد 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گرد حملہ کی صورت میں یہ قوم ایک نئے سانحہ سے دوچار ہوئی۔ یہ سانحہ ان غلطیوں سے سبق نہ سیکھنے کا براہ راست نتیجہ تھا جو ملک کا مشرقی حصہ گنوانے کے باوجود درست کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ بلکہ یہ سمجھ لیا گیا کہ اس وقت کچھ ’اسٹریٹیجک‘ غلطیاں ہو گئی تھیں، کچھ قسمت نے ساتھ نہ دیا لیکن افغانستان میں سوویٹ فوجوں کی آمد اور افغان جہاد میں امریکہ بہادر کی دلچسپی نے ہمارے لئے کشمیر پر جائز قبضہ جمانے کی راہ ہموار کردی ہے۔ کسی نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہ کی کہ پوری قوم کو مسلح جد و جہد میں دھکیل کر اور مذہبی انتہا پسندی کو جہاد کا نام دے کر ملک کو آنے والے برسوں میں کون سی مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اس حوالے سے دیے گئے کسی انتباہ کو درخور اعتنا نہ سمجھا گیا۔ کشمیری تو کیا آزاد ہوتے ملک دہشت گرد گروہوں کی آماجگاہ بن گیا۔ گھر گھر سے جہادی پیدا ہونے لگے اور انسانی خون بہانے کو کامیابی کی معراج سمجھ لیا گیا۔ نائن الیون نے اس صورت حال کو تبدیل کیا لیکن قومی ایکشن پلان بنانے اور دہشت گردی ختم کرنے کے دعوؤں کے باوجود یہ سمجھنے میں دو دہائیاں لگیں کہ جن عناصر کو ہم دوست سمجھتے رہے، وہی دنیا بھر میں ہماری رسوائی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ اب پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے ان ہی لوگوں کو سزائیں دینے پر مجبور ہے جو ایک طویل عرصہ تک ریاست کے ’اثاثے‘ قرار دیے جاتے تھے۔ تو کیا اب اصلاح کی صورت پیدا ہو گئی ہے؟
ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی وارننگز اور ہر تھوڑے عرصے بعد کسی محلے بازار میں ہونے والے اچانک دھماکے، اس گمان کی تردید کرتے ہیں۔ ملک کے تمام چھوٹے صوبے اب بھی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا شکوہ کرتے ہیں۔ اب تو ملک کا سب سے بڑا صوبہ بھی سیاسی حقوق نہ ملنے کا اعلان کر رہا ہے۔ لاپتہ لوگوں کی فہرستیں اور تشدد شدہ لاشوں کے انبار قومی اتحاد پر نصب کیے گئے ٹائم بم کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن کسی کو یہ بحران دکھائی نہیں دیتا۔ کابینہ اٹھارہویں ترمیم کی خامیاں دور کرنے اور صوبائی حکومتوں کو ملنے والے وسائل کنٹرول کرنے کا ’میکینزم‘ بنانے پر غور کرتی ہے۔ اسے ملک بھر کے گلی کوچوں سے سیاسی محرومی پر بڑھتے ہوئے غم و غصہ کا ادراک نہیں ہے۔ جمہوری حق کی بات کرنے والے اب چور لٹیرے قرار پائے ہیں۔ یا تو ان کا ماضی کھنگالنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے یا نیب کو ان سے حساب برابر کرنے پر مامور کیا گیا ہے۔
پاکستان کی سمت دیکھتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس ملک نے ماضی کے کسی سولہ دسمبر سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ یہ قوم اب بھی گم کردہ راہ ہے۔ اس کے رہنما صبح کو شام کرنے کی لاحاصل مشق میں مگن ہیں۔ تاریخی تناظر میں مسائل کو سمجھنے کا مزاج پیدا کرنے کی بجائے تاریخ بدلنے کا کارنامہ انجام دیا جا رہا ہے۔ نصف یا ایک صدی بعد کا تجزیہ نگار اس قوم کے حالات پر غور کرتے ہوئے سر پیٹ کر رہ جائے گا۔


