سر سید۔ مظلوم وبدنام سفیر علم
سر سید کی زندگی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا حصہ پیدائش 1817 سے 1838 تک جس میں وہ صرف اپنے لیے جیتے رہے۔ دوسرا حصہ 1838 سے 1857 تک جسے انہوں نے اپنے خاندان کے لیے جیا، اور تیسرا حصہ وہ ہے جسے انہوں نے صرف اور صرف قوم کے لیے وقف کر دیا۔ یہ تیسرا دور 1857 سے شروع ہو کر 1898 میں ان کی وفات پر ختم ہو گیا۔ حسین ترین اتفاق ہے کہ 1857 میں ان کی عمر چالیس سال تھی جب وہ قومی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر رہے تھے کیوں کہ یہی عمر قومی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے آئیڈیل بھی ہے۔
1857 کی پہلی جنگ آزادی اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات نے سر سید کے دل پر وہ کام کیا جو لوتھر کے دل پر بجلی کے گرنے نے کیا تھا۔ ان کے کسی دوست کا قول ہے کہ ان کی حالت اس شخص کی طرح تھی جس کے گھر کا ایک حصہ جل چکا ہو اور وہ باقی ماندہ حصہ کو بچانے کے لیے بے چین بھاگا پھرتا ہو۔ سر سید بے چین ہو اٹھے لیکن مسلمان صدیوں پر محیط غفلت سے بیدار ہونے کو تیار نہ تھے۔
مسلمانوں کی تاریخی غلطی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ حملہ آور کی شکل میں جس کسی ملک میں داخل ہوئے اپنی زبان اور اپنی تہذیب کے ساتھ داخل ہوئے اور وہاں کی مقامی تہذیب و زبان سیکھنے پر بالکل توجہ نہ دی۔ مثال کے لیے اسپین، ترکی اور ہندوستان کافی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اجنبی ماحول میں زمانہ دراز تک اجنبی رہے۔ کبھی نکالے گئے اور کبھی حاشیہ پر ڈال دیے گئے۔ اسی عاقبت نا اندیش احساس برتری و تشخص پسندی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے برطانوی عہد میں انگریزی زبان کی شدت سے مخالفت کی اور آج بھی اپنے قابل ذکر دینی مدارس ندوہ، دیوبند، اشرفیہ مبارکپور اور سلفیہ بنارس وغیرہ میں ہندی زبان اور تاریخ جیسے اہم مضامین پڑھانے کے روادار نہیں ہیں۔ جدید سائنس اور میتھمیٹکس کیا خاک پڑھائیں گے، انہوں نے اردو ادب کو بھی اپنے نصاب کا حصہ نہیں بنایا ہے۔ جبکہ ہندووں نے مغلوں کے دور میں فارسی میں کمال حاصل کیا، حکمرانوں کی قربت کے خیال سے عربی بھی سیکھی اور جب انگریز آئے تو انہوں نے انگریزی زبان کو بھی گلے لگا لیا حتی کہ جب اردو زبان کا چلن عام ہوا تو اس میں بھی صاحبان فضل و کمال ہندووں کی فوج تیار ہو گئی اور ہر میدان میں مسلمانوں سے آگے نکل گئے۔
نہ ہندو مذہبی تعلیم کے خواہشمند تھے اور نہ ہی ان کا مذہب ایسا تھا جس کی تعلیم ہو سکے۔ ان کی مذہبی تعلیم برہمنوں تک محدود تھی۔ ان میں بھی کچھ خاص لوگ ہی مذہبی تعلیم حاصل کرتے تھے، باقی برہمن اور دیگر ہندو طبقات جدید تعلیم پر توجہ کرتے تھے۔ انگریزوں نے جب کلکتہ میں سنسکرت کالج کھولنے کا اعلان کیا تو ہندووں نے کہا کہ ہمیں سنسکرت کالج کی ضرورت نہیں ہے انگریزی کالج کھول کر دیے جائیں، اس کے بر عکس مسلمانوں کے آٹھ ہزار رئیسوں اور عالموں نے ایک عرض داشت پر دستخط کر کے کمپنی سرکار کے پاس بھیجا جس کا لب لباب یہ تھا کہ گورنمنٹ کا انگریزی تعلیم پر اس قدر توجہ کرنا صاف دلالت کرتا ہے کہ ہندوستان کو عیسائی بنانا ہے اور یہ کہ مسلمان اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم دلانے کے حق میں نہیں ہیں۔
ایسے حالات میں سر سید نے مسلمانوں کی تعلیم کا بیڑا اٹھا یا اور جہاں بھی رہے جس حال میں بھی رہے خود اختیار کردہ اپنی ذمہ داری سے کبھی غافل نہ ہوئے۔ غدر کے بعد مراد آباد میں رہے تو وہاں 1859 میں گلشن اسکول قائم کیا، فرائض منصبی کی ادائیگی کے لیے غازی پور بھیجے گئے تو وہاں 1863 میں وکٹوریہ اسکول کی بنیاد ڈالی جس میں دسویں جماعت تک تعلیم کا انتظام تھا، اسے کالج بنانے کا ارادہ تھا لیکن اسی دوران ان کو علی گڑھ بھیج دیا گیا۔
غازی پور میں قیام کے دوران ہی انہوں نے 1862 میں ایک سوسائٹی قائم کی جس کے تحت سائنس اور دیگر علوم کی انگریزی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا جاتا تھا۔ سر سید علی گڑھ منتقل ہوئے تو وہاں انہوں نے 1864 میں مذکورہ سوسائٹی کو از سر نو منظم کر کے سائنٹفک سوسائٹی کے نئے نام سے متعارف کیا۔ ان کے اس کام کو پذیرائی ملی اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نواب سکندر بیگم صاحبہ رئیسہ بھوپال نے خاص سر سید کے لیے ہیرے کی ایک انگوٹھی بھیجی جس کی قیمت اس وقت ایک ہزار روپے تھی۔ سر سید نے اخراجات کے مد میں وہ انگوٹھی سوسائٹی کو دے دی۔
1858 میں کلکتہ، ممبئی اور مدراس میں یونیورسٹیاں قائم ہوئیں، ہزاروں ہندو گریجویٹ پیدا ہوئے اس کے بالمقابل سر سید نے 24 مئی 1875 کو علی گڑھ میں محمڈن اینگلو اورینٹل اسکول قائم کیا اور 1877 میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج شروع کیا جسے 1878 میں سرکاری سطح پر کالج کی حیثیت حاصل ہوئی۔ مسلمانوں کی طرف سے اس کی بھی ہزار مخالفتیں ہوئیں۔ لیکن سر سید کا حوصلہ پست نہیں ہوا۔ وہ علی گڑھ کی طرح پورے ملک میں تعلیمی اداروں کا جال بچھا دینا چاہتے تھے، اس خیال کے تحت انہوں نے 1886 میں آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس قائم کی جس سے ان کا مقصد مسلمانوں کے اندر تعلیمی ترقی کے لیے بیداری لانا اور اور اس سلسلہ میں اجتماعی جد و جہد کا ایک متحدہ پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا، جہاں ملک کے طول عرض سے مسلمان جمع ہوں، ایک دوسرے کے حالات سے واقف ہوں، مدارس و مکاتب قائم کریں، دینی و دنیوی علوم پر غور و فکر کریں اور اس مقصد کے لیے ہر شہر میں ذیلی کمیٹیوں کا قیام منشور کا حصہ تھا۔
1883 کے آس پاس کے سالوں میں 19 سال کی عمر میں لندن جا کر سول سروس کا امتحان پاس کرنا پڑتا تھا جبکہ مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ خوشحال خاندان کے لڑکے 19 برس کی عمر تک بچے سمجھے جاتے تھے۔ بقول سر سید اس وقت تک تعویذوں کی ہیکل ان کے گلوں سے نہیں اترتی تھی۔ متوسط درجے کے لوگوں کو تعلیم کا خیال تھا لیکن ولایت کے سفر کا پورا خرچ وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ سر سید دو نیم تھے۔ ایک طرف برطانوی راج میں ان کے پاس کوئی اقتدار و اختیار نہیں تھا جس سے وہ اپنی قوم کی جب اور جیسے چاہیں خدمت کر گزریں۔
دوسری طرف مسلمانوں کا یہ حال تھا کہ وہ بھی انہیں اپنا نہیں سمجھتے تھے۔ سر سید کے تعلق سے مسلمان اپنی کوتاہ نظری کے طفیل بہت بڑی غلط فہمی کا شکار تھے، وہ سوچتے تھے کہ سر سید ان کے بچوں کو انگریزی تعلیم دے کر عیسائی بنانا چاہتے ہیں، حالانکہ سر سید کا موقف دو ٹوک تھا کہ: ”جہاں مشنری اسکول ہیں اور ان میں بائبل کی تعلیم بھی دی جاتی ہے اگر مقامی آبادی اس میں اپنے بچوں کو نہ پڑھانا چاہے اور اپنا الگ اسکول یا مدرسہ کھولنا چاہے تو حکومت کو اس کی مدد کرنی چاہیے، نہ یہ کہ وہاں مشنری اسکول ہونے کی بات کہ کر روکنا چاہیے جیسا کہ بعض اضلاع میں ہوا“ ۔
وہ خود راسخ العقیدہ مسلمان تھے اور مسلمانوں کو مسلمان رکھتے ہوئے ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتے تھے۔ غالباً 1876 کی بات ہے اپنے اسکول کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ”یاد رکھو سب سے سچا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے، اس پر یقین کرنے سے ہماری قوم ہماری قوم ہے، اگر تم نے سب کچھ کیا اور اس پر یقین نہ کیا تو تم ہماری قوم نہ رہے، پھر تم آسمان کا تارہ ہو گئے تو کیا! پس امید ہے کہ تم دو باتوں یعنی علم اور اسلام کے نمونے ہو گے اور جب ہی ہماری قوم کی عزت ہوگی“ ۔
سر سید کے حاسدین ان پر ایک الزام یہ بھی لگاتے تھے کہ ان کی جد و جہد کا مطمح نظر شہرت اور نام و نمود ہے۔ 1891 میں نظام کلب حیدرآباد میں سر سید مدعو تھے، جلسہ کے حاضرین سے خطاب میں نواب عماد الملک نے مذکورہ بالا الزام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا؛ ”کاش مسلمانوں میں سید احمد خان کے سوا دوسرا شخص ایسا ہی پیدا ہو جائے جو اپنی ناموری اور شہرت کے خیال سے قوم کے لیے ایسے مفید کام کر کے دکھا دے، جیسے کہ اس شخص کے ہاتھ سے انجام ہوتے ہیں“ ۔
مسلمانوں کے لیے سچی ہمدردی و خیر خواہی اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے سر سید کے بے کراں اخلاص کو مندرجہ ذیل خطاب کے ایک ایک لفظ میں شدت کے ساتھ محسوس کیا جا سکتا ہے، لاہور کے ایک جلسہ میں پنجابی مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
”اے بزرگان پنجاب! فرض کرتا ہوں کہ میں بد عقیدہ ہوں، مگر میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر ایک کافر مرتد آپ کی قوم کی بھلائی کی کوشش کرے تو کیا آپ اس کو اپنا خادم یا خیر خواہ نہیں مانیں گے؟ آپ کے دولت سرا بنانے میں جس میں آپ آرام فرماتے ہیں اور آپ کے بچے پرورش پاتے ہیں، آپ کے لیے مسجد بنانے میں جس میں آپ خدائے واحد ذوالجلال کا نام پکارتے ہیں ؛ چوہڑے، چمار، کافر بت پرست اور بد عقیدہ لوگ مزدوری کرتے ہیں، مگر نہ کبھی آپ اس دولت خانہ کے دشمن ہوتے ہیں اور نہ کبھی اس مسجد کو منہدم کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں، پس آپ مجھ کو بھی مدرسۃ العلوم قائم کرنے میں قلی چمار تصور کیجیے اور میری محنت و مشقت سے اپنے لیے گھر بننے دیجیے۔ کیا آپ مجھ بد بخت، نامہ سیاہ کی شامت اعمال سے اپنی تمام قوم کو اور ان کی اولاد کو نسلا بعد نسل ڈبونا اور خراب و خستہ حالت میں ڈالنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ سب میری حالت کو بدتر جانتے ہو، اس سے عبرت پکڑو اور برائے خدا اپنی قوم کی اور اپنی اولاد کی بھلائی و بہتری کی فکر کرو“ ۔
مشہور صحافی ایم جے اکبر (مبشر جمیل اکبر) اپنی کتاب
Tinder Box. The Past and Future of Pakistan
میں لکھتے ہیں کہ ”سر سید ہندووں کے دشمن نہیں تھے لیکن سمجھتے تھے کہ ہندووں کی ترقی کے لیے سوچنا ان کی ذمہ داری میں شامل نہیں ہے۔ وہ علی گڑھ کی طرح پورے ہندوستان میں مسلم کالجوں کا جال بچھا دینا چاہتے تھے۔ 27 مارچ 1898 کو سر سید کے انتقال کے بعد مسلمانوں کو احساس ہوا کہ وہ کیا کر گزرے ہیں۔ اس کے بعد مسلم برادری نے ان کے مشن کو اپنایا اور کالج کو ترقی دے کر یونیورسٹی بنانے کا پختہ عہد کر لیا۔ اس سلسلہ میں بدر الدین طیب جی نے سر سید میموریل فنڈ کے لیے دو ہزار روپے کا چیک بھیجا“ ۔
سر سید کے خلوص کو اللہ نے شرف قبول بخشا اور ان کے ادارے کو 1920 میں یونیورسٹی کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اس طرح سر سید کی بات سچ ثابت ہوئی، انہوں نے کہا تھا ”اگر زندہ ہیں اور خدا کو منظور بھی ہے تو اپنے مخالفین کو بھی دکھائیں گے کہ خدا نے کیا کیا۔ اور اگر اس میں آنکھ بند ہو گئی اور لحد میں جا سوئے تو امید رکھیں گے کہ مردے از غیب بروں آید و کارے بکند“ ۔
ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے


