ایک مسجد کے دو اعلان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جگہ کا نام : مسجد
نوٹ : خدا کا گھر کہا جاتا ہے
دن : جمعہ
نوٹ : دنوں کا سردار کہا جاتا ہے
وقت : نماز جمعہ
نوٹ : خطبہ جمعہ کو انقلاب کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔
جمعہ کی نماز کے بعد دو اعلان ہوئے۔

پہلا اعلان

السلام علیکم

میں بحیثیت صدر انجمن مسجد ہذٰا آپ کو یہ خوشخبری سنانا چاہتا ہوں کہ ہم نے مسجد کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور بفضل خدا ہمارے ایک باقاعدہ نمازی فلاں ابن فلاں نے وعدہ کیا ہے کہ میں مسجد کی تعمیر کا مکمل خرچہ اٹھاؤں گا چاہے وہ کتنے کروڑ بھی ہو۔ اگر آپ حضرات بھی اس کار خیر میں حصہ ڈالیں گے تو خدا آپ کو اجر عظیم دے گا۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ جس نے خدا کا گھر تعمیر کروایا اس نے جنت میں گھر خرید لیا۔

والسلام

دوسرا اعلان

”میں فلاں ابن فلاں، فلاں جگہ کا رہائشی ہوں۔ کام کاج کے حوالے سے میں رکشہ چلاتا ہوں اور معاشرے میں عزت کا مقام حاصل ہے۔ اپنی کمائی سے میں گھر کا نظام با احسن چلا رہا ہوں۔ چونکہ میں اب بیٹی کی شادی کرنا چاہ رہا ہوں جس کے لئے مجھے کچھ رقم کی ضرورت ہے کہ میں اپنی بیٹی کے جہیز کا بندوبست کر سکوں اور بارات میں آنے والے مہمانوں کا اچھے طریقے سے استقبال کر سکوں۔ آپ میں سے کچھ لوگ مجھے ذاتی طور پر جانتے ہیں اور جو نہیں وہ تصدیق کر سکتے ہیں۔ میں آپ کا شکر گزار رہوں گا۔ شکریہ“

یہ دو اعلان سننے کے بعد میں نے غور کرنا شروع کیا کہ لوگوں کا رجحان کس طرف ہے ”خدا کے گھر کی طرف یا خدا کے بندے کی طرف“ ۔ تو میں نے یہ مشاہدہ کیا کہ لوگ خدا کے گھر کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں۔ منظر یہ تھا کہ کوئی 5000 کی رسید لے رہا تھا تو کوئی 1000، کئی حضرات تو لاکھوں کی رسیدیں لے کر جنت میں گھر خرید رہے تھے۔ جبکہ دوسری طرف خدا کے بندے کو کوئی 500 کا نوٹ تو کوئی 100، 50 کا نوٹ تھما کر دل خرید رہے تھے۔ مگر لاکھوں والا کوئی بھی نہ تھا۔

مجھے نہیں معلوم کہ فضیلت خدا کے گھر کی زیادہ ہے یا خدا کے بندے کی۔ مگر ایک دن مولوی صاحب بتا رہے تھے کہ ”مومن کا مقام خدا کے گھر سے افضل ہوتا ہے“ ۔

یہ سب دیکھ کر میرے ذہن میں سوال دوڑنے لگے کہ یہ لوگ کس توحید کے قائل ہیں کہ جن کے اذہان میں خدا کی ذات مادہ پرستی کی حد تک محدود ہو گئی ہے۔ لوگوں کے اعمال سے محسوس ہوا کہ خدا کو اپنے بندے کی خوشی سے زیادہ سنگ مرمر کا وہ پتھر عزیز ہے (نعوذ باللہ) کہ جو ہر لمحہ پاؤں تلے روندا جاتا ہے۔ مجھ کو یہ بات تنگ کرنے لگی کہ خدا کو اس بندے (کہ جس کو خدا نے اپنا خلیفہ مقرر کیا ) کی خوشی سے زیادہ وہ خوشی عزیز ہے جس کی وجہ سے بے نمازی بھی اترائے کہ ہمارے محلے کی مسجد تو اتنی عالیشان ہے کہ اس میں ماربل لگا ہے۔

بے شک جہیز ایک لعنت ہے مگر باپ اپنے جگر کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اس کا بندوبست کرتا ہے۔ کیا خدا کو تمھاری ائر کنڈیشنڈ ما حول میں ادا کی ہوئی نماز افضل ہو سکتی ہے کہ جس مسجد کے پڑوس میں خدا کے بندے کا جگر رنج و الم کی گرمی سے جل رہا ہو؟ اگر میری رائے لی جائے تو میرے نزدیک خدا مادہ پرست ہر گز نہیں ہے۔ اس کو بلند و بالا مساجد ہر گز پسند نہیں ہو سکتیں جب تک اس کے بندوں کے حقوق پورے نہ ہو جائیں۔ وہ ائر کنڈیشنڈ ماحول میں پڑھی لمبی نماز سے زیادہ ثواب گرم ہوا والی مسجد میں پڑھی جانے والی مختصر نماز میں دے گا بشرطیکہ تم نے اس کے بندوں کے حقوق ادا کر دیے، اگر تم نے اس کے بندوں کے جگر ٹھنڈے کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا۔ وہ تم کو ساری جنت میں آزاد گھومنے کی اجازت دے دے گا اگر تم اس کے بندوں کے لیے اس زمیں کو جنت کرنے کی ٹھان لی۔ اس ذات کو ان خوبصورت مسجدوں سے غرض نہیں البتہ اپنے بندوں کے کٹھن اور مشکل ماحول کو خوبصورت اور آسان بنانے سے ضرور غرض ہے۔

خدا سب کا چندہ برائے مسجد قبول کرے۔ آمین!
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا
(اقبال)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
کفایت علی رضی کی دیگر تحریریں