اللہ کے نام پر ایک روپیہ دے دے
بس رواں دواں چلتے ہوئے ایک جگہ حسب عادت رک گئی اور ڈرائیور اتر کر چلا گیا ڈرائیور کے جانے کے بعد بس کے دروازے پر ایک ہیروئنچی آ کر کھڑا ہو گیا جیسے ڈرائیور کا انتظار کر رہا ہو پھر دروازے سے ہٹ کر بس کے اندر آ کر مسافروں سے بھیک مانگنے لگا مسافروں میں کسی نے اسے خیرات دی کسی نے نہیں دی جب بس کے تمام مسافروں سے بھیک مانگ چکا تو دوبارہ بس ڈرائیور کے دروازے پر جا کر کھڑا ہو گیا۔ اب چند ثانیوں میں ڈرائیور آ گیا۔ اس نے دیکھا کہ بس کے دروازے پر بھکاری کھڑا ہے تو ٹیڑھا منہ بنایا اور اس کے ساتھ بھکاری نے ڈرائیور سے کہا اللہ کے نام پر ایک روپیہ دے دے ڈرائیور نے بھکاری سے سوال کیا ایک روپیہ کا کیا کرے گا۔ بھکاری نے فوراً کہا ہیروئن پیوں گا۔
ڈرائیور نے بھکاری کو جھڑک کر کہا دیکھ تو اگر مجھ سے کھانا کھانے کو مانگتا تو میں تجھ کو ایک روپیہ نہیں پانچ دس روپے دے دیتا، لیکن تو مجھ سے زہر پینے کو مانگ رہا ہے۔ اس لئے تجھ کو ایک دھیلا بھی نہیں دوں چل جا بس کا ڈنڈا چھوڑ دے ڈرائیور نے غصے سے کہا لیکن ڈرائیور کے غصے کی پرواہ نہیں کی اور دروازہ پکڑے رکھا تو ڈرائیور نے بس کو ایک جھٹکا دیا اور پھر بھکاری نے دروازہ تو چھوڑ دیا لیکن جاتے جاتے کہنے لگا اللہ تیرا بیڑہ غرق کرے اور بھکاری کے اس کوسنے سے مجھے لگا جیسے میرا دل مٹھی میں آ گیا۔
وہ بھکاری ڈرائیور کو کوسنا دے کر چلا گیا اور بس ڈرائیور نے بس چلا دی لیکن ہوا یہ کہ بس معمول کے مطابق چلتی ہوئی اچانک ڈرائیور کا ہاتھ اسٹیرنگ پر سلپ کرنے کی وجہ سے ایک دم فٹ پاتھ پر چڑھ گئی اور پھر پہلے ڈرائیور اور کنڈکٹر بس سے نیچے اترا پھر ایک ایک مسافر کر کے اترے پھر ڈرائیور نے بس کو ہلکا کرنے کے لئے سارے مسافروں کو بس اتار کر بس کو فٹ پاتھ سے اتارنے کی کوشش کی اس کی کوشش میں سارے مسافروں نے بھی ساتھ دیا لیکن بس اڑیل گھوڑے کی طرح ٹس سے مس نہیں ہوئی اب ڈرائیور فٹ پاتھ پر کھڑا خجل لہجے میں کہہ رہا تھا۔ مجھے فقیر کو خیرات دے دینی چاہیے تھی۔
میرا بھی ذاتی یہی خیال ہے کہ کوئی سوالی جب اللہ کے نام پر مانگ رہا ہو تو اس کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاؤ اس وقت ہیروئن بھکاری کے لئے کھانے سے بڑھ کر اہم تھی۔ اس وقت منشیات کی وبا نے ملک کی نوجوان نسل کی صحت پر شب خون مارا ہے۔ کوئی شہر، کوئی دیہات، اسکول، کالج، جامعات منشیات کے مختلف آئٹموں سے محفوظ نہیں۔ چرس عام بکتی ہے۔ کرسٹل، لوشن، کوکین، افیون، بھنگ گلی کوچوں میں دستیاب ہے۔ منشیات کے عادی افراد کے لیے سرکاری اسپتالوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ حکومت کی ترجیحات میں منشیات شامل نہیں۔ کیونکہ اقتدار کا نشہ ہیروئن سے بڑھ کر ہے۔
ضروری ہے کہ لیاری، روتھ فاؤ سول اسپتال، جناح اسپتال اور ملک کے سرکاری اسپتالوں میں منشیات کے وارڈ اور اس کے معالجاتی شعبہ قائم ہونا چاہئیں، لاکھوں پاکستانی زہر کھا کر مر رہے ہیں۔ مسیحا خاموش ہیں۔ بہرحال جو باضمیر لوگ منشیات کے خاتمہ کے لیے سرگرم ہیں۔ پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2013 میں 70 لاکھ کے قریب لوگ منشیات کے عادی تھے۔ تاہم ایک اندازے کے مطابق اب یہ تعداد بڑھ کر ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔
لاہور کے علاقے میاں میر میں رہنے والے نشے کے عادی کا کہنا ہے کہ ان کے والد ایک انجینیئر تھے اور وہ تین بہن بھائی ہیں۔ اور کالج میں داخلہ لینے کے بعد دوستوں کے ساتھ چرس اور شیشہ پینا شروع کر دیا۔ شوق کب مجبوری میں بدل گیا پتہ ہی نہ چلا۔ کچھ عرصے بعد ایک دوست نے ہیروئن پینے کی طرف راغب کیا اور آہستہ آہستہ کبھی کبھار ہیروئن کی عادت مستقل ہو گئی۔ جب ان کی شادی کی گئی تو گھر والوں کو معلوم نہیں تھا کہ وہ منشیات کے عادی ہوچکے ہیں۔
نشے کی لت اور گھر والوں کی نفرت کے باعث زندگی میں ہی قبرستان کو رہائش بنا رکھا ہے۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی منشیات کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ شہروں اور دیہاتوں کے بازاروں انسداد منشیات مہم پنجاب کے کنسلٹنٹ ذوالفقار حسین کے مطابق اپریل میں لاک ڈاؤن کے دوران لاہور کی مختلف سڑکوں، باغوں اور پارکوں میں منشیات کے عادی افراد کی 51 لاشیں ملیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک تشویش ناک صورت حال ہے کیونکہ اس سے قبل ہر ماہ 24 سے 28 منشیات کے عادی افراد کی لاشیں لاہور کے مختلف علاقوں سے ملتی تھیں۔ ذوالفقار حسین کے مطابق اس وقت چرس، افیون، ہیروئن، شیشہ، برشاشا، شراب، کوکین اور نشہ آور امپورٹڈ چیونگ گم کا نشہ استعمال ہو رہا ہے۔
معاشرے کے افراد کے لئے میرا پیغام ہے کہ اپنے بچوں پر ٹائم خرچ کیجئے تاکہ وہ باہر کی دنیا میں بھٹکنے سے محفوظ رہیں
تحریر و تلخیص۔
سیدہ زائرہ عابدی۔


