سرکار فتویٰ آ گیا ہے۔ فتویٰ کیا ہوتا ہے۔ ہم دین اسلام کے پیروکاروں میں شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جو اس کے معانی اور مفہوم سے نا آشنا ہو لیکن وہ محترم علمائے دین جن کے کاندھوں پر قوم کی پیشوائی کی فریضہ ہوتا ہے کیا اس کے جاری کرنے کے اثرات و ثمرات سے واقف ہوتے ہیں۔
فتویٰ دینا ایک بہت اہم منصب ہے اس منصب کو پانے کے لئے علمائے کرام کو بہت علمی محنت کرنا ہوتی ہے تب جا کر ان کو فتویٰ دینے کا منصب عطا ہوتا ہے لیکن تاریخ کی ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے جب میں نے برصغیر کے غیر منقسم ہندوستان میں انگریز کے آنے کے بعد کی تاریخ پڑھی تو مجھے حیرت اور دلی تکلیف سے گزرنا پڑا۔
اس زمانے میں پہلا فتویٰ دیا گیا کہ ایک بدیسی قوم کے آ جانے کے بعد اب ہندوستان رہنے کے قابل ملک نہیں ہے اس لئے رہائش کے لئے کسی اسلامی ملک کا انتخاب کرنا ہو گا چنانچہ نگاہ انتخاب نے افغانستان کو جائے رہائش کے لئے موزوں قرار دیا اس فتوے کی پیروی پچیس ہزار خاندانوں نے کی اور اپنا مال و اسباب لہلہاتے کھیت و کھلیان بیچے اور اور بیل گاڑیوں پر اپنی نقل مکانی کا آغاز کیا۔
Read more