محمد عامر: پاکستانی فاسٹ بولر نے ’مزید انٹرنیشنل کرکٹ نہ کھیلنے کی خواہش‘ پی سی بی کو بتا دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد عامر
Getty Images
فاسٹ بولر محمد عامر نے جمعرات کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو واضح طور پر مطلع کیا ہے کہ وہ مزید انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کی خواہش نہیں رکھتے لہذا آئندہ کسی بھی انٹرنیشنل میچ کے لیے ان کے نام پر غور نہ کیا جائے۔

حال ہی میں پاکستانی بولر نے ٹیم منیجمنٹ پر مبینہ طور پر انھیں ذہنی اذیت دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ’موجودہ ٹیم منیجمنٹ کے ساتھ کھیلنے کا اب ارادہ نہیں رکھتے۔‘

جمعرات کو عامر نے پی سی بی کو باضابطہ طور پر اس بارے میں مطلع کردیا ہے کہ وہ مزید انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنا نہیں چاہتے۔ پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم خان نے محمد عامر سے ان کی ریٹائرمنٹ سے متعلق خبر کے سلسلے میں رابطہ کیا تھا۔

پی سی بی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ محمد عامر کا ذاتی فیصلہ ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

عامر: بڑے میچ کا بڑا بولر

’محمد عامر دنیا کے مشکل ترین بولر ہیں‘

محمد عامر نے ٹیسٹ کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا

وقار یونس: وہاب، عامر نے ٹیسٹ نہ کھیلنے کے فیصلے سے پاکستان کو نقصان پہنچایا

بات یہاں تک کیسے پہنچی؟

سنہ 2019 میں محمد عامر نے، جو ایک وقت میں پاکستان کے صف اول کے فاسٹ بولر اور پہلی ترجیح سمجھے جاتے تھے، ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس نے ردعمل دیا تھا کہ عامر نے دورۂ آسٹریلیا سے قبل اچانک ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کر کے پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ لیکن عامر محدود اوورز کی کرکٹ پر زیادہ توجہ دینا چاہتے تھے۔

حال ہی میں محمد عامر نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ اس وقت کرکٹ چھوڑ رہے ہیں کیونکہ ’موجودہ منیجمنٹ کے ساتھ ان کا کرکٹ کھیلنا ممکن نظر نہیں آرہا۔‘

محمد عامر کا کہنا ہے کہ وہ کرکٹ سے دور نہیں ہوئے تاہم انھیں ’دور کرنے کی کوشش‘ کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق جس طرح کا ماحول بن چکا اور جس طرح ’انھیں سائیڈ لائن کیا گیا ہے‘ وہ سب کے سامنے ہے۔

محمد عامر نے اس انٹرویو میں یہ بھی کہا ہے کہ انھیں ایک طرح سے ’ویک اپ کال‘ اس وقت مل گئی تھی جب نیوزی لینڈ کے دورے کے لیے اعلان کردہ 35 کھلاڑیوں میں انھیں شامل نہیں کیا گیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر پنتیس کھلاڑیوں میں بھی ان کا نام نہیں آتا تو پھر انھیں دیکھنا پڑے گا کہ کس طرح اپنے مستقبل کے پلان کے لحاظ سے کرکٹ کو جاری رکھ سکیں۔

محمد عامر کا کہنا ہے کہ جس طرح کا ماحول بن چکا ہے اس میں انھیں نہیں لگتا کہ وہ موجودہ ٹیم منیجمنٹ کے ساتھ کرکٹ کھیل سکیں کیونکہ بقول ان کے انھیں ’ذہنی طور پر ٹارچر کیا جارہا ہے‘ اور وہ اب ’مزید ٹارچر برداشت نہیں کرسکتے۔‘

محمد عامر

Getty Images
ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنے کا محمد عامر (بائیں) کے فیصلے پر ہیڈ کوچ مصباح الحق (دائیں) کا کہنا تھا کہ جب آپ کرکٹرز پر سب کچھ خرچ کرتے ہیں تو پھر ان کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ملک کو کچھ واپس کریں

محمد عامر کا کہنا ہے کہ وہ 2010 سے 2015 تک بہت ٹارچر دیکھ چکے ہیں اور ایک واقعہ جو ان کے ساتھ ہوا وہ اس کی سزا کاٹ چکے ہیں۔

محمد عامر کا کہنا ہے کہ بار بار یہ کہہ کر انھیں ٹارچر دیا جارہا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان پر بہت سرمایہ کاری کی ہے۔ ’حقیقت یہ ہے کہ صرف دو لوگ ایسے ہیں جنھوں نے انوسٹمنٹ کی۔ ان میں ایک نجم سیٹھی اور دوسرے شاہد آفریدی ہیں جنھوں نے مشکل وقت میں ساتھ دیا کیونکہ باقی پوری ٹیم یہ کہہ رہی تھی کہ محمد عامر کے ساتھ نہیں کھیلنا۔‘

محمد عامر کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں انھوں نے ایک ذاتی فیصلہ کیا لیکن اسے اس طرح پیش کیا گیا کہ جیسے ’میں اپنے ملک کے لیے کھیلنا نہیں چاہتا۔‘

وہ سوال کرتے ہیں کہ ’کون ہے جو اپنے ملک کے لیے کھیلنا نہ چاہتا ہو؟‘

عامر سمجھتے ہیں کہ ان کے اس فیصلے کو لیگ کرکٹ کے ساتھ منسلک کردیا گیا حالانکہ ان کی کرکٹ میں واپسی ’بنگلہ دیش لیگ کے ذریعے ہی ہوئی تھی‘ اور اس وقت تو ان کے پاس بہترین وقت تھا کہ وہ صرف لیگ کرکٹ کھیلنے کے بارے میں کہہ دیتے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر ایک دو مہینے کے بعد کبھی بولنگ کوچ ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ’ٹیم کو دھوکہ دے گیا‘، کبھی کہتے ہیں کہ ’اس کا ورک لوڈ نہیں تھا‘ اور کبھی ’پنتیس کھلاڑیوں میں شامل نہیں کیا جاتا۔‘

وقاریونس نے کیا کہا تھا؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس نے تیرہ دسمبر کو نیوزی لینڈ سے ہونے والی میڈیا ٹاک میں ایک سوال کے جواب میں یہ بات واضح کیا تھا کہ ان کا نہیں خیال کہ محمد عامر ’ورک لوڈ کی وجہ سے ٹیم سے باہر ہوئے۔‘

وقار کا کہنا تھا کہ محمد عامر وائٹ بال کرکٹ کھیل رہے ہیں اور اس وقت بھی وہ ایک لیگ (لنکا پریمیئر لیگ) میں نظر آرہے ہیں لہذا ان کے کرکٹ چھوڑنے کی وجہ ورک لوڈ نہیں بلکہ انھوں نے ’جب ٹیسٹ کرکٹ چھوڑی تھی تو یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا۔‘

محمد عامر ٹوئٹر پر متحرک

وقار یونس کے اس انٹرویو کے بعد ایک صحافی نے ٹوئٹر پر ان سے سوال پوچھا کہ ’عامر نے کرکٹ کیوں چھوڑی ؟‘ اس پر عامر نے جواباً لکھا کہ ʹپھر یہ سرکار وقار یونس صاحب ہی بتاسکتے ہیں ۔اللہ ہدایت دے جو ایسی سوچ رکھتے ہیں۔‘

محمد عامر ٹوئٹر پر اس وقت بھی خاصے متحرک نظر آئے جب انھیں نیوزی لینڈ کے دورے کے لیے اعلان کردہ پنتیس کھلاڑیوں میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا تھا ’مصباح صاحب ہی بتا سکتے ہیں لیکن پاکستانی ٹیم کے نیک خواہشات۔‘

عامر سے ٹیم منیجمنٹ کیوں ناخوش؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے گذشتہ سال جب آسٹریلیا کا دورہ کیا تو اس سے قبل محمد عامر اور وہاب ریاض ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کرچکے تھے۔

وقار یونس

AFP
وقار یونس: عامر نے دورۂ آسٹریلیا سے قبل اچانک ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کر کے پاکستان کو نقصان پہنچایا

ان دونوں کے اس فیصلے کو ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقاریونس نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ مصباح الحق کا کہنا تھا کہ جب آپ کرکٹرز پر سب کچھ خرچ کرتے ہیں تو پھر ان کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ملک کو کچھ واپس کریں۔

وقار یونس کا کہنا تھا کہ قومی ٹیم کے مشکل وقت میں دونوں کا ٹیسٹ کرکٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ انتہائی تکلیف دہ تھا۔ ٹیم کو نوجوان ناتجربہ کار فاسٹ بولرز پر انحصار کرنا پڑا تھا۔ اگر یہ دونوں بولرز ایسا چاہتے تھے تو انھیں زیادہ بہتر انداز میں ایسا کرنا چاہیے تھا۔ ’جس وقت کا انھوں نے انتخاب کیا وہ مناسب نہیں تھا۔‘

وقار یونس نے اس سال انگلینڈ کے دورے کے موقع پر یہ بات ضرور کہی تھی کہ محمد عامر اگرچہ ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ چکے ہیں لیکن محدود اوورز کی کرکٹ میں وہ اب بھی ٹیم پلان میں شامل ہیں۔

محمد عامر کی حالیہ کارکردگی

سپاٹ فکسنگ میں پانچ سال کی سزا مکمل ہونے کے بعد محمد عامر کی انٹرنیشنل کرکٹ میں کارکردگی ملی جلی رہی ہے۔

2017 کی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں ان کے خطرناک سپیل نے پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا تاہم اگلے سال ہونے والے ایشیا کپ میں وہ خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپائے تھے۔

گذشتہ سال انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ میں انھوں نے سترہ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

محمد عامر نے گذشتہ سال ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب محدود اوورز کی کرکٹ پر زیادہ توجہ دینا چاہتے ہیں۔

پانچ سالہ پابندی سے قبل انھوں نے 14 ٹیسٹ میچوں میں 29 کی اوسط سے 51 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ واپسی کے بعد کھیلے گئے 22 ٹیسٹ میچوں میں وہ 31 کی اوسط سے 68 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے تھے۔

محمد عامر اب تک 61 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 81 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں جبکہ 50 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 59 ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21709 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp