امن کی تلاش کا ایک نیا سفر


کینیڈا ون ٹی وی پر امن و آشتی کے حوالہ سے ایک علمی پروگرام ”ان سرچ آف پیس“ ہر ہفتے نشر ہو رہا تھا جو گزشتہ دنوں 11 اقساط کے بعد اختتام پذیر ہو گیا اس پروگرام میں شریک گفتگو دو مشہور سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر کامران احمد اور ڈاکٹر خالد سہیل تھے۔ اس پروگرام کا فارمیٹ بہت ہی دلکش اور دلفریب تھا اور ایک اہم موضوع ”روحانیت“ جو کہ اپنی تہہ میں بہت سی جہتیں اور پرتیں لیے ہوئے ہے اور ایک لحاط سے کنفیوزنگ ٹرم ہے، پر ایک سیر حاصل گفتگو کی گئی اور سب سے بڑھ کر اس کی جڑیں ہارٹ ٹو ہارٹ کنکشن میں ڈھونڈنے کی سعی کی گئی۔

جیسا کہ شاید رومی نے کہا تھا کہ ”جب ہم مر جائیں تو ہم کو قبروں میں تلاش مت کرنا بلکہ ہمیں لوگوں کے دلوں میں تلاش کرنا ہم وہیں ملیں گے“ ڈاکٹر کامران نے لفظ روحانیت کے گرد بنے ہوئے پراسراریت کے جال کو کاٹ کر روحانیت کے حقیقی مفہوم سے آشنا کرنے کی کوشش کی اور امن و آشتی کے اس تسلسل کو بڑی خوبصورتی سے انسانی رشتوں کے ساتھ جوڑا۔ ڈاکٹر خالد سہیل نے نفسیاتی طور پر انسانی رشتوں کی پراسراریت، مسائل اور گھمبرتاؤں پر بڑی تفصیل سے گفتگو کی اور اس طرح سے یہ شاندار سیریز اختتام پذیر ہوئی۔

آج سے تقریباً دو سال پہلے ڈاکٹر بلند اقبال اور ڈاکٹر خالد سہیل نے 35 اقساط پر مشتمل ایک علمی سیریز ”ان سرچ آف وزڈم“ کے نام سے کی تھی جسے دنیا بھر میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔ یہ سیریز جدید اور قدیم وزڈم کا ایک حسین امتزاج تھی اور نئے سیکھنے اور جاننے والوں کے لیے ایک طرح سے انسائیکلو پیڈیا کا درجہ رکھتی تھی۔ یہ علمی سیریز سدھارتھا کے روحانی سفر سے شروع ہو کر ایوولوشن آف ہیومن پر اختتام پذیر ہوئی تھی اور یہ تمام 35 پروگرام ان سرچ آف وزڈم کے نام سے ”یو ٹیوب“ پر موجود ہیں۔

شعور وآگہی کے متلاشی ان سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ اس علمی سیریز کے اختتام کے بعد سے دونوں ڈاکٹرز کی طرف سے ایک طویل خاموشی تھی یا شاید نئے علمی سفر پر روانہ ہونے کے لیے رخت سفر باندھ رہے تھے۔ خاص طور پر پاکستانی طلباء کے اندر بہت بے چینی تھی کیونکہ اس طرح کی اوپن علمی ڈسکشن کا پاکستان میں چلن نہیں ہے اور بہت سے علمی موضوعات تو شجر ممنوعہ کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ بے چارے بڑے عرصہ سے اپنے علمی مسیحاؤں کی راہ تک رہے تھے کہ اچانک ڈاکٹر بلند اقبال نے ایک طویل خاموشی توڑی اور اپنی فیس بک وال پر ان سرچ آف پیس کے ایک نئے علمی تسلسل کی نوید سنائی اور گزشتہ دنوں ”ان سرچ آف وزڈم“ کے نئے تسلسل ان سرچ آف پیس کی 36 ویں قسط پیش کی گئی جو کہ نوبل انعام یافتہ معیشت دان ڈاکٹر یونس کی شخصیت کے حوالہ سے تھی۔

یہ سلسلہ امن و آشتی کے 12 پیامبروں پر مشتمل ہوگا اور اگلی 11 شخصیات کون ہوں گی؟ اس کے لیے آپ کو ہر ہفتے کینیڈاؤن ٹی وی پر نشر ہونے والا پروگرام ان سرچ آف پیس دیکھنا ہوگا۔ ہم دونوں ڈاکٹر صاحبان کے مشکور ہیں جنہوں نے اس علمی تسلسل کو دوبارہ شروع کر کے ہمارے سماج کے مرجھائے ہوئے طلباو طالبات کے چہروں پر خوشی بکھیر دی اور ایک بار پھر نئی سے نئی کتاب سے متعارف ہونے کا موقع فراہم کیا۔ ڈاکٹر صاحبان ہم ایک کنٹرولڈ سماج کا حصہ ہیں اور ہمارا نصاب تعلیم بھی ”چوں چوں کا مربہ“ ہے اور صرف ”رٹو توتوں“ کے لیے موزوں ہے اور مقابلے کے امتحان میں بھی یہی رٹو توتے سسٹم کا حصہ بنتے ہیں جبکہ تخلیقی لوگ اس نمبر گیم میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

conceptual study کا ہمارے نظام تعلیم سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہے اور سب سے بڑ کر ہمیں ان علمی پروگرام کی وجہ سے تازگی کا احساس ہوا کیونکہ ہماری سماجی ڈکشنری اور فلسفے میں چند گنے چنے نام اور فارمولے ہیں جن کی گردان کرتے کرتے ہم ماسٹرز کر لیتے ہیں اور پھر ساری زندگی اسی محدود پراسس کی جگالی کرتے رہتے ہیں۔ یہی جگالی کرنے والے ہمارے میڈیا کے سینئر تجزیہ کار اور نصاب تشکیل دینے والی اتھارٹی یا کمیٹی کے گرو بن جاتے ہیں اور بیچارے طلبا وطالبات اسی گھسے پٹے سسٹم کا ساری زندگی طواف کرتے رہتے ہیں اور جو سسٹم کی باریکیوں کا گیان رکھتے ہیں اور شعوری سطح پر میچور ہوتے ہیں وہ تاریک راہوں میں گم ہو جاتے ہیں۔

ایسی صورتحال میں آپ کے علمی پروگرام اس تخلیقی طبقے کے لیے ایک طرح کا مرہم کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم اس علمی تسلسل کے ذریعے سے ایسی ایسی نایاب کتابوں سے متعارف ہوئے جن کا شاید نام ہی ہم نے پہلی بار سنا تھا اور اس کے علاوہ تصورات کے نئے جہانو ں سے متعارف ہوئے۔ شعور کی یہ نئی شمع جلانے پر ہم آپ کے تہہ دل سے مشکور ہیں اور خاص طور پر رئیس کینیڈا ون ٹی وی بدر منیر چوہدری اور بہت ہی پیارے دوست عامر اختر کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے ہمیں ایسی علمی شخصیات سے متعارف کروایا۔

Facebook Comments HS