پروفیسر ڈاکٹر غنی الاکرم سبزواری کی کتاب: احتساب قبل یوم الحساب
یہ کتاب ”احتساب قبل یوم الحساب“ پروفیسر ڈاکٹر غنی الاکرم سبزواری صاحب نے لکھی ہے جس کا پہلا ایڈیشن 2005 میں شائع ہوا اور دوسری اشاعت 2019 میں ہوئی۔ اس کتاب میں تیرہ ( 13 ) مختلف عنوانات پر بات کی گئی ہے۔ تمام مضامین روزمرہ کی زندگی اور مسائل پر منبی ہیں جن کا اسلام اور قرآن مجید کی روشنی میں حل بیان کیا گیا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر غنی الاکرم سبزواری صاحب کا شمار پاکستان کے عظیم اسکالرز میں ہوتا ہے۔ لائیبریری سائنس کے شعبے میں آپ نے لازوال خدمات انجام دی ہیں۔ آپ کی تحریر کردہ کتابیں کراچی سے لے کر پشاور تک اعلٰی تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل ہیں۔
جامعہ کراچی کے شعبہ لائیبریری سائنس کے سربراہ رہے اور پھر 27 سال کا طویل عرصہ مکہ مکرمہ کی جامعہ ام القربٰی سے وابستہ رہے۔ 1966 میں لائیبریری پروموشن بیورو قائم کیا جس نے گزشتہ 54 سالوں میں بے شمار کتابیں شائع کی ہیں۔ تصنیف و تالیف میں دلجمعی کے ساتھ مصروف رہتے ہیں اور ہر سال کوئی نہ کوئی کتاب ضرور لکھتے ہیں۔
احتساب قبل یوم الحساب تحریر کرنے کا مقصد عوام الناس کو اچھی باتیں بتانا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی بہتر انداز میں گزار کر اللہ تعالٰی کی خوشنودی حاصل کر سکیں۔ 2005 میں اس کتاب کا پہلا ایڈیشن شائع ہوا جس کی دنیا کے ہر کونے میں پذیرائی ہوئی۔
دوسرا ایڈیشن 2019 میں کچھ تبدیلیوں اور نئے عنوانات کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ یہ بہت اعلٰی کتاب ہے جس کو پڑھ کر ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اساتذہ کرام کو چاہیے کہ طلبا و طالبات کو اس کتاب کو پڑھنے کی طرف راغب کریں۔ مزید یہ کہ اس کتاب کو پاکستان کی ہر لائیبریری میں دستیاب ہونا چاہیے۔
جب اس کتاب کو پڑھتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ان واقعات و حالات سے ہم گزر رہے ہیں کیونکہ اس کتاب میں ان تمام مسائل کا نہ صرف ذکر کیا گیا ہے بلکہ ہر مسئلے کا حل قرآنی آیت بمعہ ترجمہ اور حوالہ سے اجاگر کیا گیا ہے۔
قرآن مجید جب ہم تفسیر سے پڑھتے ہیں تب ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں ہر قدم پر ہدایت عطا کی ہے اور قرآنی آیات کے ذریعے بہت خوبصورت انداز میں ہماری رہنمائی بھی کی ہے۔
اس کتاب میں مصنف نے اپنے تجربات اور ان سے حاصل کردہ سبق اپنے پڑھنے والوں کے لئے لکھے ہیں اور قارئین کی رہنمائی کی ہے تاکہ ہم سنبھل جائیں اور ان کے تجربات سے سیکھ سکیں اور اپنا احتساب خود کر لیں تاکہ اصل احتساب کے دن ہمیں اپنے نامہ اعمال پر شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔ اللہ تعالی کی ذات بہت اعلی و عظیم ہے۔ جیسے والدین اپنی اولاد کی خطاؤں کو معاف کر دیتے ہیں بالکل اسی طرح اللہ تعالی ہمارا انتظار کرتے ہیں اور ہمارے معافی مانگنے پر معاف کر دیتے ہیں اور یہی بہتر ہے کہ ہم اپنے رب العالمین سے اس کی رحمت ’محبت اور مغفرت اسی دنیا میں سفر آخرت سے قبل حاصل کر لیں۔
اس کتاب میں اللہ تعالٰی سے قرب کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب ہم سجدہ ریز ہوتے ہیں اللہ تعالٰی کے حضور حاضر ہوتے ہیں تو ہمارے اور اللہ تعالٰی کے درمیان ایک تعلق بن جاتا ہے اور اگر ہم یہ خیال کریں کہ اللہ تعالٰی ہماری سرگوشی سن رہے ہیں تو ناقابل بیان سرور حاصل ہوتا ہے۔
اللہ تعالی بھی اپنے بندوں کی سنتے ہیں اور اپنے فضل سے نوازتے ہیں لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ ہماری دعائیں پوری نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالی کی توجہ نہیں تو ایسا گمان بھی غلط ہے کیونکہ اللہ تعالی اپنے بندے سے کبھی غافل نہیں ہوتا۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ جو دعائیں قبول نہیں ہوتیں وہ قیامت کے روز ہماری نیکیوں کے پلڑے میں ڈال دی جائیں گی تو ہم یہی کہیں گے کہ کاش دنیا میں ہماری کوئی دعا قبول نہ کی گئی ہوتی۔
اس کتاب میں زندگی گزارنے کے تقریباً ہر پہلو پر بات کی گئی ہے اور تنبیہ کی گئی ہے کہ اپنا محاسبہ خود کر لیں تاکہ بڑی مشکل سے بچ سکیں۔ اس دنیا میں ہم مہمان کی حیثیت سے آئے ہیں اصل زندگی وہ ہے جو یہاں کیے گئے اعمال پر مشتمل ہے۔
اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ ہمیں اللہ تعالٰی نظر نہیں آتے اسی لیے ہم غلط کام کرتے ہوئے ڈرتے نہیں ہیں حالانکہ عام حالات میں ہم بہت سارے کام صرف لوگوں کے ڈر سے نہیں کرتے ’بس یہیں ہم سنگین غلطی کر جاتے ہیں کیونکہ ہمیں اللہ تعالٰی کا ڈر ہونا چاہیے ناگہانی آفات اسی کی طرف سے آتی ہیں جو اس امر کا احساس دلاتی ہیں کہ وہ کہیں آس پاس ہے اس کے عذاب سے روح تک کانپ جاتی ہے بس ہر وقت اپنے رب کو اپنے قریب سمجھیں اور اپنی خطاؤں اور کوتاہیوں پر توبہ کرتے رہیں اور اس کے احسانات اور نعمتوں پر شکر کرتے رہیں۔

