ڈاکٹر تھانگ منگ شنگ سے ملاقات


بیجنگ میں مجھے کس ادیب اور کس شخصیت سے ملنے کی ضرورت ہے؟ شعیب بن عزیز سے بہتر بھلا میرا کون صلاح کار ہو سکتا ہے؟ مدعا گوش گزار کیا۔

”ظفر محمود سے بات کرو۔ چین پر اتھارٹی کی سی حیثیت رکھتا ہے۔“ ظاہر ہے اب ظفر محمود کو ہی آواز دینی تھی۔ سو دی۔ انہوں نے ایک فون نمبر لکھوایا۔ تھانگ منگ شنگ کا نام بتایا۔ یہ بھی کہا کہ موصوف شعبہ پاک چین سٹڈیز پیکنگ یونیورسٹی کے سربراہ ہیں۔ ان سے ملنا آپ کے لیے ضروری بھی ہے اور فائدہ مند بھی۔

عمران (داماد) نے سفارت خانے کے پریس آتاشی سے بات چیت کے بعد بتایا کہ موصوف پاک چین دوستی کے حوالے سے بہت متحرک شخصیت ہیں۔

پس تو آج تھانگ منگ شنگ سے ملنے جانا تھا۔ کل شام عمران نے بات کی تھی۔ وقت مانگا تھا۔ اپنا حوالہ دیا تو تصدیق مانگی جو اس نے فوراً دی اوردس بجے صبح کا وقت طے ہو گیا تھا۔

پیکنگ یونیورسٹی کہیں اللہ میاں کے پچھواڑے ہی تھی۔ عمران نے اسے بیجنگ کا جنوب کہا تھا۔ میرے حسابوں سمت خواہ مشرقی ہو یا مغربی، شمالی ہو یا جنوبی سین ہرجا ایک سے ہوں گے سو فی صد درست تھی۔ وہی نظر نواز عمارتیں، کہیں آسمان کو چھوتی اور کہیں درمیان میں لٹکتی مٹکتی، وہی اور ہیڈ برجوں پر چڑھتے اترتے لوگ، وہی کناروں پر سائیکلوں اور سیکوٹیوں پر بیٹھی عورتیں اور لڑکیاں، وہی ٹریفک کا اژدھام، گاڑیوں کی ریل پیل، وہی میرے حاسدی دل سے اٹھتی ہوکیں۔

یونیورسٹی بارونق جگہ پر تھی۔ شاندار عمارتوں کے سلسلے، سرسبز لان اور طلبہ کی دائیں بائیں آنیاں جانیاں۔ اپنا وقت یاد آیا تھا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی یاد آئی تھی۔ جہاں کہیں چین نواز اور کہیں روس نواز لڑکیاں ماؤ اور لینن کے نعرے لگاتی تھیں۔ تب سوچا کرتی تھی یہ ماؤ اور لینن کتنے بڑے لیڈر ہیں؟ کوئی بیٹھا چین میں اور کوئی روس میں ہے۔ پر اجنبی ملکوں کے لڑکے لڑکیاں ان کے لیے پاگل ہو رہے ہیں۔ اورتب کیا میں نے لمحہ بھر کے لیے بھی کبھی سوچا تھا کہ میں عمر کے کسی حصے میں ان بڑے لوگوں کے دیس جاؤں گی۔ یقیناً نہیں۔

گاڑی جب پارکنگ ایریا میں پارک کی تو وقت یہی کوئی پونے دس کا تھا۔ ایک دو لوگوں سے پوچھا۔ کچھ صحیح چلے کچھ غلط۔ ڈپارٹمنٹ تو دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ سامنے ایک سہ منزلہ عمارت تھی۔ سوچا چلو ذرا گھومتے پھرتے ہیں۔ ایک جانب قدرے ویرانے میں اترتی سڑک پر ہولیے۔ پھر کال کی۔ تھوڑی سی راہنمائی اور جھیل کی طرف آنے کی ہدایت کی گئی۔ راستے پتھریلے تھے۔ باڑیں خوبصورت اور گردونواح حسن و رعنائی سے بھرا ہوا تھا۔ خصوصی طور پر وہ بلندوبالا منفرد ٹائپ کا پگوڈا جس کے عین سامنے انتظار کا کہا گیا تھا۔ سامنے ایک وسیع و عریض جھیل پھیلی ہوئی تھی۔ مگر کشتیاں کہیں نہیں تھیں؟ بھلا یونیورسٹی کی جھیل ہو اور کشتیوں کے بغیر۔ رومانس کہاں ہوتا ہوگا؟ چینی کیا اتنے روکھے پھیکے سے ہیں۔

اب داماد سے سن گن لینے لگی۔ ساتھ ہی تصویر کشی بھی شروع کردی۔

ساس اور داماد تصویر کشی میں مصروف تھے جب وہ تشریف لائے۔ درمیانی قامت پر قدرے فربہی مائل جسم۔ محبت سے ملے چند تصاویر ان کے ساتھ بھی بنوائیں۔ اور آفس کی طرف بڑھے جو قریب ہی ایک مختصر سی دو منزلہ عمارت میں تھا۔ عمارت میں سناٹا تھا۔ نائب قاصد یا چپڑاسی نام کا کوئی بندہ نہ بندے کی ذات کا یہاں وجود نہ تھا۔ کمرہ اوپر کی منزل میں تھا مگر خدا کا شکر کہ سیڑھیاں انتہائی آرام دہ تھیں۔ اتنی بڑی پوسٹ کے بندے کا کمرہ چھوٹا ہی نہ تھا بلکہ سادگی میں بھی اپنی مثال آپ تھا۔

میز کمپیوٹر، پرنٹر اور ریسرچ کے پیپروں سے بھری کچھ کہانیاں سناتی تھی۔ میرے حسابوں ان کی پوسٹ یا عہدہ اکیسویں گریڈ سے کیا کم ہوگا؟ مگر پاکستان جیسے غریب ملک میں اس عہدے کے بندے کی دفتری شان و شوکت اور کروفر کا دیکھنے سے تعلق ہوتا ہے۔ کمرے کے کسی کونے میں کسی چھوٹی موٹی میز پر کوئی الیکڑک کیٹل چائے یا قہوے کے کپ کوئی ٹی بیگز کا ڈبہ کچھ نہ تھا۔

کمرے کے جائزے سے فارغ نگاہیں اب ان پر جم گئی تھیں۔ ”کچھ پاکستان بارے اپنے تاثرات بتائیے۔ اتنا آنا جانا لگا رہتا ہے آپ کا۔“

کچھ بتانے کچھ کہنے کی بجائے سب سے پہلے انہوں نے ایک پاکستانی ادیبہ بارے پوچھتے ہوئے کہا۔ ”اب نام یاد نہیں آ رہا ہے۔ پر بقیہ بہت سے حوالے یاد تھے انہیں۔ غصیلی ہے۔ ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتی ہے۔ بحث بہت کرتی ہے۔ کالم نگاری کمال کی ہے۔ شاعرہ بھی ہے۔ عورتوں کے حقوق بارے بھی بڑی متحرک ہے۔“ بڑی معصومیت سی تھی لہجے میں۔ ”کشور ناہید کی بات کرتے ہیں شاید آپ۔“ ”ہاں ہاں“ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔

میری یادوں میں اپنا پہلی بار پاکستان جانا یاد ہے۔ پاکستان جانے کا ایک کریز تھا۔ میرے جانے کی خبر جب میرے قریبی عزیزوں کو ملی تو ان کی فرمائشیں شروع ہو گئیں۔ ہمارے لیے گھڑی لانی ہے۔ کوئی جوتوں کی بات کرتا تھا۔ 1980 سے 1987 تک کے دوران مجھے یاد ہے چینیوں کی پاکستان جانے والوں سے کچھ ایسی ہی فرمائشیں اور مطالبات ہوتے تھے۔ اس وقت 240 فی کس آمدنی ایک پاکستانی کی اور چینی کی 140 فی کس تھی۔ مگر اب معاملات کی صورت یکسر فرق ہو چکی ہے۔ آج پاکستانی فی کس 1600 اور چینی 4000 ہزار۔ اور یہ بھی کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ یہی وہ پاکستان ہے جس کو ہم 1970 میں اپنا استاد مانا کرتے تھے۔ 1960 میں اس کے کراچی جیسے شہر کو دیکھ کر حسرت سے کہتے کہ کاش ایسا ایک شہر ان کے پاس بھی ہو۔ جہاں اتنی فلک بوس عمارتیں ہیں۔

ایک دو پل کی خاموشی کے بعد پھر گویا ہوئے۔ چینی لیڈروں نے اپنے لوگوں کو ایک خواب دکھایا تھا۔ چین کی نشاۃ ثانیہ کے حصول کا خواب۔ چین کی پرانی اور نئی نسل کی امنگوں کا ترجمان جس میں اقتصادی، سیاسی، ثقافتی، سماجی اور ماحولیاتی ترقی جیسے اہم عناصر شامل تھے۔ ترقی کے اوائل 1987 کے دن جب دنیا سے کٹی ہوئی اس قوم کو صرف چھ انڈے اور آدھ کلو چینی پورے ماہ کے لیے ملتی تھی۔

اگر آج ہم دنیا کی دوسری اکنامک پاور ہیں تو تعاقب میں جدوجہد بھی بے مثال ہے۔ محض چالیس سال میں اس قوم اور ملک نے اپنے اہداف حاصل کئیے اور مزید کے لیے سرگرم ہے۔ ایسے ہی خواب ہماری حکومتوں نے پاکستانیوں کو بھی دکھائے۔ ان کی طرف بڑھنے اور ان کی تکمیل کرنے کو کہا اور دل سے چاہا کہ وہ کامیاب ہوں۔ مگر مجھے دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستانی حکومتیں سنجیدہ نہیں ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان اقتصادی ترقی میں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

میرے دل کی دنیا ان باتوں سے بڑی اتھل پتھل سی تھی۔ کیسی بد نصیب قوم ہیں ہم۔ اس تنزلی اور زوال کی وجوہات سے میں اپنے حسابوں آگاہ توتھی۔ مگر ڈاکٹر تھانگ کا نقطہ نظر کیا تھا؟ یہ جاننا بھی تو ضروری تھا۔ تو سوال ہوا اور جواب کچھ یوں تھا۔ میرے حسابوں آپ کی قوم میں چند چیزوں کا فقدان ہے۔ یہ ذہین ہیں۔ مگر پتہ مارکر کام کرنے کی عادت نہیں۔ شارٹ کٹ راستوں کے متلاشی رہتے ہیں۔ راتوں رات امیر بننا چاہتے ہیں۔ ویسے اثاثوں اور پیسوں کی تقسیم تو 5 فی صد کے ہاتھوں میں ہے۔ امیر غریب کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہے۔ سیاسی استحکام نہیں اور اسے پیدا ہونے بھی نہیں دیا جاتا۔ قابض لوگ نظام کی بہتری کو متاثرکرتے ہیں۔

اچھی مخلص، سمجھ دار اور ایماندار لیڈر شپ کا بھی بحران رہا۔ کچھ مخلص اور کرشماتی شخصیت کے لیڈر ملے بھی۔ وہ آئے بھی۔ انہیں کام کرنے کا موقع دینے کی ضرورت تھی۔ مگر سازشوں اور غیرجمہوری ہتھکنڈوں سے بساط سیاست ہی لپیٹ دی گئی۔ بھئی ٹانگیں نہ کھینچو۔ قومی نوعیت کے پروگرام کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتے۔ ان پروگراموں کا تسلسل حکومتوں کے آنے جانے سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ آئیڈیل لوگ اور آئیڈیل نظام کہیں نہیں ملتا۔ ہمارے ہاں ماؤ جیسے فکری لیڈر کے ہاں بھی غلطیوں کے ڈھیر ہیں۔ مل کر چلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کہیں خود پیچھے ہٹیں۔ کہیں انہیں ہٹائیں۔ ایک دوسرے کوspace دیں تاکہ انہیں بھی آسمان نظر آئے۔

میں پندرہ بیس سال سے پاکستان مسلسل آ جا رہا ہوں۔ پاکستان کو ٹھوس اقدام اٹھانے ہوں گے۔ گزشتہ پانچ سالوں سے سی پیک پر جس رفتار سے ترقی ہونی چاہیے۔ نہیں ہوئی۔

اگر میں صرف 2018 کی پاکستان جانے کی تفصیلات کا ذکرکروں تو یہی صرف دس کے قریب ہوتی ہیں۔ کہیں مختلف سمیناروں میں اور کہیں انڈسٹریل زون کارپوریشنوں پر بات چیت کے لیے۔ مگر مجھے بہت دکھ سے کہنا پڑرہا ہے کہ پاکستان میں کوئی 110 کے قریب زون ہیں لیکن ان کی پالیسیاں ہی واضح نہیں۔ سمینار وں کا رواج زیادہ بڑھ گیا ہے میری تمنا عملی طور پر سمیناروں کی ہے نہ کہ روٹین کی خانہ پریاں۔ نششتندوبرخاستند والی بات نہیں ہونی چاہیے۔ اہل شعور لوگوں کو ان سمیناروں میں پورا لائحہ عمل دیں۔ وقت کا تعین، ٹھوس اقدامات اور عمل ہو۔ پاکستان میں ترقی کی رفتار بہت تیز ہونی چاہیے ہے۔ اب چین میں تین چھٹیاں بھی وارہ ہیں پہلے بہت کم تھیں۔

پاکستانیوں کی ایک عادت سے بھی مجھے بہت شکایت ہے کہ ابھی دفاتر میں کام پوری طرح شروع بھی نہیں ہوا کہ چائے کے لیے گھنٹیاں بجنی شروع ہوجاتی ہیں۔ چائے اور وہ ماشا اللہ سے دودھ والی۔ اکثر تو کڑک والی پیتے ہیں۔ پھر یہ سلسلہ ہر میل ملاقاتی کی آمد پر جاری رہتا ہے۔

سچی بات ہے۔ میرا دلی تعلق اس ملک سے ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر آپ چائنا سے محبت کرتے ہیں تو پاکستان سے بھی محبت کریں۔

مگر۔ جملہ انہوں نے پورا نہیں کیا۔ خفیف سا مسکراتے ہوئے معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھا اور قدرے توقف سے بولے۔

اس لیے پیکنگ یونیورسٹی کا یہ پاکستان سٹڈیز ڈپارٹمنٹ تھا۔ جس کے وہ سربراہ تھے۔ پاکستان میں ان کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔

Facebook Comments HS