پشاور کے ہسپتال میں آکسیجن واقعے کا پس منظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خیبر پختون خواہ کے اہم خیبر ٹیچنگ ہسپتال (KTH) کے بعض سینئر ڈاکٹروں اور دوسرے ملازمین سے رابطے پر معلوم ہوا ہے کہ پانچ اور چھ دسمبر کی درمیانی رات ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کے باعث مریضوں کی ہلاکت مکمل طور پر ایک انتظامی نااہلی ہی ہے جس کے ذمہ دار اہم عہدوں پر فائز چند مخصوص لوگ ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مرنے والوں کی تعداد چھ یا سات نہیں بلکہ اس سے کم از کم چار گنا زیادہ تھی۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر ندیم خاور اس وقت ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ہیں اور تمام انتظامی امور انہی کے ہاتھ میں ہیں لیکن وہ اپنا ذاتی ہسپتال بھی چلاتے ہیں، پرائیویٹ پریکٹس بھی کرتے ہیں اور غیرملکی شہریت بھی رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر ندیم خاور ایم آئی ٹی کے قواعد و ضوابط حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہیں  لیکن اس ملک میں اس طرح کے سوالات پوچھنے کی روایت ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ اور چھ دسمبر کی رات ہسپتال میں آکسیجن کمی کے سبب ایک قیامت برپا ہوئی اور صرف کرونا وارڈ میں سات افراد ہلاک ہوئے جبکہ آئی سی یو اور چلڈرن وارڈ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہاں صورتحال کہیں زیادہ بگڑ گئی تھی۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ یہ المیہ رونما کیوں ہوا اور غفلت کہاں برتی گئی؟

کئی مہینے پہلے ڈائریکٹر ہیلتھ خیبر پختونخواہ نے بورڈ آف گورنرز (BOG) کو لکھا تھا کہ ہسپتال کو آکسیجن فراہم کرنے والی فرم کے ساتھ معاہدہ 2017ء میں ختم ہو چکا ہے لیکن حیران کن طور پر ابھی تک معاہدے کی تجدید نہیں کی گئی اس لئے فوری طور پر نیا معاہدہ کیا جائے تاکہ کوئی حادثہ رونما نہ ہو جائے۔ اس خط کے باوجود بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین نے ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرنے کی بجائے معاملے کو پس پشت ڈال دیا حتیٰ کہ بورڈ کا اجلاس تک نہیں بلایا گیا۔

آکسیجن کی فراہمی کا معاملہ ایڈہاک بنیادوں پر ایک طویل عرصے سے چلایا جاتا رہا یعنی دنوں کے حساب سے آکسیجن خریدی جاتی رہی جو غفلت اور لاپرواہی کی بدترین مثال ہے.

تقریبا دو مہینے پہلے ڈائریکٹر ہیلتھ نے ایک خط کے ذریعے دوبارہ آکسیجن معاہدے کے حوالے سے چیئرمین بورڈ آف گورنرز کو یاد دہانی کرائی لیکن اس اہم مسئلے کو پھر بھی اہمیت نہیں دی گئی اور معاملات جوں کے توں چلتے رھے۔ اس دوران کرونا کی دوسری تباہ کن لہر بھی آئی مگر آکسیجن فراہمی کے حوالے سے معاہدے کی تجدید نہیں کی گئی اور پھر پانچ اور چھ دسمبر کی درمیانی رات کا واقعہ رونما ہوا کیونکہ آکسیجن فراہمی کا کوئی مستقل معاہدہ تھا ہی نہیں.ذرائع بتاتے ہیں کہ نوجوان ڈاکٹرز اور ہسپتال ملازمین ہمت کا مظاہرہ نہ کرتے اور مریضوں کے لواحقین کے ساتھ مل کر ایمرجنسی بنیادوں پر آکسیجن کی فراہمی کا بندوبست نہ کرتے اور بہت سے مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں میں فوری طور پر شفٹ نہ کرتے تو ہلاکتوں کی تعداد خوفناک حد تک جا سکتی تھی۔

حیرت اس بات پر ہے کہ اس بدترین غفلت کے معاملے کی انٹرنل انکوائری بھی ان لوگوں نے کروائی جو خود ہی اس غفلت کے ذمہ دار ہیں اسی لئے بعض ملازمین کو ادھر ادھر کر کے معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی لیکن جب بات نہیں بنی تو ڈائریکٹر ہیلتھ پر سارا ملبہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اس سلسلے میں ڈائریکٹر ہیلتھ نے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی خط اعلی حکام کو لکھ دیا ہے اور غفلت کے مرتکب عہدیداروں کی نشاندہی بھی کر دی ہے۔ لیکن بورڈ آف گورنرز میں شامل فیصلہ ساز لوگوں کا حدود اربعہ حکومتی ایوانوں کو چھو رہا ہے۔

بورڈ آف گورنرز میں اس وقت چھ لوگ شامل ہیں جس کے چیئرمین طاقتور اثر و رسوخ کے حامل ڈاکٹر ندیم خاور ہیں جبکہ دوسرے ممبر ندیم عالم ہیں جو شہر یار آفریدی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ ندیم عالم پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر نہ ہونے کے باوجود اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھتے ہیں۔ بورڈ آف گورنرز کے ایک اور اہم ممبر ڈاکٹر ظفر درانی اپنا ذاتی ہسپتال بھی چلاتے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر درانی سابق صدر غلام اسحاق خان کے داماد ہونے کے علاوہ خیبر پختون خواہ کے موجودہ وزیر صحت تیمور خان جھگڑا کے بھی قریبی رشتہ دار ہیں۔

بورڈ آف گورنرز کے باقی تین ارکان میں ایک ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر شاہجہان، میجر جنرل ریٹائرڈ صلاح الدین اور صبور سیٹھی شامل ہیں لیکن ان تینوں ممبران کو معاملات سے الگ تھلگ اور غیر متعلقہ بنا دیا گیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ آئندہ چند روز میں صوبائی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ آنے والی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان لوگوں پر کوئی ہاتھ ڈال سکے گا جو اس انسانی المیے اور شرمناک غفلت کے اصل ذمہ دار ہیں۔

دو اور ایک پاکستان کا نعرہ لگانے والا عمران خان کونسے پاکستان کا حامی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •