ہماری آواز صرف طوطی کی آواز نہ سمجھی جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ فلسطینی مسلمان کس حالت میں ہیں۔ میانمار کے مسلمانوں پر کیا گزر رہی ہے، چین کے ایغور کیسی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور بھارت کشمیریوں کے ساتھ ہی نہیں خود بھارت میں سیکڑوں برسوں سے رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھے ہوئے، ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ ان سب شواہد کے باوجود اگر اقوام عالم کو کہیں ظلم یا غیر مسلوں کے ساتھ کہیں امتیازی سلوک ہوتا نظر آتا ہے تو صرف ان ممالک میں نظر آتا ہے جہاں کے حکمران مسلمان ہیں۔

خاص طور سے دنیا بھر کی نظر پاکستان پر ہی رہتی ہے کیونکہ دنیا میں پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور دنیا اچھی طرح اس بات سے واقف ہے کہ جس ملک کے عوام جبر و ستم کی ہر حد توڑ دینے کے باوجود بھی دنیا کے نقشے میں ایک ملک کا اضافہ کر سکتے ہیں تو اسلامی انقلاب کسی وقت بھی برپا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بن جانے کے فوراً بعد ہی پوری دنیا نے اس بات کی کوشش کی کہ پاکستان میں وہ طاقتیں اقتدار تک نہ پہنچ سکیں جو پاکستان میں اسی نظام کا نفاذ دیکھنا چاہتی ہیں جس کے لئے اس ملک کو بنایا گیا تھا۔

پاکستان میں اللہ کے فضل سے غیر مسلم آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ اسلام امن، رواداری اور انصاف کی تعلیم دیتا ہے لہٰذا غیر مسلم تو غیر مسلم، ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو اپنی زبان یا ہاتھ سے کوئی اذیت دینا تو در کنار، ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر انسان کے ساتھ کوئی نہ کوئی شیطان ضرور چمٹا ہوا ہوتا ہے جو اس کو برائی کے لئے اکساتا ہے لیکن ایک سچا مسلمان کبھی کسی کو تکلیف پہنچا ہی نہیں سکتا۔

نیکی و بدی کی لڑائی ازل سے جاری ہے اور ابد تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ہر معاشرے میں کچھ نہ کچھ اونچ نیچ کا ہوجانا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ دنیا کے وہ ممالک جہاں اس بات پر فخر کیا جاتا ہے کہ وہ نسلی و مذہبی منافرت سے آزاد ہو چکے ہیں وہاں بھی کالے گورے، مسلم، غیر مسلم اور رنگ و زبان کی تفریق کے معاملات سامنے آتے رہتے ہیں۔ ان چھوٹے بڑے خونی و امتیازی معاملات سے دنیا کا کوئی ملک بھی مکمل آزاد نہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اس قسم کے واقعات کا ہو جانا کوئی انہونی نہیں۔

جہاں چار برتن موجود ہوں وہ آپس میں کھڑکتے ضرور ہیں۔ دنیا نے یہ عجیب رائے بنائی ہوئی ہے کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ نسلی امتیاز کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سارے تشدد آمیز واقعات کی لپیٹ میں پاکستان میں رہنے والے غیر مسلم بھی آ جاتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا کسی مذہبی امتیاز کی وجہ سے ہی ہوتا ہو۔ جہاں ہر نسل، زبان اور مذہب کے افراد ایک ساتھ رہتے ہوں وہاں صرف مذہب کی بنیاد پر ہی تو تنازعات پیدا نہیں ہوا کرتے۔ پھر یہ بھی ہے کہ اگر کسی بھی بنیاد پر کوئی تنازعہ پیدا ہوا بھی ہے تو پاکستان کی انتظامیہ نے ہمیشہ کسی امتیاز کے بغیر اس کو ختم کیا ہے اور زیادتی کے مرتکب افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی ہیں۔

بھارت جو پاکستان کا پڑوسی ملک ہے، اس کے طول و عرض میں بھی گاہ بگاہ مسلمانوں اور سکھوں کے ساتھ نسلی و مذہبی بنیاد پر ناروا سلوک برتا جاتا ہے۔ کشمیر کا وہ خطہ جو بھارت کے زیر تسلط ہے، وہاں تو گزشتہ 73 برسوں سے کشمیریوں کے ساتھ ہر قسم کا ظلم ستم کا بازار گرم ہے۔ پاکستان ہی نہیں، دنیا کے بہت سارے ممالک بھارت کے اس امتیازی سلوک اور رویے پر صدائے احتجاج بلند کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان بھی دنیا کے ہر فورم پر بھارت میں ہونے والے ہر امتیازی سلوک پر آواز اٹھاتا چلا آیا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کا ہر احتجاج اور اقوام عالم میں اٹھائی جانے والی صداؤں کو پوری دنیا نقار خانے میں طوطی کی آواز سے زیادہ وزن دینے کے لئے تیار نہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ دنیا نے پاکستان کو تو ان ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا جن ممالک میں پر تشددانہ اور غیر مسلموں یا اقلیتوں کے خلاف کارروائیاں معمول کا حصہ ہیں لیکن بھارت کی کھلی ظالمانہ اور اپنے اندر بسنے والی اقلیتوں کے خلاف قتل و غارتگرانہ کارروائیوں کے باوجود ایسے ممالک کی فہرست سے باہر رکھا گیا۔

ابھی کل ہی کی بات ہے بھارت نے یو این کی ایک ایسی وین کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جس میں ان کے مبصرین ان علاقوں کا دورہ کرنے جا رہے تھے جو آئے روز بھارت کی فائرنگ کی زد میں آتے رہتے ہیں۔ بھارت میں ہونے والی روز کی دہشتگردی، کشمیریوں کے ساتھ مسلسل ظلم اور لائن آف کنٹرول کی روزانہ کی خلاف ورزیوں کے باوجود دنیا نہ صرف بھارت کے خلاف کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی کرنے کے لئے تیار نہیں بلکہ وہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی احتجاج کو سننے اور اٹھائی جانے والی آواز پر کان دھرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور وہ اس بات کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ بھارت کے اندر اور کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے ظلم پر سخت اور جارحانہ کارروائی کر سکے لیکن وہ دنیا کا امن خراب نہیں کرنا چاہتا۔ چاہتا ہے کہ دنیا پرامن طریقے سے خطے کے حالات کا حل نکالے۔ شاید دنیا اس بات کو پاکستان کی کمزوری سمجھے ہوئے ہے۔ بہتر ہے کہ دنیا حالات کی نزاکت کو سمجھے ورنہ خطے کا ہی نہیں دنیا کا امن بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس لئے قبل اس کے کہ پاکستان جارحانہ کا اروائی پر مجبور ہو جائے، اقوام عالم کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •