ماسک کے فوائد بے شمار



دنیا بھر میں ایک وبا پھیلی ہوئی ہے جس نے سب کے ناک میں دم کر کے رکھ دیا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک اس وبا کی تیسری اور چوتھی لہر سے نبرد آذما ہے اور پاکستان میں جون کے بعد نومبر میں اس کی دو نمبری یعنی دوسری سونامی میرے مطلب ہے دسری لہر کا آغاز ہو چکا ہے لیکن ابھی بھی پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد اس وبا کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ اسے سازش میں شمار کر رہے ہیں البتہ اس بار یہودیوں کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا رہا کیونکہ وہ خود بھی اس معاملے سے نمٹ رہے ہیں۔ بہرحال کورونا درجنوں ممالک میں تباہ کاریاں پھیلا چکا ہے اور پھیلا رہا ہے مگر پھر بھی پاکستانی اس کو عزت دینے کے لئے تیار نہیں اور چند ایک کو چھوڑ کر سب اس کی خوب درگت بنارہے ہیں۔ کرونا جب سے آیا ہے چار چیزیں ساتھ لایا ہے۔ یعنی ماسک، دستانے، سینی ٹائزر، اور سوشل ڈسٹینسنگ۔

یہ چار چیزیں طبی ماہرین کے مطابق کرونا سے بچاؤ کے لئے انتہائی اہم اورضروری ہے اور اس پر مکمل عمل کر کے کرونا سے دور رہا جاسکتا ہے۔ ان تمام حفاظتی اقدامات میں ویسے تو سب کمال کی احتیاط ہے۔ جیسے سینی ٹائزر کے استعمال کے لئے پانی کی ضرورت نہیں ہوتی، ویسے بھی جتنا گندا پانی اب لائنوں میں آتا ہے اگر وہ استعمال کرنے لگیں تو ہاتھوں میں تو جراثیم کی مزید نشو نما ہی ہونی ہے۔ اسی طرح سوشل ڈسٹینسنگ یعنی سماجی فاصلے کے احتیاطی نام پر آپ رشتہ داروں سے فاصلہ بالخصوص پھوپھو سے فاصلہ رکھ سکتے ہیں اور بد تمیزی کا لیبل حاصل کیے بغیر عزت و احترام سے بھی رہ سکتے ہیں اور کرونا کے ساتھ ساتھ پھپونا سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مگر ان سب میں سب سے کمال کی چیز ماسک ہے۔ فیس ماسک جی جی لیکن لگانے والا نہیں پہننے والا۔ مکمل مکھوٹا نہیں بلکہ ناک سے تھوڑی تک کا۔ جی حیرت انگیز بات ہے نہ کہ ہم وہ لوگ ہیں جو غلط کام کر کے خوف سے منہ نہیں چھپاتے مگر ایک نہ نظر آنے والے جراثیم سے خوف کھا کر منہ چھپائے پھرتے ہیں۔

چلیے ادبی لقمے بعد میں پہلے ماسک کے فوائد سنئیے بلکہ میں تو ان لوگوں سے کہتا ہوں جو ابھی تک ماسک نہیں پہنتے یا پہننے سے شرماتے ہیں وہ ماسک لگانا شروع کریں تاکہ ان فوائد کے فائدوں سے فائدہ حاصل کر کے فائدہ مندوں میں شمار ہوں اور مستفیدماسک کہلائیں اور مانے جائیں۔ ماسک کے فوائد مندرجہ ذیل ہیں۔

* ماسک نہ صرف کرونا سے بچاتا ہے بلکہ آپ کے بغیر برش کئیے پیلے دانت بھی چھپاتا ہے۔ صرف یہ ہی نہیں سگریٹ سے ہوئے کالے دانت، پان سے ہوئے لال دانت، اور گٹکا اور ماوے کے سنگین امتزاج سے پیدا ہونے والے مجہول رنگ کو بھی چھپاتا ہے تو پھر ماسک پہنئیے تاکہ رنگین دانتوں پر نظر نہ لگ جائے۔

*ماسک نہ صرف کرونا سے بچاتا ہے بلکہ دانتوں کی بدبو سے دوسرے لوگوں کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اندر کی بات یہ ہے کہ ہماری سانسوں میں سے بھی گندی بدبو آتی ہے اور تو اور برش کئیے ہوئے کافی وقت گزر جائے تو بدبو میاں بھی جاگ جاتے ہیں اور اطراف کے علاقوں میں پھیل جاتے ہیں تو بھئی ماسک لگائیں کیونکہ آپ کے منہ سے بدبو آتی ہے۔

*ہمارے کچھ ”مرد“ دوستوں کا شکوہ ہے کہ ہمارے داڑھی نہیں آتی اور اگر آتی بھی تو بہت سے علاقے بنجر رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں عجب سراسیمگی کا ماحول رہتا ہے۔ ویسے واقعی کسی علاقے میں اچانک درختوں کے بعد ٹوٹے پھوٹے کھنڈرات آ جائیں تو عجیب تو لگتا ہے۔ بہرحال اس کے بارے میں دعا گو ہے کہ جلدسے جلدتمام علاقوں میں بال سبزہ پھیل جائے۔ اچھا کم سے کم اس وقت تک ہی ماسک لگالیجئیے۔ شاید اس ماسک سے پیدا ہونے والی نمی علاقے میں سبزہ پھیلادیں۔

*یہ سارے فائدے اپنی جگہ مگر ہم نے جو فائدہ اٹھایا ہے اور انشاء اللہ کرونا کے بعد بھی اٹھائیں گے وہ ہے کراچی کی سڑکوں پر ماسک کا استعمال۔ ارے کراچی کے بائیک سواروں کے لئے یہ ماسک نعمت ہے یقین مانئیے ہم سچ کہتے ہیں۔ کراچی کی سڑکوں پر ہر تھوڑی تھوڑی دیر بعد مٹی کے چھوٹے بڑے طوفانوں کا سامنا رہتا ہے اور اس طوفان سے لڑنے میں بائیک سوار ہرا ول دستے میں شمار ہوتے ہیں۔ مٹی کا طوفان تو اپنی جگہ مگر جلتے کچرے کے دھوئیں، گیلے کچرے کی بدبو، کالے والے نالے سے اٹھتے بدبو کے بھبکے سے بچانے میں یہ ماسک وہ ہی کام دیتا ہے جو بلٹ پروف جیکٹ بلٹ سے بچانے کے لئے دیتا ہے۔ آئی لو یو ماسک فرام آل کراچی بائیک سوار ایسوسی ایشن۔

*بہرحال ماسک کے بڑے بڑے فوائد بتادیے ہیں بلکہ لکھ دیے ہیں اور اسی لکھنے میں تحریر بھی بڑی ہو گئی ہے بہرحال تحریر کو چھوٹا کرنے کے لئے چھوٹے چھوٹے فوائد بھی تحریر کی مدد سے سن لیجئیے۔ ماسک (کپڑے والے ) رات کو روشنی والی جگہ پر آنکھ میں لگا لیں تو چاروں اطراف اندھیرا چھا جائے گا اور پھر کوئی چراغ آب کو بیدار نہیں کرپائے گا جب تک آپ خود نہ بیدار ہونے کا فیصلہ کریں۔ اسی طرح یہ ماسک پبلک ٹوائلٹ جیسے سماجی مقام پر بے حد کام آنے والی چیز ہے۔

بقیہ کچھ باتیں آپ خود سمجھ جائیں ضروری نہیں کہ سب میں ہی بتاؤں۔ ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ ناقابل برداشت بندہ کی ناقابل برداشت بات پر ماسک کے اندر رہ کر دانت پیس سکتے ہیں سامنے والے کو اندازہ نہیں ہوگا کہ ماسک کے اندر ہنسی نہیں گالی چھپی ہے اور بالکل ایسے ہی اس شخص پرہنس بھی سکتے ہیں جس سے آپ کچھ کہنے کی اوقات نہیں رکھتے ہیں۔

مندرجہ بالامعروضات میں میں نے یہ کوشش کی دنیا کے سامنے ماسک کے وہ فوائد بھی لاؤں جسے دنیا ابھی تک درک نہیں کرپائی ہے اور اگر قارئین ان فوائد کے لئے یہ ماسک پہننے کا آغاز کردیں تو بھئی کیا ہی بات ہے پھر۔ تو پھر ماسک لگائیے تاکے اپنی، برابر والے کی حفاظت بھی ہو سکیں اور ساتھ ساتھ اس کو بدبو سے بھی بچاسکیں۔ احتیاط کیجئیے کیونکہ فی الحال اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن ہے نہیں۔

Facebook Comments HS