اعظم سواتی کا بیان اور میڈیا کا منفی رویہ


نئے وزیر ریلوے اعظم سواتی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک گمراہ کن خبر گردش کرنے لگی ہے۔ اس خبر کے مطابق اعظم سواتی نے بیان دیا ہے کہ ریلوے نہیں چلا سکتے ؛ سٹیل ملز کی طرح بند کرنا پڑے گا۔ یہ مختصر سا جملہ نو منتخب وزیر ریلوے سمیت شیخ رشید اور عمران خان کے منہ پر تھپڑ کے مترادف ہے۔ اگر اعظم سواتی نے اسی قسم کا بیان دیا ہوتا تو ڈھیروں سوالات اٹھتے کہ ریلوے کیوں نہیں چلا سکتے؟ شیخ رشید نے کیا کیا؟ کیا عمران خان کے پاس کوئی بھی ڈھنگ کا بندہ نہیں جو ریلوے چلا سکے اور دیوالیہ ہونے سے بچا لے؟ ریلوے کی وزارت کے لئے اعظم سواتی کا انتخاب عمران خان کی دور اندیشی پر شک کے سوالات بھی کھڑے کرتا۔ انہی بنیادی سوالات کے پیش نظر اور عوام میں موجودہ حکومت کی نا اہلی کو ظاہر کرنے کی غرض سے مین سٹریم میڈیا اور کچھ صحافیوں نے اس بیان کو توڑ جوڑ کے پیش کیا۔ ’نیا دور‘ اور ’سماء نیوز‘ نے یہ بیان چلایا تو رؤف کلاسرا، عاصمہ شیرازی، عائشہ صدیقہ، عمر چیمہ اور مرتضیٰ علی شاہ سمیت کئی دیگر صحافیوں نے اس بیان کو بنیاد بنا کر حکومت پر تنقید کی۔ کئی صحافیوں نے تو اپنے میڈیا ہاؤس کے بیان کے برعکس تنقید کی۔ عمر چیمہ صاحب نے کہا کہ سارے محکمے بند ہوں گے تو حکومت چلے گی جبکہ جنگ میڈیا گروپ نے اعظم سواتی کا بیان ٹھیک پیرائے میں لگایا تھا لیکن عمر چیمہ صاحب نے وہاں سے کنفرم نہیں کی۔ یہی حال دیگر صحافیوں کا بھی رہا۔

اب اس بیان کی بات جس کو توڑ مروڑ کے پیش کیا جا رہا ہے۔ جس انداز سے کچھ میڈیا ہاؤسز یہ بیان پیش کر رہے ہیں وہ مکمل طور پر جھوٹا اور گمراہ کن ہے۔ دراصل نو منتخب وزیر ریلوے اعظم سواتی کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر ہر میڈیا ہاؤس اپنے انداز سے پیش کر رہا ہے۔ اعظم سواتی نے بطور وزیر ریلوے حلف اٹھانے کے بعد لاہور میں میڈیا سے گفتگو کی۔ اس گفتگو میں کہیں بھی ایسا نہیں کہا گیا کہ ریلوے نہیں چلا سکتے؛ سٹیل ملز کی طرح بند کرنا پڑے گا اور نہ ہی یوں کہا کہ بحیثیت وزیر کہہ رہا ہوں، ریلوے کو نہیں چلا سکتے۔

دراصل لاہور میں اعظم سواتی نے میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی کے سوال کا جواب دیا۔ جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وزارت ریلوے ’ساری‘ ریلوے نہیں چلا سکتی۔ اگر آپ بہتری چاہتے ہیں تو کچھ حصے ٹھیکے پر دینا پڑیں گے۔ اگر ایسا نہیں کریں گے تو دھیرے دھیرے پاکستان ریلوے کو بھی پاکستان سٹیل ملز کی طرح بند کرنا پڑے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس کے کچھ حصے آؤٹ سورس کیے جائیں۔

اس بیان کو اگر سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ اعظم سواتی نے کہیں نہیں کہا کہ ریلوے نہیں چلا سکتے بلکہ انہوں نے کہا کہ ’ساری‘ ریلوے نہیں چلا سکتے کیونکہ ریلوے کا نظام بہتر نہیں۔ ریلوے کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے کچھ حصہ ٹیکے پر دینا ہوں گے۔ اس کے علاوہ اعظم سواتی نے کہیں نہیں کہا کہ پاکستان ریلوے کو پاکستان سٹیل ملز کی طرح بند کرنا پڑے گا۔ بلکہ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے اس کے کچھ حصے آؤٹ سورس نہیں کیے تو نوبت بند کرنے تک آ سکتی ہے۔ جیسا پاکستان سٹیل ملز کے ساتھ ہو رہا ہے ٹھیک اسی طرح اگر بہتری کی جانب قدم نہیں اٹھائے گئے تو ریلوے کو بند کرنا پڑے گا۔ یعنی اعظم سواتی کا کہنا تھا کہ ’اگر‘ یوں نہیں کیا گیا تو نوبت بند کرنے تک آ سکتی ہے جیسے پاکستان سٹیل ملز کے ساتھ ہو رہا ہے۔

اب اس بیان کو پاکستانی میڈیا توڑ مروڑ کے پیش کر رہا ہے۔ بیان کے مختلف حصے توڑ جوڑ کر اپنا ایک الگ بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ ہماری اکثر میڈیا کی عادت ہے کہ ہر چیز کو متنازع بنا دیا جائے اور بیانیہ تبدیل کیا جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب احتیاط کریں اور میڈیا کے پروپیگنڈے سے خود کو محفوظ رکھیں۔ جب بھی کوئی ایسا بیان سامنے آئے تو میڈیا ہاؤس کا پس منظر دیکھنا ضروری ہو جاتا ہے اور جب آپ پس منظر میں مضمر پس پردہ حقائق سے واقف ہو جاتے ہیں تب آپ میڈیا پراڈکٹ بھی سمجھ جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS