جدید دنیا میں پاکستانی ماڈریٹ مسلمانوں کی مشکلات


انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال اور دنیا کا گلوبل ویلج بننے کے بعد سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا پاکستانی ماڈریٹ مسلمانوں کو ہے۔ ایک طرف تو ان کو اپنے آپ کو دنیا کے ساتھ Integrate (جوڑنا) کرنا ہے لیکن دوسری طرف ان کا Brought up (نشو و نما) جس میں مذہبی اور کلچرل پہلو اپنا کردار ادا کر رہا ہے جس کی بنیاد ساتویں صدی کا اسلام ہے جو یہود و نصاریٰ کو دوست کہنے تک سے منع کرتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نظام حیات کے تقریباً ہر شعبہ کے اندر پائی جانے والی سہولت یہود و نصاری کی مرہون منت ہے۔

جبکہ اس جدید نظام کے اندر مسلمان موجد نہی بلکہ کنزیومر ہے۔ وہ گاہک بن کر اپنے پیسے خرچ کرتا ہے اور یہود و نصاریٰ کی بنائی ہوئی چیزیں خرید کر گھر میں لا رکھتا ہے اور پھر صبح و شام ان کی بربادی کے لے دعائیں بھی مانگتا ہے۔ فرض کریں اگر مسلمان بھائی کی دعائیں سن بھی لی جائیں اور سارے یہود و نصاریٰ برباد ہوجائیں تو دنیا کے پاس صرف چارپائی، چند تلواریں، اور شاید کھدر کے کپڑے بچ جاتے ہیں۔

گویا ماڈریٹ مسلمان ایک ایسی رسی کے ساتھ بندھا ہوا ہے کہ ایک طرف اس کا عقیدہ ہے جس کے ساتھ اس کی جذباتی وابستگی ہے اور دوسری طرف دنیا کو اس نے یقین دلانا ہے کہ وہ جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس دوہری کشمکش میں وہ ایک عجیب سی گومگو کیفیت کا شکار ہے۔ ایسے مسلمانوں کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے غامدی صاحب جیسے مذہبی سکالرز نے آگے بڑھ کر کچھ فکری اور بنیادی مذہبی ترامیم کرنے کی جستجو کی ہے جس کا خمیازہ ان کو پاکستان سے فرار کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

اب لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ مسئلہ مسلمانوں کو کیوں درپیش ہے۔ ہندووں، سکھوں، عیسائیوں، یہودیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو کیوں نہی ہے۔ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ ان تمام مذاہب میں عبادات کو انسانی طرز زندگی سے کسی حد تک علیحدہ رکھا گیا ہے۔ جبکہ ہمیں بچپن سے بتایا گیا ہے کہ اسلام مذہب نہی بلکہ دین ہے۔ دین سے مراد اس کا انسانی زندگی کے ہر پہلو یعنی اٹھتے بیٹھتے، چائے پیتے، روٹی کھاتے، پیشاب کرتے، جنابت کرتے، غسل کرتے، لوگوں کو مخاطب کرتے گویا ہر کام میں عمل دخل ہے۔

دیگر مذاہب میں عبادات تو موجود ہیں لیکن انسان کو اس بات کی چھوٹ ہے کہ وہ زندگی گزارنے کے لے نئے حالات اور نئی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھال لے لہذا دیگر تمام مذاہب کے پیروکار جہاں بھی جاتے ہیں وہ خود کو تیزی کے ساتھ وہاں کی مقامی ضروریات کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ اور پھر کسی حد تک ان میں یہ جنونیت بھی نہی پائی جاتی کہ وہ اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر باقی ساری دنیا کو ہندو، سکھ، عیسائی یا یہودی بناتے پھریں۔

ایک سطی سوچ رکھنے والے مسلمان بھائی کو یہ بات سمجھانا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ اس کی بچپن سے کچھ ایسی برین واشنگ کی گئی ہے کہ اس کے دن کا آغاز اور اختتام ایک جیسی باتیں سننے، سمجھنے اور سوچنے پر ہوتا ہے۔ وہ گھر ہوتا ہے اس کو وہی باتیں بتائی جاتی ہیں، وہ مسجد ہوتا ہے اس کو وہی باتیں بتائی جاتی ہیں، وہ سکول ہوتا ہے اس کو وہی باتیں بتائی جاتی ہیں وہ ہسپتال ہوتا ہے اس کو وہی باتیں بتائی جاتی ہیں۔ ایک جیسی باتیں اور بھاشا سن کر اس کا ذہن انہی باتوں پر ٹک سا جاتا ہے پھر ساری دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے وہ کہتا ہے نہی وہی ٹھیک ہے اور آخری سچ ہے جو وہ کئی دہائیوں یا عشروں سے سنتا اور سوچتا آیا ہے۔ اس کو برین واشنگ کہتے ہیں۔ وہ سائنسی سچائی کو بھی اسی بچپن کی برین واشنگ کی وجہ سے مذہبی رنگ دے کر بیان کرتا ہے۔ وہ دیگر مذاہب کی موجودگی کو بھی اسی برین واشنگ کی وجہ سے جھٹلاتا ہے۔

وہ ملٹی کلچر میں رہنے کا عادی نہی ہے جہاں اس کی باتوں سے اختلاف کیا جائے۔ اختلاف رائے سے انسان سیکھتا ہے اپنی اصلاح کرتا ہے اور پھر خود کو نئی انسانی سوچ اور فکر کے ساتھ ڈھالتا چلا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS