مولانا طارق جمیل سے ایم ٹی جے تک کا سفر
پچھلے دنوں مولانا طارق جمیل صاحب نے کپڑوں کا نیا برینڈ کھولنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے جنید جمشید ایسا کامیاب تجربہ کر چکے ہیں۔ ان کے کاروبار کے حوالے سے سوشل میڈیا پر آوازیں سنائی دیں۔ تنقید کرنے والوں میں یہ ناچیز بھی شامل رہا۔ اگر میں غلط نہ ہوں تو مولانا طارق جمیل صاحب کی اس وقت عمر میرے حساب سے 67 سال تو یقیناً ہو گی۔ اب آخری عمر میں آ کر ان کو کاروبار کرنے کی کیا سوجھی ، اس کے بارے میں تو وہی بتا سکتے ہیں۔
وہ تو دین کی تبلیغ کے لیے نکلے تھے اور یوں ان کا قافلہ سینکڑوں سے ہزاروں اور ہزاروں سے لاکھوں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ان کے چاہنے والوں سے یہ بھی سنا ہے کہ وہ ایک کھاتے پھیتے زمیندار گھرانے سے ہیں جس کی ساری آسائشیں چھوڑ کر وہ دین کی خدمت کے لیے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ پھر سوشل میڈیا کی آمد سے ان کے چاہنے والوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی اور وہ ایک عام سے تبلیغی مبلغ سے بین الاقوامی مذہبی سیلیبریٹی کا روپ دھار چکے ہیں۔
Read more
