ایک میلہ جس میں سب ماؤں کی چادریں گم ہو گئیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’بزرگی‘ اور لڑکپن دونوں وقت اور خاندان کے محتاج عمر کے وہ حصے ہیں جن کے آنے جانے کا پتہ کبھی نہیں چلا۔ ہمارے ہاں ’بزرگ‘ حضرات اکثر و بیشتر یہی شکایت کرتے پائے جاتے ہیں کہ ہم بطور قوم شدید تنزلی کا شکار ہیں۔ بہت سے قلمکار ہزاروں صفحے بھی کالے کر چکے، لیکن یہ موضوع شاید زندہ رہے گا کیونکہ نہ تو لوگ ’بزرگ‘ ہونا ’چھوڑیں ”گے اور نہ ہی ایسا کوئی معجزہ گردوں نے اپنی‘ بکل ’میں چھپا رکھا ہے جو ایسی‘ بے ضرر ’سوچ کو پنپنے نہ دے۔

جیسا کہ نظر نہ آنے والی اچھی خاصی تعداد میں‘ سیانے ’چند دہائیاں قبل دس جماعت پاس کرنے والے کو موجودہ دور کے ایم۔ اے کے برابر یا اس سے بھی اعلی گردانتے ہیں تو بعض کے نزدیک ایمانداری صرف پرانے زمانے کے لوگوں کا شیوا تھی لہذا آج کل ناپید ہو چکی۔ پھر کچھ کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر آج کل کوئی صرف پنج وقتہ نمازی ہے تو بروز قیامت کسی ولی اللہ سے کم تر درجے پی فائز نہیں ہو گا۔ بسا اوقات پرانی خوراکوں کو زیادہ صحت بخش ثابت کرنے پہ تلے بیٹھے لوگوں پر بھی ایک نظر کی جا سکتی ہے۔

لہذا“ جتنے بزرگ اتنی قیاس آرائیاں ”۔ غرض یہ کہ بیشتر‘ سیانے ’بزرگوں کا اجماع و اتفاق محسوس ہوتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم سرعت سے تباہی کی طرف گامزن ہیں اور موجودہ نسل سے خیر کی توقع عبث ہے اگر یقین نہ آئے تو حالیہ سیاسی جلسے میں ایک‘ بزرگ ’سیاستدان کے پنجابیوں سے کیے گئے بے محل اور تاریخ سے ناآشنائی پر مبنی اعتراضات پڑھ لیجیے۔ بہرحال اللہ ہمارے حال پہ رحم فر مائے اور مستقبل کو شاندار بنائے اور ایسے‘ سیانے بزرگوں ’کا‘ کہا سوچا پورا نہ ہو ’۔ آمین۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا کچھ ہے یا ماضی قریب میں وارد ہو چکا ہے؟ کیا ہمارا نظام تعلیم و تربیت اس قدر ناکارہ و فرسودہ ہو چکا ہے اب ہمارے ہاں سے خیر اور قابل افتخار خبریں آنا بند ہو گئیں؟ ایک طرف اگر روز انہ کی بنیاد پہ سامنے آنے والی خبروں کا تجزیہ کریں تو بزرگوں کی مندرجہ بالا شکایات کی تصدیق کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اگر ایسا ہے (معاز اللہ) تو یہ بھی ماننا ہو گا کہ ہمارا خاندانی نظام شدید توڑ پھوڑ کا شکار ہو چکا۔

اور اس سب کے مضمرات انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ لیکن پھر روز افزوں گمراہ کن اطلاعات کا سیل رواں ایک بے ہنگم اور آپے سے باہر ہوتا مسئلہ بن کے ابھر رہا ہے۔ جہاں موبائل فون نے زیادہ تر لوگوں کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے، وہاں بے مقصد استعمال کنندگان کا روز افزوں انبوہ کثیر ایک ایسی منڈی کا روپ دھار چکا ہے جو گمراہ کن اطلاعات کے سیل رواں کو نہ صرف من و عن تسلیم کرتے ہیں بلکہ خوشی خوشی آگے پھیلاتے ہیں۔ افسوس اس مسئلہ ادق کا شکار وہ بھی ہو رہے ہیں جو اس ٹیکنالوجی کے ”مائی باپ“ ہیں۔ تاہم دنیا بھر کو اس مسئلے کا نہ صرف احساس ہو چکا ہے بلکہ اس کے تدارک کے لئے بھی متبائن طریقہ ہاے کار عمل میں لائے جا رہے ہیں۔

ایسے ہی کچھ کثیر الجہتی مسائل کا شکار ہماری اصول سے عاری سیاست بھی ہے۔ مملکت خدا داد کی جملہ سیاسی جماعتوں اور ان کے پر جوش کارکنان نے گمراہ کن معلومات کا سہارا لے کر اپنے اپنے مفاد پرستانہ ایجنڈوں کو آگے بڑھانے میں رتی برابر کسر نہیں چھوڑی۔ کبھی یو ٹرن کو سیاسی عقلمندی سے تعبیر کیا گیا، کہیں کھانے کو لگانے سے نتھی کر دیا گیا، تو کبھی اپنی ’نا اہلی‘ کا بدلہ حکمران کو نا اہل کہہ کر لیا جانے لگا۔ ہر سیاسی جماعت نے اپنے دور حکومت کو امن و آشتی، غریبوں کا والی و ہمدرد، ہمسایہ ملک کو ناکوں چنے چبوانے والی حکومت کا سنہری دور ہونے سے تعبیر کیا۔

کسی نے اپنے زیرک و تجربہ کار وزرا کے ذریعے سادہ مسئلے کا حل پیچیدہ و پرکار مسائل میں تلاش کرنے میں ید طولٰی رکھنے میں پیش کیا۔ کم و بیش ایسے ہی سیاسی وعدوں اور کبھی نہ نظر آنے والی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ ہتھیاتے ہیں۔ لیکن عوام انہی عطار کے لونڈوں کو اپنا مسیحا سمجھے آج کل کے پرخطر دور میں بھی جلسوں میں جاتے ہیں، سماجی رابطوں کی ویبسائٹس پہ اپنے اپنے ”کاں کو چٹا“ ثابت کرنے میں جتے ہوتے ہیں۔ کسی کو صرف سڑکیں چاہئیں تو کسی کو صرف دشمن ملک کا مقابلہ کرنا ہے۔ کوئی اپنے بھٹو کو زندہ رکھنے کی تگ و دو میں سرگرداں ہے تو کوئی اپنے ہینڈ سم پہ بگلیں بجا رہا ہے۔

اگر یہ سب کچھ ایسا ہی ہے تو ہمارے ملک میں چھائی بدعنوانی اور بدحالی کی یہ کالی رات ابھی تک چھٹی کیوں نہیں؟ کیوں ہمارا ہر ادارہ تباہی کی درپے ہے؟ کیوں دنیا کی امامت کا ارادہ رکھنے والا ملک اپنی معاشی بدحالی پہ تماشا بنا بیٹھا ہے؟ کیوں کر دنیا کی ساتویں جوہری طاقت اپنے استعمال کے لئے بھی بجلی مہیا کرنے سے قاصر ہے؟ یہ کیسے ہو گیا کہ دنیا کے چوتھے بڑے دودھ پیدا کرنے والے ملک سے خالص دودھ ملنا مشکل ہو گیا؟

کیسے دو چوتھائی سے بیشتر زرعی آبادی اور زراعت پہ دارو مدار رکھنے والا ملک گندم اور چینی درآمد کرنے لگا؟ یہ کیسے ہو گیا کہ ہم ایسا کوئی تعلیمی ادارہ بنانے میں ناکام رہے جہاں ترقی یافتہ ممالک کے باشندے تعلیم و تربیت یا درس و تدریس کے لیے آتے؟ الٹا ہم نے اپنے بہترین دماغوں کو اتنا مجبور کر دیا کہ وہ پردیس میں جا کے جگمگانے لگے۔ اور ہمارے ہاں سیاسی شعبدہ باز دعوے کرتے نہیں تھکتے نہ ان کی جھوٹی زبانوں پہ چھالے پڑتے ہیں اور نہ ہی ان کے راتب خور لکھاریوں کی قلموں کی سیاہی سوکھتی ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ اس ملک کے لئے کون جان ماری کر رہا ہے؟ کون ہے جس کی رگ و پے میں اپنے ملی و ملکی مفادات ترجیح اول ہیں؟ کون ہے جو صرف ایسٹیبلشمینٹ کہ ہی مورد الزام نہیں ٹھہراتا؟ کوئی ہے جو اپنے عوام کی مسیحائی کے لئے آگے آیا ہو اور ان کا حق بھی ادا کیا ہو؟ مجھے با رہا اس بات کاہر روز احساس ہوا ہے کہ ہمارے نام نہاد سیاسی قائدین اپنے تئیں شدید غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ جھبی تو ہر سیاسی جماعت اور اس کی قیادت کو یہ لگتا ہے پاکستان کے جملہ مسائل کے حل کی کنجی انہی کے پاس ہے۔ لیکن حالت کچھ یوں ہے کہ ہم ترقی معکوس کا شکار ہیں۔

منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

مجھے لگتا ہے یہاں ہر کوئی میلے میں اپنی ماں کی چادر گم کر کے گھر آنے والے اس بچے کی طرح ہے جو گھر جا کے اپنی ماں کو چونا لگانے کی کوشش میں سب ماؤں کی چادریں گم ہو جانے کا اعلان کر دیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر عثمان عتیق کی دیگر تحریریں