سیاست اور زمانے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

علامہ اقبال کا شعر آج کی موجودہ صورت حال کے سیاق و سباق میں یاد آ رہا ہے۔ ہماری تمام پارٹیوں کے سیاست دان آج تک کوئی ایسا باقاعدہ نظام نہیں بنا سکے جس میں عوامی حقوق کا خیال رکھا گیا ہو۔ یوں تو عوامی نعروں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی نے اپنے اپنے وقتوں میں سیاست کی دکانات کو چمکانے کے لیے بڑے بڑے کھوکھلے نعروں کے بورڈ آویزاں کر رکھے ہیں۔ مگر آج تک ان دلفریب نعروں کو عملی جامہ کوئی بھی نہیں پہنا سکا۔

آج کی دنیا میں سیاست میں عوام کے لیے سیاست سے کنارہ کشی کرنا انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر ناممکن سی بات لگتی ہے۔ اکثر اوقات دل میں ہر وقت خیال اٹھتا رہتا ہے کہ سیاست میں بیتے ہوئے واقعات کو سیاست کے ادوار سے الگ رکھا جائے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا ہو نہیں سکتا کیونکہ سیاست انسانی مزاج کا حصہ ہے۔ اصل چیز ہے عوام خود ہی خود کو بھیڑ بکریوں کی طرح اپنے حقوق سے دست بردار کر دیتے ہیں۔ اب یہی دیکھیے کہ ملتان کے جلسے میں مریم نواز صاحبہ فرما رہی تھیں کہ اس حکومت سے پاکستان کی بس چلائی نہیں جاتی کبھی اس کو دھکا لگاتے ہیں کبھی کھینچتے ہیں لیکن بس ہے کہ چلتی ہی نہیں۔

بتانا یہ تھا کہ ملک اور بس میں فرق ہوتا ہے۔ یہ 22 کروڑ عوام پر مشتمل ایک پورا جیتا جاگتا ملک ہے کوئی 22 سیٹوں کی بس نہیں ہے۔ وہ ملک جس کی بنیادوں میں خون کی اینٹیں لگی ہیں۔ وہ ملک جو مستعار نہیں لیا گیا بلکہ طویل صبر آزما سنگلاخ سفر کے بعد حاصل ہوا۔ ہر دور میں موجود ہر سیاست دان یہ کیوں چاہتا ہے کہ عام لوگ زندگی کے تمام المیہ اور بے ہودہ رویوں کو فوری طور پر قبول کر لیں۔ کبھی ملک چلانے والے تمام بڑوں نے سر جوڑ کر معاشرتی اور معاشی زوال کو روکنے کی کوشش میں اپنی توانائیاں سرف نہیں کیں۔

تاریخ میں زیادہ نہیں تھوڑا سا پیچھے چلتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے جب فروری 1946 میں انسانی حقوق کا کمیشن بنایا جو یقیناً ایک کٹھن کام تھا۔ اس وقت کے 58 رکن ممالک تھے جن میں مذہبی روایات، سیاسی نظریات، نظام قانون، معاشی، سماجی اور ثقافتی طریقوں میں بڑے بڑے اختلافات موجود تھے۔ ایسے عالمی منشور کا قابل قبول ہونا واقعی مشکل کام تھا۔ بحر حال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر کی دس تاریخ اور سال 1948 کو اسے منظور کیا۔

جس میں یہ بات واضح تھی کہ یہ حقوق ہر رنگ و نسل، مذہب و ملت ہر ملک کے لیے بلا امتیاز لاگو ہوتے ہیں۔ کم و بیش دنیا کے سارے ملکوں میں شہریوں کے حقوق کے لیے یہ ہی قوانین زیر استعمال لائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف قرار داد مقاصد جو پاکستان میں مارچ 1949 کو منظور ہوئی جس میں عام شہریوں کے وہ تمام حقوق بتائے گئے جو انہیں ملنا تھے۔ تھوڑا سا ہم ان حقوق کو از سر نو یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شہریوں یعنی عوام کو قانونی، معاشرتی، معاشی اور ثقافتی تمام قانون حاصل ہیں۔

یعنی لوگ ریاست کے جس بھی حصے میں رہنا چاہیں وہ آزادی سے رہ سکتے ہیں۔ لیکن ایسا ہوتا نہیں چھوٹے قصبوں اور دیہات وغیرہ سے لوگوں کو اٹھ کر معاش کی تلاش میں مجبوراً بڑے شہروں میں آنا ہی پڑتا ہے۔ معاشی حقوق میں تو سب سے پہلے یہ بھی شامل ہے کہ ریاست کا ہر شہری اپنی پسند کے مطابق ذریعہ روز گار اپنا سکے گا۔ لیکن یہاں پسند تو درکنار یہاں نوکریوں پہ لگے ہوئے شہریوں سے روزی چھینی جا رہی ہے۔ زبان و ثقافت کا حق، نقل و حرکت کا حق، اخلاقی حقوق، سیاسی حقوق، پر امن احتجاجی حقوق اور حق عرضداشت یعنی حکومت کے نام اپنی شکایتی عرضیاں بھی بھیج سکتے ہیں۔

لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے ہم ان قوانین کے حصول سے کوسوں دور ہیں۔ آج ہم جس زمانے میں زندہ ہیں وہ سب سے زیادہ فلاح کا خواستگار زمانہ ہے۔ یہ مانگ اور طلب دونوں کا زمانہ ہے۔ یہ حقوق و فرائض کا زمانہ ہے۔ یہ سماج کی فلاح و بہبود کا زمانہ ہے۔ یہ ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دینے کا زمانہ ہے۔ یہ ریاست کے اداروں کو مستحکم کرنے کا زمانہ ہے۔ یہ معاشی جمہوری آسودگی کا زمانہ ہے۔ یہ مخصوص طبقوں کی اجارہ داری کے خاتمے کا زمانہ ہے۔

یہ سماجی عدل و انصاف کے قیام کا زمانہ ہے۔ یہ صوبائی محرومیوں کو ختم کرنے کا زمانہ ہے۔ یہ مستحکم اور مربوط قومی منصوبوں کو بنانے کا زمانہ ہے۔ یہ ادائیگیوں کے تحفظ کا زمانہ ہے۔ محکمہ صحت کے مسائل حل کرنے کا زمانہ ہے۔ یہ سیاست کی روش کی درستی کا زمانہ ہے۔ لیکن کچھ عجب موسم آ گیا ہے، عجب موڑ پر لا کے ہمیں چھوڑ دیا گیا ہے جہاں آگے بڑھنے کی جستجو ہے اور نہ پیچھے ہٹنے کا یارا رہا ہے۔ نہ طالب ہے، نہ مطلوب ہے، نجانے کس کی تڑپ ہے؟

لگتا ہے ہمی ظالم ہیں اور ہمی مظلوم۔ ہم خود اپنا وجود اپنے ہی ہاتھوں سے خود پر اوڑھے ہوئے ایک انجان سفر کی پر پیچ راہوں پر چلتے جا رہے ہیں۔ ایک ایسی راہ جس پر سب سیاست دان حکم ران تو بنتے ہیں، راہ زن تو بنتے ہیں، لیکن راہ بر نہیں بنتے۔ ویسے کبھی ایسا زمانہ نہیں آیا تھا کہ لوگ اس قدر آگاہی رکھتے ہوں جتنی کہ آج کے زمانے میں ہے۔ ہمیں اپنے عوامی اور قومی مسائل جذباتی اور انسانی توجیہ میں دیکھتے ہوئے حل کرنا ہوں گے۔

ہمارا ملک مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے فرق فرق رنگوں سے سجا ہوا ملک ہے۔ ریاست کا آئین اور قانون ملکی نظام کو چلاتا ہے۔ اچھا نظام حکومت گڈگورننس کہلاتا ہے۔ سیاست دانوں اور افسر شاہی کے ہاتھوں اختیارات کا جائز استعمال ریاست میں اچھا نظام لاتی ہے لیکن گدلا نظام بلا شبہ عوام کو ذہنی اذیت، معاشی بدحالی اور سماجی بیماریوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ سرکاری ملازمین کی قلیل تنخواہیں اس پر طرہ یہ کہ ایک پیسا بھی ان کی تنخواہ میں اضافہ نہیں ہوا ایسے میں وہ اپنے کنبے کی پرورش کیسے کر پائیں گے؟

جہاں ایک کام کرنیوالا ہو اور دس بارہ لوگ کھانے والے ہوں تو گھر کیسے چلیں گے۔ پاکستان کے سیاسی ڈھانچے میں مضبوط جمہوری اور سیاسی رویوں کی کمی نصف صدی سے محسوس کی جا رہی ہے۔ سیاست دان سبز باغ تو دکھاتے ہیں لیکن خود کو قوم کا خادم سمجھنے کی بجائے حاکم اور برتر سمجھنے لگتے ہیں۔ ملک میں شفاف طریق کار مرتب ہو تا کہ عوام جان سکے کہ خرابی کہاں سے ابھر رہی ہے۔ فنڈز، منصوبوں اور پیسوں کے استعمال سے متعلق کوئی بات عوام سے چھپی نہ رہے۔

لیکن ہر زمانے میں ہر آنے والا دن زیادہ بوجھل اور مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انفرادی سطح پر ہمارے عوام اپنے تئیں زندگی کی بوسیدہ گاڑی خوش اسلوبی سے کھینچتے جا رہے ہیں۔ تعلیم اور شعور کی بیداری سے ہی قومی یک جہتی پیدا ہوگی۔ حکومت نے N۔ F۔ C ایوارڈ بھی بنائے تاکہ صوبوں کو مساوی سہولیات مل سکیں۔ لیکن جب تک معاشی آسودگی اور برابری نہیں ہوگی نہ احساس محرومی جائے گا اور نہ ہی جمہوریت آئے گی۔ کیا پاکستان ہمیشہ ایسے ہی گمبھیر حالات میں گھرا رہے گا۔ کیا پاکستان شکار ہونے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ کہنا کہ ہم حدود وقت سے پیچھے رہ گئے یقیناً ایک کلیشے ہے اور اسے ذہنوں سے ہر صورت نکالنا ہوگا۔ ہم ایک دوسرے کا دفاع کرنے کی بجائے خود ہی ایک دوسرے کو مارتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو انتقامی نگاہوں کی بجائے سزا دینے والی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ خدا کرے ہم جلد ہی ہر میدان میں خود کفیل اور ترقی یافتہ ہوجائیں۔ اے کاش! ہم لغت کے لفظ ترقی پذیر سے نکل ترقی یافتہ کے لفظ میں شمار ہونے لگیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •