تعلیم بچاؤ تحریک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سترہ دسمبر لاہور میں پنجاب بھر سے پرائیویٹ سیکٹر کے اساتذہ کرام اور ادارہ مالکان احتجاج کے لیے اکٹھے ہوئے۔ مطالبہ بالکل واضح تھا کہ جب شادی ہالزمیں تین سو لوگ ایک ساتھ کھا نا کھا سکتے ہیں ’جب تمام مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کھلے ہیں‘ جب پارک ’سینما ہال‘ کافی پوائنٹس ’پلے گراؤنڈ ز تک کھلے ہیں‘ جب پی ڈی ایم ملتان ’لاہور اور کراچی سمیت کئی بڑے شہروں میں اپنا تھیٹر لگا سکتی ہے یا عمران خان آئے روز کہیں نہ کہیں اپنا مجمع لگا سکتے ہیں تو صرف تعلیمی ادارے ہی کیوں بند کیے جا رہے ہیں؟

کیسی مضحکہ خیز بات ہوئی کہ جہاں سب سے زیادہ ایس او پیز پر عمل ہوا‘ ان جگہوں کو بند کر دیا گیا اور جہاں ایس او پیز کی دھجیاں ارائیں گئیں ’ان جگہوں اور عوام مراکز کو کھلا رہنے دیا گیا۔ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کادوسرا بنیادی اخراجات کا تھا‘ پہلے چھے ماہ ادارے بند رہے ’نجی تعلیمی اداروں کے مالکان بجلی کے بلز بھی دیتے رہے اور بلڈنگز کے کرائے بھی حالانکہ اس ناگہانی صورت حال میں حکومت کو نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا‘ حکومت یا وزیر تعلیم ان کے مطالبات اور مسائل سنتے تاکہ ان کا بہتر طریقے سے تدارک ہو سکتا مگر حیف صد حیف کہ حکومت کو اپوزیشن سے جنگ وجدل کے علاوہ شاید کوئی اور کام نہیں ہے۔ ان کی تقریروں اور گفتگوؤں کا آغاز بھی این آ ر او سے ہوتا ہے اور اختتام بھی ’ایسے میں غریب عوام کی طرف توجہ کیسے کی جائے۔ اب تو یہ لگنے لگ گیا ہے کہ موجودہ حکومت صرف اپوزیشن سے جھگڑے اور لڑائیوں کے لیے آئی ہے‘ ملکی مسائل یا ملکی معاملات سے اسے کوئی دل چسپی نہیں۔

آپ مزید ظلم کی انتہا دیکھیں کہ بنی گالہ میں احتجاج کرنے والے اساتذہ پر لاٹھی چارج کیا گیا ’ان پر شیلنگ کی گئی اور ان کی اس انداز میں گرفتاریاں کی گئیں جیسے یہ غدار وطن ہیں یا پھر یہ قوم کے معمار نہیں راء کے ایجنٹ ہیں۔ کیا کبھی دیکھا سنا کہ کسی جمہوری ملک میں یا کسی آمر نے ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے ہوں؟ حالانکہ ان اساتذہ کا محض ایک مطالبہ تھا کہ ہم برسوں سے کنٹریکٹ پر ہیں‘ ہمیں اب بلا مشروط مستقل کیا جائے لیکن حکومت کو اس سے کیا غرض کہ اساتذہ برے حالات سے گزر رہے ہیں یا اچھے۔

آج ہم کس دور سے گزر رہے ہیں ’کوئی صحافی‘ کوئی اینکر ’کوئی سماجی کارکن یا کوئی آزاد پاکستانی شہری اپنے حق کی بات کرتے ہوئے ڈرتا ہے‘ سو دفعہ سوچتا ہے کہ کہیں کسی جھوٹی ایف آئی آر میں نہ دھر لیا جائے۔ یہ آزادی ہے کیا؟ کیا موجودہ حکومت نے غریب عوام کے لیے یہ ریلیف پیکج تیار کیا ہے؟ جو جو زبان کھولے ’اس کی زبان بندی کروا دو‘ اس پر غدار کا پرچہ کاٹو اور جیل کی سلاخوں میں پھینک دو۔ پچھلے ہفتے احتجاج کرنے والے اساتذہ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔

لاہور میں احتجاج کے لیے شرکت کرنے والے منڈی بہاؤالدین ’گجرات‘ سیالکوٹ ’راولپنڈی‘ اوکاڑہ سمیت دیگر شہروں سے شریک اساتذہ کرام کو دوران احتجاج ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور مزید احتجاج کی کالز دینے والے محترم استادانصر شہزاد اور محترم استادانجینئر عادل خلیق پر ایف آئی آر کاٹ دی گئی۔ یعنی موجودہ حکومت اساتذہ کو عزت کیا دیتی ’ان کو کلاس رومز سے نکال کر عدالتوں میں لے آئی۔

اس سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان کو یقیناً اختلاف نہیں کہ کرونا نہیں ہے یا کرونا ایس او پیز اہم نہیں ہیں بلکہ اصل اختلاف تو یہ ہے کہ اگر تعلیمی ادارے بند کرنے ہیں تو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان کو کوئی سبسڈی تو دیں ’ان کو کسی طرح کا ریلیف تو دیں۔ کم از کم ان کے بجلی کے بل ہی معاف کر دیں‘ کم از کم نجی تعلیمی اداروں کے لیے ایک مخصوص رقم کا اعلان کر دیں تاکہ کسی حد تک وہ اپنے آپ کو اس وبائی صورت حال میں زندہ رکھ سکیں۔

یہاں تو حالت یہ ہے کہ سینکڑوں پرائیویٹ تعلیمی ادارے بند ہو چکے ’جو باقی رہ گئے وہ قرضوں کی دلدل میں پھنس گئے‘ بیس لاکھ کے قریب پرائیویٹ اساتذہ کرام کے گھروں کا چولہا بجھ گیا ’اکیڈمیز میں پڑھانے والے اساتذہ کرام بھی گھروں میں بیٹھ گئے اور مالکان حکومت سے کسی ریلیف کا انتظارکرتے مایوس ہو گئے۔ کیا یہ سسٹم ایسے ہی چلنا چاہیے یا اس میں کسی طرح کی تبدیلی ممکن ہے‘ یہ وہ سوال ہے جو نجی تعلیمی اداروں کے ملازمین حکومت سے کر رہے ہیں اور اسی سوال کے جرم میں انہیں جیلوں میں پھینکا گیا ’ان پر لاٹھی چارج کیا گیا اور انہیں زد و کوب کیا جا رہا ہے۔

کیا یہ ریاست مدینہ ہے؟ کس جمہوری ریاست میں یہ سب ہوتا ہے‘ عمران خان نے ہمیں ضیائی مارشل لاء کی یادیں تازہ کرا دیں اور پھر کہتے ہیں کہ میری ایمان داری پر شک نہ کیا جائے۔ ایمان داری کا کسی نے اچار ڈالنا ہے جب گھروں کے چولہے بجھ گئے ’غریب بے چارہ غریب سے غریب تر ہو گیا اور سرکار بہادر کی جن پر نگاہ خاص ہے وہ امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ کس ریاست مدینہ میں ہوتا ہے۔

اساتذہ اور نجی ادارہ مالکان کے مسائل کا ایک آسان حل تھا۔ وفاقی و صوبائی وزرائے تعلیم ان ادارہ مالکان سے ایک میٹنگ کرتے ’ان کے معاملات و مسائل سنتے اور غیر جانداری سے فیصلہ کرتے کہ نجی تعلیمی اداروں کے ساتھ کیسے چلنا ہے۔ بند کمرے میں بیٹھ کر یہ اعلان کر دینا کہ سمارٹ سلیبس لے آئیں‘ پیپر چار ماہ آگے لے جائیں ’نجی ادارے بند کر دیں وغیر وغیرہ۔ تو ایسے کیسے سسٹم ٹھیک ہوگا۔ مجھے خوب یاد ہے‘ میں نے (PEEF) پر دو کالم لکھے ’یہ کالم مراد راس کو بھیجے اور ان سے گزارش کی کہ جناب اس پر سوچا جائے‘ محترم جواب دینے کی بجائے شدید ناراض ہو گئے اور درجنوں بار رابطہ کرنے پر بھی کوئی جواب نہ دیا۔

ناراضی کس بات کی؟ آپ کا بنیادی کام تعلیمی میدان میں اصلاحات لانا ہے مگر آپ اصلاحات کیا لائیں گے ’آپ تو واقعی بنا سوچے سمجھے فیصلے کرنے لگے۔ جناب وزرائے تعلیم تعلیمی ادارے بند کر دینا کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔ وبائی صورت حال سے کسی کو بھی انکار نہیں مگر خدارا تعلیم پر رحم کریں‘ اساتذہ پر رحم کریں ’انہی اساتذہ کی وجہ سے آپ لوگ وزارتوں پر پہنچے ہیں (مجھے یقین ہے کہ آپ کی ڈگریاں جعلی نہیں ہوں گی )‘ آپ ان اساتذہ کرام کی محنت سے یہاں تک آئے ہیں سو خدارا ان کی عزت کا خیال کریں اور تعلیمی اداروں کے بنارے کوئی وضح اور دیر پا پالیسی مرتب کریں۔

میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ ایجوکیشن منسٹری آج سروے کروا لے ’اسے معلوم ہو جائے گا کہ سب سے زیادہ تعلیمی اداروں میں کرونا ایس و اپیز پر عمل درآمد ہوا مگر ان کو بند کر دیا گیا اورجہاں ( شاپنگ مالز‘ شادی ہالز اور سیاسی تھیٹرز میں ) ایس او پیز کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ’ان جگہوں کو کھلا رہنے دیا گیا ہے‘ یہ کیسا انصاف ہے؟ اب تو یہاں تک رپورٹ آ رہی ہے کہ اداروے جنوری کے بعد بھی مزید بند رکھنے پر غور ہو رہا اور اگر واقعی ایسا ہوا تو پھر تعلیم بچاتحریک کی بجائے تعلیم مکاؤ تحریک شروع کرنی ہوگی تاکہ اس ملک سے تعلیم کا خاتمہ ہو اور ایک بے شعور قوم تیار ہو سکے جو نہ تو اپنے حق کے لیے بولنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور ان حکومت کی کرپشن کو دیکھنے کی۔

۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •