عمران خان! آپ نے مایوس ہی کیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ممتاز مزاح نگار، مارک ٹوین ایک مضمون میں لکھتا ہے : قرضہ لینے کا مطلب ہے کہ آپ مستقبل کی ضروریات آج اپنی خواہشات کے ذریعے ملیامیٹ کر ڈالیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ پی ٹی آئی حکومت پاکستانی قوم کے ساتھ برت رہی ہے۔ اپنی شاہ خرچیوں کی بدولت شاید وہ اہل پاکستان کا مستقبل ملکی و غیر ملکی قرض داروں کے پاس گروی رکھنا چاہتی ہے۔ یہ عوام دشمن روش ایسی حکومت سے بالکل لگا نہیں کھاتی جس کے قائد، عمران خان نے بارہا پاکستانی قوم سے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آ کر وہ پاکستان کو معاشی طور پہ اپنے پیروں پر کھڑا کر دیں گے اور اسے قرضوں کی دلدل سے نجات دلائیں گے۔ ان کے دور حکومت میں تو گنگا الٹی بہنے لگی۔

اعداد و شمار کی رو سے جب عمران خان نے جولائی 2018 میں حکومت سنبھالی تو پاکستان پہ کل قرضہ 29 ہزار کھرب روپے تھا۔ آج وہ 45 ہزار کھرب روپے تک پہنچ چکا۔ یعنی ڈھائی برس کے عرصے میں پی ٹی آئی حکومت نے پاکستان پہ مزید 16 ہزار کھرب روپے کے قرضوں کا بوجھ لاد دیا۔ خان صاحب کا مقبول نعرہ تھا اور اب بھی ہے کہ پی پی پی اور نواز شریف حکومتوں نے پاکستان کو مقروض مملکت بنا ڈالا۔ مگر اپنے وطن کو قرضوں کے گڑھے میں اتارتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت نے سابقہ حکومتوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

جب 2008 میں پی پی پی حکومت آئی تو پاکستان پر کل چھ ہزار ارب روپے قرضہ تھا۔ 2013 میں رخصت ہوئی تو یہ عدد 14 ہزار کھرب روپے پہنچ چکا تھا۔ گویا پی پی پی دور میں 8 ہزار کھرب روپے قرض کا اضافہ ہوا۔ نواز شریف حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور ( 2013 تا 2018 ) میں اسے 29 ہزار کھرب روپے تک پہنچا دیا۔ یوں اس دوران 15 ہزار کھرب روپے کا اضافہ ہوا۔ مگر پی ٹی آئی حکومت نے صرف ڈھائی سال میں 16 ہزار کھرب روپے کے قرضے لے کر بقیہ جماعتوں کو پچھاڑ دیا۔ لیکن یہ خوشی نہیں غم و افسوس کا مقام ہے۔ حالات سے عیاں ہے کہ اگلے ڈھائی برس میں حکومت مزید سولہ سترہ ہزار ارب روپے کے قرضے لے کر اپنے دور میں لیے گئے قرضے کی مجموعی رقم کم ازکم 32 ہزار کھرب روپے تک پہنچا دے گی۔ گویا جولائی 2023 تک پاکستان پہ چڑھا کل قرضہ 61 ہزار کھرب روپے پہنچ سکتا ہے۔ یہ تو بڑا خوفناک منظرنامہ ہے۔

2002 میں حکومت پاکستان نے یہ قانون بنایا تھا کہ مملکت پہ چڑھے قرضوں کا مجموعی عدد قومی جی ڈی پی کی رقم کے 60 فیصد حصے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ آج مگر یہ حصہ پے در پے قرضے لینے کی وجہ سے 107 فیصد تک پہنچ چکا۔ معنی یہ کہ پی ٹی آئی حکومت ملک و قوم کو قرضوں کی لعنت سے تو کیا نجات دلاتی، اس نے پاکستانی عوام کا بال بال قرضے کی زنجیروں سے جکڑ دیا۔ شاوا بھئی شاوا!

عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں۔ مگر کیا انھیں یہ معلوم نہیں کہ پاکستان میں بعض ٹیکس مثلاً سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس سراسر غیر اسلامی ہیں؟ سونے پر سہاگہ یہ کہ ان کی حکومت نے قومی بچت کے 10 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو بڑھا کر 15 فیصد کر دیا۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ قومی بچت میں نچلے اور متوسط طبقوں کے لاکھوں عام پاکستانیوں نے اپنی جمع پونجی رکھی ہوئی ہے تاکہ آمدن میں کچھ اضافہ ہو سکے؟ 15 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کر کے ان کی مدد کرنے کے بجائے نفاذ اسلامی نظام کی دعوی دار حکومت نے الٹا اس میں اضافہ کر ڈالا۔

آج فقہائے اسلام زندہ ہوتے تو اس فعل کو عام آدمی پہ ظلم قرار دیتے جو گناہ کبیرہ میں شامل ہے۔ موجودہ حکومت آخر کسے دھوکا دے رہی ہے؟ وہ تو ایسے بنیے کے مانند ہے جس کے منہ پہ رام رام اور بغل میں چھری ہوتی ہے۔ یاد رہے، ٹیکسوں کی شرح میں اضافے سے بھی پی ٹی آئی حکومت کے دور میں بے پناہ مہنگائی بڑھی ہے۔ یہ ساری سرگرمیاں ایسی حکومت کو زیب نہیں دیتی جس کے لیڈر خود کو عوام دوست اور ریاست مدینہ کے وارث کہتے نہیں تھکتے۔

یہ کوئی عذر نہیں کہ حکومت پچھلی حکومتوں کے لیے گئے قرضے اتار رہی ہے، اس لیے نئے قرضے لینے پڑے۔ عوام پاکستان پی ٹی آئی کے لیڈروں کو اسی لیے اقدار میں لائے کہ وہ ایسے اقدامات کرتے، حکومت مزید قرضے کم سے کم لیتی۔ صورت حال سے مگر آشکارا ہے کہ وہ اپنے فرائض کماحقہ انداز میں پورے نہیں کر سکے۔ اب این آر او یا بھارت کے پیچھے پناہ لینے سے بات نہیں بنے گی، پی ٹی آئی حکومت کو عوام کی بہتری کے لیے کچھ کر کے دکھانا ہو گا۔ ویسے بقول داغ دہلوی حالات تو یہ ہیں :

نا امیدی بڑھ گئی ہے اس قدر
آرزو کی آرزو ہونے لگی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •