‘ایپل’ والے اب خودکار گاڑیاں بھی بنائیں گے: 2024 تک مارکیٹ میں آنے کا منصوبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں آئی فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ بنانے کے حوالے سے مشہور امریکی کمپنی ‘ایپل’ کی نظریں اب آٹو موبائل شعبے پر جمی ہیں اور 2024 تک ایپل کمپنی ڈرائیور کے بغیر چلنے والی کار متعارف کرا سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ نے کمپنی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایپل مسافر گاڑی کی تیاری کے ساتھ ساتھ جدید ترین بیٹری پر بھی کام کر رہی ہے۔

اپیل کی از خود چلنے والی کار کے منصوبے کو ‘ٹائٹن’ کا نام دیا گیا ہے۔ پروجیکٹ ‘ٹائٹن’ کے تحت 2014 میں کار کا ڈیزائن تیار کیا گیا تھا۔ البتہ ایک مرحلے پر اپیل نے کار کے منصوبے پر کام روک کر اپنی توجہ سوفٹ ویئرز کی تیاری اور دیگر اہداف کے حصول پر مرکوز کر دی تھی۔

ایپل کمپنی کے اندرونی معاملات سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ ایپل اب صارفین کے لیے بڑے پیمانے پر کاریں بنانے کی مںصوبہ بندی کر رہی ہے۔

کمپنی ایک نئی بیٹری بھی ڈیزائن کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے بیٹری کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے اور گاڑی کی استعداد میں بھی اضافہ ہو۔

‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق کار کی تیاری میں ایپل کو سپلائی چین کا چیلنج در پیش ہو گا۔ حالاں کہ اپیل وہ کمپنی ہے جو ہر سال کئی الیکٹرونک مصنوعات بناتی ہے اور دنیا بھر میں اس کی مصنوعات استعمال ہوتی ہیں۔

پروجیکٹ ‘ٹائٹن’ میں شامل ایک عہدیدار کے مطابق اگر دنیا میں کوئی کمپنی از خود چلنے والی کار پر بہتر طریقے سے کام کر سکتی ہے تو وہ اپیل ہی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ سیل فون بنانے جیسا کام نہیں۔

یہ بات ابھی واضح نہیں کہ ایپل کی گاڑی کو کون اسیمبل کرے گا۔ البتہ مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق کمپنی گاڑی کی تیاری کے لیے اپنے پارٹنرز پر انحصار کرے گی۔

ایپل کے منصوبوں سے باخبر ذرائع نے پیش گوئی کی ہے کہ وبا کے باعث اپیل کی گاڑی سامنے آنے میں تاخیر ہو سکتی ہے اور ممکن ہے اپیل کی گاڑی 2024 کے بجائے 2025 میں منظرِ عام پر آئے۔

تاہم ایپل نے از خود چلنے والی گاڑی کی تیاری کے منصوبے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 997 posts and counting.See all posts by voa