نوشہ میاں تیار نہیں تھے


ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ نوشہ میاں کی بات پکی ہو گئی تھی۔ ان کی ماں کہاں کہاں نہیں پھریں۔ کس کس در پر رشتہ لے کر نہیں گئیں۔ کس کس درگاہ پر چادر نہیں چڑھائی۔ لیکن خدا جانے کسی حاسد نے کیسا تعویذ گنڈا کیا تھا کہ کوئی ہاں کرتا ہی نہ تھا۔ چٹا جواب مل جاتا تھا کہ ”مانا لڑکے کی جائیداد کے نام پر ایک وراثتی مکان ہے، شہر میں نام ہے، خوبرو ہے، مگر کرتا کیا ہے؟ جب سے نوکری چھوڑ کر گھر بیٹھا ہے بالکل ہی فارغ ہو گیا ہے۔ کہتا ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے یتیم خانہ چلا رہا ہوں، مگر صاحب، ہمیں تو بہت شرم آتی ہے جب لوگ کہتے ہیں کہ جس لڑکے کا پیغام آیا ہے وہ گھر گھر گھوم کر چندہ مانگتا ہے اور اس کا اپنا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے“ ۔

دس برس گزر گئے۔ پت جھڑ کا سماں ہوا۔ پتے زرد پڑنے لگے۔ بیس برس گزر گئے تو یہ خزاں سر کے بالوں میں بھِی اتر آئی اور وہ بھی جھڑنے لگے۔ ایسے میں اچانک ایک شریف خاندان نے ہاں کر دی۔ بلکہ خاندان نے ہاں کہاں کی تھی، سچ پوچھیں تو ان کی اکلوتی لڑکی نے خود دل ہارا تھا اور زبردستی ہاں کروائی تھی۔ نام تو اس عفیفہ کا حکمت بانو تھا مگر جب پہلے پروفیسر اور پھر گرلز کالج کی پرنسپل بنیں تو ایسے رعب داب سے کالج چلایا کہ حکومت آپا کہلانے لگیں۔ شریر سے شریر، نٹ کھٹ سے نٹ کھٹ، چنچل سے چنچل لڑکی کی مجال نہیں تھی کہ ان کے آگے نظر بھی اٹھا سکے۔

پہلے ان کی ایک شادی ناکام رہی تھی۔ دوسری اس وقت ناکامی کی راہ پر گامزن تھی۔ میاں کو وہ اس کے گھر بھیج چکی تھیں اور اب خلع لینے کے لیے اپنے وکیل کی مدد سے معقول وجہ تلاش کر رہی تھیں۔ کہتی تھیں کہ دونوں شوہروں کے کردار میں کجی تھی اور انہوں نے ان کی زندگی برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

ایسے میں ایک دن نوشہ میاں ان کے کالج میں چندہ مانگنے گئے تو دل لے آئے۔

اس دن نوشہ میاں اپنے یتیم خانے کے لیے چندہ مانگنے حکومت آپا کے گرلز کالج چلے گئے تھے۔ گیٹ پر ہی شریر لڑکیوں کے غول بیابانی نے گھیر لیا۔ وہ انہیں پکڑ کر چندے کے ڈبے سمیت کینٹین لے جا رہی تھیں کہ راستے میں حکومت آپا مل گئیں۔ دیکھا کہ ایک خوبرو نوجوان لڑکیوں میں گھرا ہوا ہے، شرم حیا سے منہ لال ہے، کہیں کے کہیں قدم پڑتے ہیں، نظر نیچے قدموں پر جمی ہے، حواس گم ہیں، ہوش اڑ چکے ہیں، قربان ہوئے جاتے ہیں۔ حکومت آپا ان کی معصومیت پر وہیں فدا ہو گئیں۔ انہیں پہلے تو اس چنڈال چوکڑی کے پنجے سے چھڑایا، اپنے دفتر لے جا کر اپنے ہاتھوں سے ٹھنڈا پانی پیش کیا تو نوشہ میاں غٹاغٹ پورا جگ چڑھا گئے۔

حکومت آپا نے آنے کی غرض و غایت دریافت کی تو نوشہ میاں نے بتایا کہ وہ یتیم خانے کے مہتمم ہیں اور چندہ مانگنے آئے تھے کہ لٹ گئے۔ اجی وہ کہاں لٹے تھے، لٹ تو حکومت آپا گئی تھیں۔ خیر کالج کی اسمبلی میں حکومت آپا کی اپیل پر نوشہ میاں کو ڈھیروں ڈھیر چندہ مل گیا۔ پھر چندے کے سلسلے میں اکثر آمد ہونے لگی۔ اب عطیات کہاں معاملہ تو نوشہ میاں کی چندا کا ہو گیا تھا۔ کوئی دو برس عطیات کے معاملات طے ہوتے رہے۔ نوشہ میاں کے تعاون سے اور وکیل کی چالبازی سے حکومت آپا نے اپنے میاں سے نہ صرف خلع پائی بلکہ اسے جیل بھی کروا دی۔ پھر ایک دن اچانک حکومت آپا نے نوشہ میاں کو حکم دیا کہ وہ اپنی اماں کو رشتہ مانگنے ان کے گھر بھیجیں۔

ہاں ہوئی تو دونوں گھروں میں چٹ منگنی کے بعد پٹ شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ نہ تو نوشہ میاں کی اماں کے ارمان پورے ہوتے تھے اور نہ خود ان کے اپنے۔ ہبڑ تبڑ میں ایک دوست بھیجا اور زریں کڑھائی والی شیروانی اور دوسرے کے ذریعے کلاہ کا آرڈر دیا۔ تیسرے دوست کے ہاتھ سنہرے طلے والے سلیم شاہی جوتے بننے کے لیے دیے گئے۔ نوشہ میاں نے بالوں کو رنگوایا، فیشل کروایا۔ انہیں یقین ہو گیا کہ ان کی تیاری پوری ہے اور اب شادی کے پنڈال میں ہر نوجوان ان کے آگے ماند پڑ جائے گا۔

شادی کا میلہ سجا لیکن نوشہ میاں ندارد۔ مولوی صاحب نکاح نامہ سامنے رکھے بیٹھے ہیں مگر نوشہ میاں غائب۔ اماں نے لوگ دوڑائے، پتہ کروایا تو علم ہوا کہ نوشہ میاں کمرے میں بند ہیں اور باہر نکلنے کو راضی نہیں۔

اماں نے پوچھا کہ کیا ہوا؟

نوشہ میاں بولے ”اماں میں تیار نہیں۔ کلاہ دو نمبر بڑی ہے تو جوتا تین نمبر چھوٹا۔ پاجامہ ٹخنوں تک بھی نہیں پہنچتا راستے میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔ شیروانی ایسی سلی ہے کہ مولوی صاحب کو ہی فٹ آئے گی، مجھ جیسے تو اس میں دو سما جائیں۔ مجھے شادی کی خوشی میں خیال ہی نہیں آیا کہ خود بھی کچھ تیاری کرتا اور جا کر ٹھیک سے ناپ دے آتا۔ جن دوستوں کو بھیجا تھا ان کے الگ الگ ناپ کی ہر شے بن گئی ہے“ ۔

خیر جلدی میں ادھر ادھر کے گھروں سے مانگ کر چیزیں پوری کی گئیں اور نکاح کی رسم ہوئی۔ رخصتی بھی ہو گئی۔ ولیمے کی صبح اماں یہ دیکھ کر پریشان ہو گئیں کہ نوشے میاں کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں۔ اماں نے حال پوچھا تو نوشہ میاں کہنے لگے کہ اماں یہ تو شادی کے بعد پتہ چلا میں تیار نہیں تھا۔

اماں یہ سوچ کر مسکرا دیں کہ ابھی بچہ ہے، عمر ہی کیا ہوتی ہے چالیس برس کی۔ کچھ دن میں سنبھل جائے گا۔

ولیمہ ہوا اور چوتھی کے لیے نوشہ میاں حکومت آپا کے ساتھ ان کے میکے پہنچے۔ دو دن کے بعد وہ پلٹے تو تنہا تھے۔ بلکہ تنہا کہاں تھے، پیچھے پیچھے تین گدھا گاڑیاں تھیں جو جہیز کا سامان واپس لے جانے آئی تھیں۔ ابھی دلہن کے ہاتھوں پر سے مہندی بھی نہ اتری تھی کہ نوشہ میاں اس کے دل سے اتر گئے۔

اماں نے متوحش ہو کر پوچھا کہ نوشہ میاں، یہ کیا؟ دلہن کہاں ہے؟ کیا ہوا؟

نوشہ میاں نے جیب سے ایک ڈبیا نکالی اور بہکی بہکی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگے ”حکیم صاحب نے کہا تھا کہ تم نے گھبرانا نہیں ہے، بس دو خوراکیں کھانے کے بعد سمجھنا کہ تمہاری تیاری پوری ہے۔ لیکن حکومت آئی تو پتہ چلا کہ ابھی میں تیار نہیں تھا“ ۔

اشاعت اول: Dec 23, 2020


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1516 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar