ید بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں


مجھے پختہ یقین ہو چلا ہے کہ حکومت کی تمام پالیسیوں اور اقدامات کا مقصد لوگوں کی روحانی تربیت، تزکیہ نفس اور راہ سلوک میں ان کی بلندی درجات کو یقینی بنانا ہے۔ یہ قوم ناشکری کی راہ پر تھی۔ مادہ پرستی ہر سطح پر سرایت کر چکی تھی۔ محض دنیا سنوارنے کی باتیں ہوتی تھیں۔ دنیاوی ترقی کو انسان کی منزل اور مقصد سمجھ لیا گیا تھا۔ صنعتیں، ذرائع نقل و حمل، روزگار کے مواقع، علاقائی تجارت، نئی منڈیوں کی تلاش جیسے مادی موضوعات ہی حکومتی و عوامی گفتگو میں ملتے تھے۔ رب کا شکر ہے آج یہ مادی موضوعات و امکانات اپنی موت آپ مر گئے ہیں۔ شکر گزاری کا یہ عالم ہے کہ اگر کسی کو ایک انڈہ، سیر آٹا، چمچ گھی اور پیالہ کھانڈ کا مل جاتا ہے تو کلمہ شکر ادا کرتے اس کی زبان نہیں سوکھتی۔

عالم اسباب سے بے نیازی اور بے رغبتی کا یہ عالم اس سے پہلے تاریخ میں صرف بدھ بھکشوؤں کے ہاں دیکھنے کو ملتا ہے جو دنیا ترک کر کے خانقاہوں تک محدود ہو جاتے تھے۔ اور اگر کسی نے کاسہ گدائی میں کچھ ڈال دیا تو صبر شکر سے کھا لیا ورنہ پڑ رہے کلمہ شکر پڑھتے پڑھتے۔ آج تاہم مملکت مدینہ ثانی میں بے نیازی کا رنگ کچھ سوا ہے۔ بدھ بھکشو بے نیازی کے لیے خانقاہوں میں بسنے کے محتاج تھے جبکہ اپنی ترکیب میں خاص یہ ساکنان مدینہ ثانی بھرے بازاروں کے بیچ بیٹھ کر آسائشات دنیاوی کو درویشانہ حقارت سے رائٹ آف کر رہے ہیں۔

ٹھنڈے ٹھار بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑا دینے والی قوم اتنی تن آسان اور آرام طلب ہو چکی تھی کہ بجلی اور گیس کی بندش اور موسم کی شدت پر بلبلا اٹھتی تھی۔ رب کی رحمتیں حکومت کے شامل حال رہیں، وہ سہل طلبی قصہ ماضی بن چکی۔ آج شکر گزاری، جفا کشی اور پیسے سے بے رغبتی کا یہ عالم ہے کہ گیس سے مکان گرم کرنے اور گیزر جیسی عیاشی کا کوئی نہیں سوچتا۔ چولہا جلا کر انڈہ تلنے میں کامیاب ہونے اور پھر ایندھن کے اس اسراف پر جھولیاں بھر کر بل ادا کرنے پر بھی روحانی مدارج طے کرتے 22 کروڑ صوفیا شاداں و فرحاں رہتے ہیں۔

ہماری نظروں کے سامنے تاریخ بن رہی ہے۔ وہ ملک جو اسلام کی تجربہ گاہ بننے کو وجود میں آیا تھا اور جسے کوتاہ بین قیادت نے دنیاوی شان و شوکت اور مال اسباب کے حریص لوگوں کا مسکن بنا دیا تھا آج اقوام عالم کی برادری میں ایک سرکردہ روحانی قوم کے طور پر ابھر رہا ہے۔

شاعر کی دور بیں نگہ نے شاید یہی عروج پردہ تصور پر دیکھا اور کہا تھا
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو
ید بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

حضرت اقبال مستقبل میں جھانکنے میں تو کامیاب ہو گئے تھے لیکن شاید یہ بات ان کے احاطہ خیال میں بھی نہیں آئی تھی کہ یہ درویشانہ انقلاب اتنا ہمہ گیر اور جامع ہو گا کہ چند ایک نہیں بلکہ وقت آئے گا کہ قوم کی قوم راہ سلوک پر منزلوں پر منزلیں مارتے آگے بڑھ رہی ہو گی۔

آگے کہاں؟ خاکسار سا دنیا کی رغبت میں غلطاں گمراہ شخص تو اس سوال کا حتمی جواب دینے کی تاب یا علم نہیں رکھتا۔ غوث زمانہ اور ان کے چند خلفا تاہم اشارتاً کہتے ہیں کہ حتمی سکون زیر زمین ہی ممکن ہے۔

Facebook Comments HS