ٹائم لائن تھراپی (حصہ دوم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آخر ماضی سے منسلک منفی سوچ اورجزبات کوچھوڑنا کیوں ضروری ہے؟

ہماری سوچ میں شعور سے لاشعور تک اور لاشعور میں پہلے سے موجود اور روزانہ کی بنیاد سے ملنے اور اسے سمجھنے والی معلومات پرانحصارکر کے ہم اپنے ساتھ اوردوسرے انسانی رشتوں کے ساتھ کے تعلقات اورخیالات پر منفی اورمثبت اثرڈالتے

بچپن، جوانی اور بڑھاپا کب آیا اورکب ختم زندگی بس اتنی ہی مختصر

اس کرہ ارض پر ہم تمام انسان ایک دوسرے انسان سے مختلف اور نایاب ہیں اوراسی طرح ہرانسان کے اندرمختلف خامیاں اورخوبیاں، برائی اوراچھائی، کم اورزیادہ مقدارمیں موجود ان کی تلاش ہماری اپنی ذمہ داری ہیں

ٹی ایل ٹی یعنی ٹائم لائن تھراپی اپنے آپ سے اوردوسروں سے محبت اورخوبیوں کی پہچان کروانے میں بہترین آرٹ کی صورت میں مددگار ثابت ہوتی ہے نظریہ فن یا آرٹ کے بارے میں اپنے شاعرمشرق ڈاکٹر سرعلامہ محمد اقبال کا ذاتی خیال ہے کہ ہر وہ آرٹ جو زندگی کے لیے فائدہ مند ہے وہ اچھا اورجائز ہے اورجوآرٹ زندگی کے خلاف ہو وہ ناجائزاورجوانسانوں کی ہمت کو پست اوران کے جذبات عالیہ کو مردہ کرنے والا ہو وہ قابل نفرت ہے اوراپنے آپ سے محبت اورخیال رکھنا خودغرضی نہیں لیکن اپنی خامی اورکمی کو مکمل نظراندازہورحل کیے بغیرپورے ہوش و حواس کے ساتھ صرف اپنی غرض کی تسکین کرنے کے لیے جبراً دوسرے انسان یا جاندارکو کنٹرول کرنا، اختیارات اورمنصب کا ناجائزاستعمال کرنا انتہائی پیچیدہ ذہنی مسئلہ بن جاتا ہے کیوں کہ اس طرح کی سوچ اورخیالات سے ہم اپنے اندراپنے لیے اور دوسرے سے تعلقات کے درمیان زہر کی دیوار بنا کرایک جرم اورگناہ کربیٹھتے

ہم اپنے ذہنی تناؤ کو آخرکس طرح سمجھتے، دیکھتے اورمحسوس کرتے آخراس کا کیا جواب دیتے ہیں؟ کیوں کہ انسان کا خود اپنی جانب سے اپنی ذات کا احتساب اگر وہ خود کرنا چاہے تو اس کی اصلاح ممکن ہے اس لیے کہ یہ ایک حل طلب جذباتی امورہے اورزہنی تناؤ کی شدت کو بھی متاثر کرتا ہے کیوں کہ جو سوچ ہمارے اندرایک واقعہ یا بات کو لے کر بنتی ہمارے اندر پہلے سے موجود شدہ معلومات میں تحلیل ہوکرخود بخود ہمارے لفظوں سے لپٹ کر لہجے اور برتاؤ میں ظاہر ہوکرآتا

ہم انسان نعوزو باللہ خدا یا اس کائنات کے مالک نہیں اوردنیا کے ہرملک کے معاشرے کو کنٹرول اورمختلف جرائم کو نمٹنے کے لیے قانون کی موجودگی جو کہ تمام شواہد، قاضی اورحکومتی عہدیداران کا اپنی ذات کے اندر اپنے اپنے منصب کی پہچان، عزت اورایمانداری پرمنحصر ہوتا اورہرچھوٹے بڑے انسانی عمل کے پیچھے جو نیت ہے اسے سمجھنے کے لیے کائنات کے اصل مالک کی ہی ذمہ داری ہے لہٰذا تمام مختلف انسانوں سے تعلقات اورآپس کے معاملات میں توازن، احترام اورسمجھنے کے ساتھ ایک دوسرے کو انسان ہی سمجھنے میں بہتری، کامیابی اورنیک ہدایت ہے

اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے، وہ نظر کیا

کبھی فائن آرٹس کے طالب علموں کو ایک کلاس میں گول دائرے میں بیٹھے ایک ماڈل پرکام کرتے دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے؟ وہاں تمام طالب علموں کے سامنے ان کے درمیان میں ایک آبجیکٹ یا ایک ماڈل رکھ دیا جاتا ہے اور تمام طالب علم اسے اپنی اپنی بیٹھی یا کھڑی جگہ پرسے اس ماڈل کی ڈرائینگ یا آرٹ جو ان کو جیسا اورجتنا آبجیکٹ یا ماڈل نظرآ رہا ہوتا وہ سب طالب علم اپنے آرٹ پیپر پر بنا رہے ہوتے، سارے طالب علموں کا ماڈل تو ایک ہوتا مگر ہر کوئی ایک دوسرے سے مختلف ہی بنا کر اپنے پیپر پر اتار رہا ہوتا کیونکہ ہرطالب علم اپنے زاویے سے جتنا اورجیسا اس فرد کو دکھائی اور سمجھ آ رہا ہوتا وہ اسے بنا رہا ہوتا بس ہمارے اپنے ساتھ اوردوسروں کے ساتھ اچھے برے تعلقات کا بھی اسی طرح کے کچھ معاملات ہیں کیوں کہ ہم جن مخصوص کلچر، افراد، عقائد، مذہب، سماجی تعلقات کے گرد زندگی بسرکر رہے ہوتے اوراپنے حواس خمسہ سے گزارتے ہوئے اپنے ہی شعور سے لاشعورمیں داخل کر رہے ہوتے اوروہاں پہلے سے موجود ماضی کی آڈیو وڈیومیں شامل ہوکراوراس وقت اپنے اندر پیدا ہونے والے احساسات کے ساتھ مل کرخیالات کی صورت میں آنا شروع ہوجاتی اوروہیں انسان کو ملے اس اعزاز ”اشرف آلمخلوقات“ ہونے کا خاص سبب ”عقل“ کے استعمال کا راستہ بن کرمستقبل کے لیے اپنے اوردوسروں کے لیے کام آتی اورہاں!

ہمارا یہی دماغ صرف ماضی سے جڑے واقعات اوراحساسات کو صرف محفوظ کرنے میں نہیں لگا بلکہ موجود شدہ معلومات کوایک نئی تخلیق اورنئے واقعات بنانے کا کام بھی کرتا ہے اگر ہم سوچیں تو جیسے فکشن کہانیاں، ہوا میں اڑنا، بھوت پریت، دیو اورپری کی کہانیاں بنانا اورسنانا جس کو اگراصل حقیقت دینے کے لیے انسان اپنے شعور سے لاشعور کی حقیقت، ذرائع اوریقین کی پختگی پرنکل اٹھے توایجاد اورترقی بنا دے

بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضرب کلیمی نہیں رکھتی و ہ ہنر کیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •