اپنے بچوں کو دوست بنائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئے دن یہ بات سننے اور مشاہدے میں آتی ہے کہ بچے غلط صحبت کا شکار ہیں اور زیادہ تر تان اس بات پہ ٹوٹتی ہے کہ جی آج کل زمانہ بہت خراب ہے سوشل میڈیا نے بچوں کو خراب کر دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد پہلا حکم یا آرڈیننس یہ جاری ہوتا ہے کہ آج سے بچے کا باہر جانا بند، دوستوں سے ملنا ختم، موبائل فون ضبط، انٹر نیٹ بند، غرض اس طرح کی بے پناہ پابندیاں لگا دی جاتیں ہیں جو کہ راقم کے خیال میں مسلے کا حل ہرگز نہیں ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے جس کا سامنا تقریباً تمام والدین کو ہے اور اس کے علاوہ ان تمام احباب کو اس کا جلد یا بدیر سامنا کرنا پڑے گا جو خاندان بنانے کے سہانے خواب میں گرفتار ہیں۔ بچوں کو آپ جتنا مرضی اپنی زیر نگرانی رکھ لیں مگر بچے جس چیز کو جاننا چاہتے ہیں اس سے لا علم نہیں رہ سکتے۔ بچوں کی یہ لاعلمی دو طرح سے دور ہوگی یا تو بچے اپنے ذرائع سے جاننے کی کوشش کریں گے یا آپ خود بچوں کو بتائیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ آپ اپنے بچوں کو دوست بنالیں اور ان کی یہ لاعلمی خود دور کریں۔ بچے جو بات جاننا چاہتے ہیں وہ آپ سے یہ بات شیئر کریں گے اور آپ ان کی جاننے کی کوشش کو مزید بہتر بنا سکنے کے ساتھ ساتھ اسی دوستی دوستی میں ان پر مناسب چیک اینڈ بیلنس رکھ سکتے ہیں۔

اسی ضمن میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ دوران تربیت بچوں کو ایسی باتیں تواتر سے ہرگز نا کہیں مثال کے طور پر، ”اس طرح مت کرو، یہ غلط چیز ہے، وہاں مت جاؤ، ایسا مت کرو“ یعنی کہ ہروقت اور بغیر کسی ٹھوس وجوہ کی تنقید کرتے رہنا۔ ایک اور بات کا خاص خیال رکھیئے کہ کسی کے سامنے بچوں پہ تنقید ہرگز نا کی جائے۔ اس کے علاوہ کم سن بچوں کو تجسس میں بھی مبتلا مت کریں۔ مثال کے طور پر ”چولہے کو ہاتھ مت لگاؤ“ اس کی بجائے یہ سکھائیں کہ چولہے کی آگ ہاتھ جلا سکتی ہے۔

ایک اور بات جس کا بہت زیادہ خیال رکھا جانا چاہیے لیکن والدین اتنا زیادہ ہی اس بات کو نظر انداز کرتے ہیں وہ بچے کی ریسپکیٹ کا معاملہ ہے۔ ہم بچوں کو عموماً ہر وقت ہر جگہ واحد کے سیغے سے مخاطب کرتے ہیں مثال کے طور پہ ”تم ادھر آو، تمہیں نظر نہیں آتا“ اگر جملے جمع کے سیغے کے ساتھ ایسے ہوں، مثلاً آپ ادھر آیئے، آپ احتیاط کیجیئے ”تو بچے فخر محسوس کرتے ہیں اور ان میں اعتماد بھی زیادہ پیدا ہوتا ہے۔

کوشش کیجیئے بچے کو جو بات بھی سکھانی ہے اسے کھیل کھیل میں سکھائیے۔ یعنی بچے کو براہ راست لیکچر دینے کی یا سیانے بن کر سمجھانے کی کوشش سے گریز کریں۔ سکھانے والی بات کو ہلکے پھلکے انداز میں بچے کی روز مرہ زندگی کے معمولات کا حصہ بنائیے۔ مثال کے طور پر کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کا معمول ہو یا بچے کا سونے کے لیے بستر پر جانے سے پہلے والدین کو شب بخیر کہنا۔ یہاں کورین معاشرے کی مثال دینا ضروری سمجھتا ہوں جو کہ میرے قارئین کے لیے بھی دلچسپ ہو گی۔

کورین بچے جب روتے ہیں تو عمومی طور پر والدین غصے کا اظہار نہیں کرتے۔ اور والدین نا ہی بچے کو چپ کروانے کی زیادہ کوشش کرتے ہیں۔ دو سال کی عمر سے بچے کو سلام لینے کی تربیت شروع ہو جاتی ہے۔ تین سال کا بچہ ہو اور آپ اسے ملیں تو یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ آپ کو سلام نا کرے، جسے کورین زبان میں ”انسا“ یعنی ہیلو کہا جاتا ہے جیسے ہم اسلام علیکم کہتے ہیں۔

ہمارے خیال میں بچوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی تربیت اور مسلسل تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ دور معلومات کی تیز ترین ترسیل کا دور ہے اس لیے بچوں کے تجسس والے موضوعات ان کو خود بتایئے۔ اگر آپ نہیں بتائیں گے تو اس نے اسکول جانا ہے، محلے میں نکلنا ہے، کھیلنا ہے، بازار جانا ہے اور وہ ان تمام موضوعات اور پہلوں کی معلومات اور جانکاری بھی حاصل کرلیتا جو ایک انجانا خوف بن کر ہمیشہ آپ پر سوار رہتیں ہیں لہذا آپ تمام پہلوں پہ اپنے بچوں کی خود تربیت کیجیئے۔

نوٹ: بچوں کو سمجھاتے وقت آپ کا انداز اصلاحی و دوستانہ ہونا چاہیے نا کہ تنقیدی و تحکمانہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •