خدمات کے معاوضے کا تعین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمومی طور پر معاوضے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ عوض الشئی اور عوض الخدمہ۔ عوض الشئی میں کوئی چیز فروخت کر کے اس کا عوض منافع وصول کیا جاتا ہے جبکہ عوض الخدمہ میں کوئی چیز بیچنے کی بجائے کوئی خدمات بیچی جاتی ہیں جن کا معاوضہ وصول کیا جاتا ہے۔

شریعت اسلامیہ ایسے تمام معاہدوں کو ناجائز قراردیتی ہے جن میں خطر کا امکان ہو۔ مثلاً چیز کا دیکھے بغیر خریدنا، چیز کا وزن کیے بغیر یا ماپے بغیر اندازے سے سودا کرنا، چیز کو قبضہ میں لیے بغیر آگے بیچنا، چیز خریدنے کے بعد کچھ دن دیکھنے کے لیے نہ لینا، اس طرح کے دیگر احکام کا مقصد خریدنے اور بیچنے والا کو رسک اور جوے سے بچانا ہے۔ شریعت چاہتی ہے کہ معاشی سرگرمی اس طرح ہو کہ پیدائش دولت بھی ہوتی رہے اور معاشی سرگرمی میں شریک ہونے والے ہر فرد کے سرمائے کا بھی تحفظ ہو۔

اس مقصد کی خاطر شریعت معاوضوں کی تعیین کی بھی پابند کرتی ہے۔ عام طور پر جو خدمات ( Services) لی جاتی ہیں ان میں کام یا وقت کا معاوضہ مقررکیا جاتا ہے۔ اس کی کئی دیگر صورتیں بھی ہو سکتی ہیں۔

1۔ مخصوص ٹارگٹ دیا جاتا ہے کہ یہ کام اتنے پیسہ میں کردو۔

2۔ مخصوص وقت طے کر لیا جاتا ہے کہ آپ نے اتنے گھنٹہ کام کرنا ہے۔ مستقل نوکریاں عام طور پر انہی شرائط پر ہوتی ہیں۔

3۔ وقت اور کام دونوں طے کرلیے جاتے ہیں۔
4۔ کام کو ماپ لیا جاتا ہے اور ماپ کا ایک معاوضہ مقرر ہوتا ہے جو وصول کر لیا جاتا ہے۔

5۔ وقت اور کام کی تعیین کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ مثلاً آپ نے صبح 8 : 30 بجے سے چار بجے تک بطور مالی کام کرنا ہے۔ وغیرہ وغیرہ

علاوہ ازیں مختلف معاہدوں میں مختلف شرائط بھی شامل ہوتی ہیں جیساکہ کام مکمل ہونے کے بعد کام کے معیار کو چیک کر کے معاوضہ دیاجائے گا، معاوضہ ہفتہ وار دیا جائے گا یا ماہانہ، بعد میں دیا جائے گا یا شروع میں وغیرہ۔

اسلام خدمات کے معاوضہ کے حوالہ سے تمام ترباتوں کی وضاحت کرنے کی تلقین کرتا ہے اور سرمایہ دار کو ہاتھ اوپر رکھنے کا حکم دیتا ہے کہمزدور پر آسانی والا معاملہ کرے اور پسینہ خشک ہونے سے پہلے معاوضہ ادا کردے۔

پاکستان میں معاوضوں کی تعین اور ادائیگی کے حوالہ سے حالات پریشان کن ہیں۔ اولاً معاوضے معمولی ہوتے ہیں، کام کی نسبت کم ہوتے ہیں، لیکن مجبور عوام کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ جیساکہ گھروں میں کپڑے دھونے والی خادماؤں کے معاوضے علاقہ اور اہل ثروت کے حساب سے مختلف ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں معاوضے معقول ہیں مگر عموماً دیہات میں معاوضے بہت کم ہیں۔ گھروں میں کام کرنے والی عورتوں کے فی کام معاوضے مقررہوتے ہیں جیسے صفائی کا ایک ہزار، برتن دھونے کا ایک ہزار ماہانہ۔

اس سے کم معاوضے بھی دیکھے گئے ہیں۔ 34 روپے کے عوض کوئی گھر کی صفائی کرے یا برتن دھوئے۔ حکومت پاکستان نے کم از معاوضہ مقررکیا ہوا ہے وہ بھی پندرہ ہزار سے اوپر ہے مگر نجی انڈسٹری 8، 9 ہزار سے معاوضے شروع کرتی ہے۔ عموماً گارڈ کی سخت ڈیوٹی کرنے والے افراد کے معاوضے 8 سے 15 کے درمیان دیکھے گئے ہیں اس پر مستزاد اکثر جگہوں پر ہفتہ وار چھٹی بھی نہیں ہے اور 8 گھنٹے کی بجائے دن اور رات کی شفٹ کرنی پڑتی ہے۔ غرض معاوضوں کا کام کی نسبت کم ہونا یہ عام ہے۔

دوسرا اہم مسئلہ پاکستان کے ماحول میں نوکریاں بغیر معاہدہ کے دی جاتی ہیں۔ ایسا غیر پیشہ وارانہ ماحول بنا دیا گیا ہے کہ زبانی کلامی باتیں کرلی جاتی ہیں کوئی تحریری معاہدہ نہیں کیا جاتا۔ اگر تحریری معاہدہ کیا بھی جائے تو وہ عام طور پر یک طرفہ ہوتا ہے۔ فرم اپنے مفادات اورتحفظات کے لیے اس معاہدہ پر مزدور کے دستخط لے لیتی ہے اور معاہدہ اپنے پاس رکھتی ہے۔ نوکری کے معاملات طے کرتے وقت کوئیتحریری معاہدہ اس لیے نہیں کیا جاتاکہ معاہدہ کسی ٹھوس بنیاد پر کیا جاتا ہے جس کا ملازم کو بھی فائدہ ہو سکتا ہے، دوسرا اس لیے نہیں کیاجاتا کہ جب چاہیں مزدور کو نکال سکیں اور جب چاہیں فرم کی مانیٹری پالیسی تبدیل کرسکیں۔

مستقل یا لمبے عرصہ کی ملازمتوں میں زبانی کلامی یا تحریری معاہدہ کرتے وقت (معاہدہ کم جائنگ لیٹر زیادہ) یہ طے نہیں کیا جاتا کہ علیحدگی کیسے ہونی ہے۔ ملازم اگر چھوڑے گا تو کتنا عرصہ پہلے نوٹس دے گا اور اگر فرم نکالے گی تو کتنے عرصہ کا نوٹس یا تنخواہ دے گی۔ ایسی صورتمیں فرمز کا جب دل کرتا ہے بندے کو بغیر وجہ بتائے، بغیر وقت دیے نکال دیتی ہیں اور اگر بندہ 1 ماہ کے نوٹس بغیر چھوڑے تو اس کے واجب الادا معاوضے روک لیے جاتے ہیں۔ یہ سراسر زیاتی اور ناجائز ہے۔ ملازم اور فرم دونوں کی طرف سے چھوڑنے کا طریقہ کار جائنگکے وقت طے کرنا ضروری ہے۔

بعض نوکریاں ایڈمنسٹریشن کی نیچر کی ہوتی ہیں۔ ان میں ادارے کے سربراہ کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ ایڈمنسٹریشن سٹاف کی ڈیوٹیز اور کام تبدیل کرے لیکن اگر کسی ملازم سے جائننگ کے وقت مخصوص کام طے ہوا تھا شرعاً اس سے وہی کام لیا جاسکتا ہے۔ درجہ چہارم کے ملازمین مخصوص کاموں کے لیے رکھے جاتے ہیں مثلاً ڈرائیور، نائب قاصد، مالی، سویپرز، گارڈز، کھانا پکانے کے لیے باورچی وغیرہ لیکن دیکھا گیا ہے پاکستانی معاشرے میں ان سے ایک ہی وقت اور ایک کام کے معاوضہ میں دہرے کام لیے جاتے ہیں اور وہ بے روزگاری کی وجہ سے کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

جن ملازمین کے ساتھ کام کی بجائے وقت کا تعین ہوتا ہے کہ آپ نے اتنے گھنٹے کام کرنا ہے، ضروری ہے کہ ان کو مقررہ اوقات پر چھٹی دے دی جائے۔ اگر کبھی ان کو اضافی وقت کے لیے روکا جائے تو اوورٹائم کے ساتھ ان کی رضامندی بھی ضروری ہے وگرنہ ان کواوورٹائم کا معاوضہ دینے کے باوجود روکناجائز نہ ہو گا۔

گھروں میں کام کرنے والے یا پرائیویٹ فرمز میں کام کرنے والے ملازمین سے زیادہ کام لینے کا عمومی جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ہم ان کا اتنا خیال رکھتے ہیں، ان سے تعاون کرتے ہیں، خوشی غمی کے موقعہ پر دیتے ہیں، جلدی جائیں یا چھٹی وغیرہ کا معاوضہ کاٹتے نہیں، یہ جواز درست نہیں ان سے جو اضافی حسن سلوک کیا جاتا ہے وہ اللہ کی رضا کے لیے کیا جاتا ہے بدلہ کے لیے نہیں۔ کھلا حساب درست نہیں ہے۔ ملازمین کی چھٹیاں اور کٹوتی کا فارمولہ طے ہونا چاہیے اور اوورٹائم کا معاوضہ بھی متعین ہونا چاہیے۔

فرمز میں درجہ چہارم کے ملازمین سے فرم کے دیگر ملازمین اپنے نجی کام بھی لیتے ہیں اور اس کے بدلے میں کچھ ادا نہیں کرتے۔ سال بعدعید پر کپڑوں کا جوڑا دے کر سارا سال غلام بنالینا معقول بات نہیں ہے۔ اس حوالہ سے سب سے پہلے یہ دیکھنا ہے کیا وہ فرم میں اپنے کام میں حرج کر کے آپ کا ذاتی کام تو نہیں کررہا؟ اور دوسرا یہ کہ آپ اپنے نجی کام کا انہیں کوئی معاوضہ بھی دے رہے ہیں یا نہیں۔

گھروں میں کام کرنے والے مزدوروں کے ساتھ اور معاملہ کیا جاتا ہے کہ ان کے معاوضے معمولی طے کیے جاتے ہیں لیکن گاہے بگاہے ان کی مدد کی جاتی ہے، وہ مدد زکٰوۃ کے پیسہ سے کی جاتی ہے تاکہ زکٰوۃ بھی ادا ہو جائے اور معاوضہ کے کم ہونے کا شکوہ بھی نہ کیا جائے۔ کم معاوضہ کی کمپنسیشن زکٰوۃ کے پیسوں سے کرنا درست نہیں ہے۔

اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے اور زمینیوں پر کام کرنے مزارعین کے بھی معاوضے کم ہوتے ہیں۔ سرمایہ کار انہیں یکمشت ایڈوانس رقم دے دیتے ہیں اس کے بعد کم معاوضہ پر کام لیتے رہتے ہیں اگر وہ بغاوت کریں تو انہیں کہا جاتا ہے آپ آزاد ہیں آپ ہمارے ہاں کام نہ کریں البتہ آپ کی طرف جو ہمارا قرض ہے وہ ادا کر دیں۔

ان مسائل کی روشنی میں ہم سب کو اپنے جوانب میں دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم کسی کی خدمات کا معاوضہ تو نہیں دبائے ہو اور اگر خود کہیں ملازمت کریں تو وقت، کام، معاوضہ کی تعین کے ساتھ ساتھ معاوضوں میں اضافے کا طریقہ کار اور نوکری چھوڑنے کی شرائط طے کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •