موسم سرما: راحت یا امتحان؟



سردیوں میں دھند کا آغاز ہوتے ہی دل چاہتا ہے کہ کسی پہاڑی علاقے کی خواہش تو کیا کرنی، یہیں اپنے لاہور کے کسی پارک کی دھند بھری صبح میں گم ہو جائیں۔ یا پھر نماز فجر کے بعد نیند میں گم سارے گھر کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے چائے کا ایک کپ۔ اور اگر یہی چائے کا کپ کسی اور کے ہاتھوں سے مل جائے تو دنیا جنت محسوس ہونے لگتی ہے۔

ہیٹر کے آگے پڑے رہیں اور کوئی کارٍ دنیا کی طرف بلانے والا نہ ہو۔ سردیوں کی دھوپ میں بیٹھ کر بغیر گنے مالٹے کھائیں اور پھر اسی دھوپ میں چادر لے کر لیٹنے پر طاری ہونے والی غنودگی شاید نیند کی خوب صورت ترین بہن ہے۔ سرد رات میں کافی یا چائے کا کپ اور کسی دل چسپ کتاب کا مطالعہ بھی اس موسم کی خاص سوغات ہے۔ کسی سرد رات میں آئس کریم کا مزا زندگی کے مزے کو دوبالا کر دیتا ہے۔

یہ سطریں تحریر کرتے وقت ذہن میں پنجابی کی ایک کہاوت آ رہی ہے کہ ”جیہدی کوٹھی وچ دانے، اودے کملے وی سیانے“ ۔ یہ ہری ہری تب ہی سوجھتی ہے جب سر پر چھت اور بنیادی ضروریات باآسانی پوری ہو رہی ہوں۔ کچھ لوگ اس موسم سے لطف اٹھانے کے لیے اس کا انتظار کرتے ہیں تو دوسری طرف یہی موسم سرما بہت سے لوگوں کے لیے عذاب بن جاتا ہے۔ بے گھر لوگ جو گرمی تو چادر اور چاردیواری کے بغیر مچھر اور پسینے کے ساتھ گزار لیتے ہیں لیکن سردی میں ہر رات چھت اور بستر کے بغیر ایک امتحان ہوتی ہے۔

مزدور طبقے کے لیے موسم کی شدت ایک عذاب بن جاتی ہے اور ہر دن کی روٹی کا انتظام ہر روز کنواں کھودنے کے مترادف ہے۔ جب اس سب کو ذہن میں رکھیں تو پھر اوپر مزکور چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کر سکنے کی استطاعت بھی ”عیاشی“ محسوس ہوتی ہے۔ اردگرد ناچتی بھوک اور بے چارگی دیکھ کر اس سے زیادہ کی خواہش بھی نہیں کر ہوتی۔ اگر کبھی مزید کچھ ذہن میں آ بھی جائے تو زمانہ باور کروانے کے لیے موجود ہے کہ پہلے کم عیاشی میں ہیں۔ تو پھر برف باری کے مناظر کی تصاویر، کسی دوسرے ملک کی نا سہی سارے پاکستان کو ہی گھوم پھر کر دیکھنے جیسی عیاشیوں کی حسرت تو بس سینے کے اندر ہی دفن ہو جائے گی کہ کار دنیا اور دنیا والے سدراہ بننے کے لیے کافی ہیں۔

Facebook Comments HS