حلب سے متعلق حقائق کا دوسرا رخ

\"\"میں بی بی سی اردو سروس کے لیے روس سے سبسکرائبر ہوں۔ روس سے متعلق کوئی معاملہ ہو تو تبصرے کے لیے ریڈیو کے اہلکار مجھ سے رجوع کرتے ہیں۔ کل بھی یہی ہوا کہ مجھ سے حلب سے متعلق سوالات کیے گئے۔ میں گذشتہ تین ماہ سے پاکستان میں ہوں۔ اگر میں محض مغربی ذرائع ابلاغ سے متاثر ہوتا جیسے ہمارے ملک کے تمام لوگ مع صحافی اور دانشور حضرات ہوتے ہیں تو میں بھی سوشل میڈیا پر لوگوں کی طرح  آہ و زاریاں اور بین کر رہا ہوتا کہ \”حلب جل رہا ہے، دل جل رہا ہے\”۔ میں چونکہ روسی ذرائع ابلاغ سے استفادہ کرتا ہوں اور روس میں موجود تجزیہ کاروں سے بھی رابطے میں ہوں اس لیے معاملات کو اور طرح دیکھتا ہوں۔

میں یہ فراموش نہیں کرتا کہ حلب جسے مغربی ذرائع ابلاغ میں اس کے قدیم نام \”الیپو\” سے یاد کیا جاتا ہے، گذشتہ چار برس سے \”شام کی فوج آزادی\” کے زیر تسلط تھا۔ اس نام سے شامی باغیوں کے گروہ کا ساتھ دینے والوں میں جبہۃ النصرہ اور داعش جیسی دہشت گرد اور خون آشام تنظیمیں بھی شامل تھیں۔ ان تنظیموں کے جنگجووں نے وحشیانہ پن کی کونسی سرحدوں کو عبور نہیں کیا، اس بارے میں اب سبھی جانتے ہیں۔ اور تو اور ایسے ہی ایک جنگجو نے شام کی سرکاری فوج کے مارے گئے ایک فوجی کا سینہ چاک کرکے اس کا دل نکال کر چبایا تھا جس کی ویڈیو دیکھی جا سکتی ہے۔ شام کی فوج کے ڈیڑھ سو ریکروٹوں کو اغوا کرکے، ایک ایک کرکے گولیاں مار کر قتل کرنے کے بعد یکے بعد دیگرے ان کی لاشیں دریا میں پھینکے جانے کی وڈیو بھی موجود ہے۔ ایسے غیر انسانی افعال کی یہ محض دو مثالیں ہیں جبکہ ایسے قبیح واقعات اور ان کی وڈیو فوٹیجز بہت زیادہ ہیں۔
حلب کے آزاد ہونے پر وہاں کے شہریوں نے جشن منائے ہیں جن کی تصاویر ہمیں نہیں دکھائی جا رہیں۔ ہمیں پروپیگنڈہ ٹویٹس کے بارے میں\"\" بتایا جا رہا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بتایا جا رہا کہ جنگجووں نے انسانوں کو جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں ڈھال بنایا ہوا تھا۔ مغربی ذرائع ابلاغ یہ واویلا کر رہے ہیں کہ شام کے سرکاری فوجی باغیوں کو چن چن کر مار رہے ہیں۔ بچوں اور عورتوں کو بلا دریغ گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ شام کے اس بڑے شہر میں بچی کھچی ہر شے کو ملیا میٹ کیے جانے کی غرض سے شدید بمباری کی جا رہی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس اخبار \”دی ڈیورن\” کے مدیر اعلٰی الیکسینڈر مرکورس نے ریڈیو سپتنک کے پروگرام \”لاؤڈ اینڈ کلیر\” میں برائن بیک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا:\” اس سے پہلے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون خود کہہ رہے تھے کہ یہ خبریں غیر مصدقہ ہیں۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کو جب بھی ضرورت پڑتی ہے وہ اقوام متحدہ کو اپنی طاقت کے بازو کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایسے الزام لگانے والا اردن سے ہے۔ اردن خود باغیوں اور دہشت گردوں کو کمک اور گولہ بارود پہنچانے کا گڑھ رہا ہے، چنانچہ ان باتوں سے \”منافقت ٹپک رہی ہے\” ۔
مرکورس نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی پروگرام کا یہ اہلکار زیر رادالحسین خود اردن کا ایک شہزادہ ہے۔ یہ تب اس بین الاقوامی عدالت کا رکن تھا جب امریکہ نے نیٹو کی معاونت سے بمباری کرکے یوگوسلاویہ کو برباد کیا تھا چنانچہ یہ اسی عمل کا تسلسل ہے۔ واشنگٹن کے باہر سے پروپیگنڈہ کی یہ نئی مہم ٹرمپ انتظامیہ کو بشار کا مخالف بنانے بلکہ بشار کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کو تیز تر کرنے کی خاطر کی جا رہی ہے،

حلب میں کام کرنے والی ایک انسان دوست تنظیم \” وی آر سپر ہیروز\” کے سربراہ پیغے لی کوف نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا،\” ہاں میں نے \"\"مغربی ذرائع ابلاغ میں شام کی فوج کے غیر انسانی اعمال میں ملوث ہونے کی رپورٹیں پڑھی ہیں لیکن میں جب حلب میں کام کر رہا تھا تو وہاں میں نے کسی سے ایسے واقعات بارے نہیں سنا۔ میں نے ایسا میڈیا میں ضرور سنا ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ کون اور کیوں ایسا کر رہا ہے۔ میں اس بارے میں نہیں جانتا\”۔
شام کی فوج نے روس کی فوج کے ساتھ مل کر \” انسانی کوریڈورز\” کا اہتمام کیا جسے شہر کے ہزاروں باشندوں نے استعمال کیا تاکہ لڑائی والے مشرقی حصے سے نکل کر وہ شہر کے مغربی حصے میں جا سکیں۔ لی کوف مزید کہتے ہیں،\” میں البتہ یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ جو لوگ شہر کے مغربی حصے میں رہتے ہیں وہ خوش ہیں۔ وہ اس لیے خوش ہیں کہ وہ ڈرے رہنے سے، مارے جانے کے ڈر سے یا اس خوف سے کہ کہیں سکول جاتے ہوئے ان کے بچے نہ مارے جائیں، اکتا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ لوگ جو شہر کے دوسرے حصے سے یہاں پہنچے ہیں۔ یہاں آ کر اس لیے خوش ہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ یہاں آسمان سے بم نہیں برس رہے۔ زندگی بہت متحرک ہے۔ ہیجان ضرور ہے  لیکن جو یہاں آ جاتا ہے وہ خود کو آزاد محسوس کرتا ہے\”۔
حلب شام کی فوج اور باغیوں و دہشت گردوں کے درمیان جنگ کا میدان بنا ہوا تھا۔ اب اسے آزاد کر لیا گیا ہے۔ باغی دستوں کو اپنے ہلکے ہتھیاروں سمیت حلب سے نکل کر عدلب جانے دیا گیا ہے۔ اب حلب جل نہیں رہا بلکہ چل رہا ہے یعنی وہاں زندگی بحال ہونے لگی ہے۔ اللہ ہمیں مغرب کے کزب و افتراء سے محفوظ و مامون رکھے، آمین!

Comments - User is solely responsible for his/her words