نوجوان آبادی: موقع یا خطرہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی آبادی میں 63 فیصد جوانوں کی موجودگی حکومت اور معاشرے کے لیے ایک موقع بھی ہے اور خطرہ و چیلنج بھی۔ کیا ہم انہیں ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ اور موقع بنانا چاہتے ہیں یا ان کو ملک کے لیے خطرہ بننے کی اجازت دیں گے؟

نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت تعلیم، روزگار اور فنی تربیت سے محروم ہے۔ اگر ان کی تعلیم، تربیت اور رہنمائی کو کماحقہ توجہ دی گئی تو یہ ہمارے پاس سونے اور تیل سے بھی بڑا سرمایہ اور سماجی، معاشی اور سیاسی ترقی کا موقع ثابت ہوں گے۔

اگر انھیں نظرانداز کیا گیا اور ان کی تعلیم، تربیت، روزگار اور نظام میں شمولیت کے لیے مناسب منصوبہ بندی نہ کی گئی تو پھر یقینی طور پر بیکاری اور مایوسی انھیں جرائم یا دہشت گردی کی طرف دھکیل دے گی اور یہ ملک کے لیے بوجھ اور المیہ بن جائیں گے۔

پاکستان 220 ملین آبادی کے ساتھ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔ آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہے کہ 2030 تک اس کی آبادی 280 ملین تک پہنچ جائے گی۔

اگرچہ دنیا کے کئی ممالک مثلاً جاپان، اٹلی، جرمنی اور فن لینڈ وغیرہ آبادی میں 65 سال یا زائد عمر کے افراد زیادہ ہونے کے باعث دنیا کے معمرترین ممالک بن چکے ہیں مگر یو این ڈی پی کے مطابق پاکستان دنیا کے چند جوان ترین ممالک میں سے ہے اور جنوبی ایشیا میں افغانستان کے بعد دوسرا جوان ترن ملک ہے۔

یو این ڈی پی کے مطابق پاکستان کی آبادی کا 64 فیصد 30 سال سے کم ہے جبکہ 29 فیصد آبادی 15 سے 29 سال کے جوانوں پر مشتمل ہے۔ اس کے بقول پاکستان کی آبادی جس شرح سے بڑھ رہی ہے اور جتنے جوانوں کو روزگار فراہم کرنا ہے اس کے لیے اسے اگلے پانچ سالوں میں 45 لاکھ نئے روزگار پیدا کرنے ہوں گے۔

پاکستان کے وفاقی ادارہ شماریات نے 18۔ 2017 میں آخری بار لیبر فورس سروے جاری کی تھی اس کے بعد کوئی سروے جاری نہیں کی گئی اس لیے بے روزگاری کی کوئی حتمی سرکاری شرح تو دستیاب نہیں لیکن اس سال جون میں پلاننگ کمیشن نے ایک سرکاری اجلاس میں بتایا کہ بے روزگاری کی شرح 18۔ 2017 کی 5.79 فیصد سے 21۔ 2020 میں 9.56 تک بڑھنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

حکومت کے سالانہ منصوبے 21۔ 2020 کے مطابق پاکستان میں دنیا کی نویں بڑی مزدور قوت ہے جو ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ مالی سال 21۔ 2020 کے دوران ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 6.65 ملین تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

اسی طرح لیبر فورس سروے 18۔ 2017 کے مطابق بے روزگاری کی شرح عورتوں اور مردوں میں بالترتیب 8.27 pc اور 5.07 pc ہے۔ 20 سے 24 سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ 11.56 فیصد ہے۔

یہ جوان آبادی پاکستان کا مستقبل سنوارنے یا بگاڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ چیلنج بھی ہے اور موقع بھی۔ اگر ان کو درپیش مسائل، ان کی وجوہات جاننے اور ان کے حل کے لیے کام کیا گیا اور ان کی جدید تعلیم و تربیت، پیداواری صلاحیت میں اضافے، ان کو ترقی کے مساوی مواقع اور انہیں با اختیار بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے تو ملک کا بھلا ہو جائے گا۔ اور اگر اس حوالے سے اب تک کی طرح غفلت، چشم پوشی اور لاپروائی سے کام لیا گیا تو، خاکم بدہن، ملک اگلے چند سال بعد انتہائی خطرے سے دوچار ہوگا۔

پاکستان میں ہر سال تیار ہونے والی افرادی قوت کو روزگار فراہم کرنے کے لیے ہماری معیشت کو سالانہ 5.3 فیصد کی شرح سے بڑھنا ہوگا۔ 2017 اور 2018 میں یہ ہدف حاصل ہوا لیکن اب معیشت بڑھنے کی شرح منفی ہو گئی ہے۔

اس منفی شرح نمو سے 2018 کی سطح پر جانے کے لئے پاکستان کو بڑی تیاری اور محنت درکار ہوگی اور شرح نمو بھی مسلسل زیادہ رکھنی ہوگی لیکن اس کے باوجود بھی یہ ٹارگٹ حاصل کرنے میں کم سے کم پانچ سال لگ جائیں گے۔

مسئلہ یہ ہے کہ تب عملاً ہماری تقریباً چالیس فیصد افرادی قوت روزگار کے بغیر زندگی گزار رہی ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ کیا آنے والے چند برسوں میں ہماری معیشت ان لاکھوں کروڑوں تعلیم یافتہ افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرسکے گی؟

ہمارے نوجوانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک تو وہ محنت سے جی چراتے ہیں۔ نہ ان کے پاس کوئی ہنر ہوتا ہے اور نہ انہیں پتا ہوتا ہے کہ انہیں اپنی صلاحیت کے مطابق کس طرف جانا چاہیے۔ وہ عام تعلیم حاصل کرتے ہیں اور وہ بھی سیکھنے کے لیے نہیں بلکہ پاس ہونے اور ڈگری کے حصول کے لیے۔ بمشکل ڈگری حاصل کرنے والے یہ جوان پھر ملازمت نہ پاکر نظام پر بدعنوانی، رشوت اور سفارش کے الزامات لگاتے ہوئے مایوسی اور انتہاپسندی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور انقلاب کے نام پر کسی طالع آزما کے کل پرزے بن جاتے ہیں۔

جو بات زیادہ پریشان کن ہے وہ یہ ہے کہ تعلیم یافتہ افراد خصوصاً حاملین ڈگری میں بے روزگاری کی شرح دیگر بے روزگار افراد کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان گریجویٹس کو مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق تعلیم دی جا رہی ہے نہ معیشت فارغ ہونے والوں کو جذب کر پارہی ہے۔

مطلوبہ ہنروں اور فنی مہارت کا حصول روزگار کی فراہمی اور معاشی خوش حالی کے لیے لازمی ہے لیکن بڑی مانگ کے باوجود پاکستان میں خصوصی تکنیکی تعلیم، پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت کے شعبوں میں داخلہ کی شرح کم ہے۔

تعلیم اور روزگار کے مابین ایک متحرک رشتہ قائم اور برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

معاشرے کے غریب طبقات میں ترقی کے ثمرات تقسیم کرنے کے لئے پیداواری، اچھے معاوضے اور مناسب ملازمتوں کی فراہمی ایک اہم بنیادی طریقہ کار ہے۔

بیروز گاری کے مسئلے پر قابو پانے کا موثر حل یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کر کے انھیں ہنر مند بنا دیا جائے۔ ہنرمند کبھی بے روزگار نہیں رہ سکتا۔ یورپی ممالک برسوں پہلے ایسا کر کے آگے نکل گئے۔ ہم ایسا نہ کر کے پیچھے رہ گئے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملک کے تمام شہروں اور بڑے دیہات میں پیشہ ورانہ اور فنی تعلیم و تربیت کے مراکز قائم کریں جہاں زیرتربیت بچوں کو سرکاری خرچ پر ہنر سکھائے جائیں۔

صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے درمیان ارتباط بڑھایا جائے۔ تعلیم کے لیے مختص بجٹ کو کم سے کم چار فیصد تک بڑھایا جائے۔

ہمارے ہاں فنی تعلیم کے لیے فنڈز نہ ہونے کے برابر ہیں اس لیے موجودہ پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کے وسائل اور استعداد کار بڑھانے اور تربیت پر بھی توجہ دی جائے۔

پاکستانی معیشت اگر سنبھل بھی جائے تو اگلے چند برسوں میں ایک کروڑ نوکریاں پیدا نہیں کر سکتی۔ بدامنی، کساد بازاری اور غلط ترجیحات کی وجہ سے نجی شعبہ بھی ان کو روزگار فراہم کرنے سے قاصر ہے جبکہ ریاست بھی ان کو کھپانے کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ ملکی معیشت کوویڈ 19 سے بری طرح متاثر ہوئی ہے جیسے گھریلو طلب، کاروباری سرگرمیوں، درآمد و برآمد اور سپلائی چین میں خلل کی وجہ سے پیداوار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

بیروزگاری کے مسئلے کا سب سے اہم حل چھوٹے کاروبار بھی ہیں۔ اپنے بچوں کا قیمتی وقت سرکاری یا نجی نوکری کی تلاش میں برباد کرنے کی اجازت نہ دیں۔ ان نوجوانوں کو وسائل اور تربیت و راہنمائی فراہم کر کے خود روزگار شروع کرانے پر لگائیے۔

حکومت اور نوجوانوں کو فری لانسنگ اور انٹرنیٹ تجارت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ بہت سے لڑکے لڑکیاں گھر بیٹھے اپنی مہارت اور محنت کے ذریعے ہزاروں لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •