وزیر اعظم عمران خان کے چودہ نکات


لگ بھگ نوے سال قبل پرانے پاکستان کے بانی قائد اعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کیے تھے۔ اسی طرح نئے پاکستان کے بانی اور موجودہ وزیر اعظم نے بھی اپنی مرضی کے چودہ نکات پیش کر ڈالے۔ ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

1۔ ملک سے موروثی سیاست کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ یہ صرف اسی صورت ممکن ہے کہ مستقل گھر نہ بسایا جائے۔ خدا نخواستہ گھر بس جائے تو بچوں کی پیدائش سے احتراز کیا جائے۔ اگر بچے بھی ہوجائیں تو تسلیم نہ کیے جائیں یا پھر ننھیال کے سپرد کر کے موروثیت سے جان چھڑائی جائے۔ موروثی سیاست کے قلع قمع کے لئے دنیا میں اس سے بہتر وژن نہیں ہے۔

2۔ بیری کے باغات لگانا لازم قرار دیا جائے تاکہ مگس بانی کو فروغ مل سکے۔ اور حاصل ہونے والے شہد سے ملکی قرض اتارنے میں شیخ چلی ماڈل مدد مل سکے۔

3۔ حکومتوں کو اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا چائییے جب تک ملک کا بچہ بچہ بھینس آشنا، انڈا پسند، بکری شناس اور مرغی پال نہ بن جائے۔

4۔ کورونا کی بیماری کا واحد اور موثرحل یہی ہے کہ کرونا کو ملک کے تمام تعلیمی اداروں کی بڑی بڑی عمارتوں میں دھکیل کر بند کر دیا جائے۔ اس طرح ملک کے بازار، مالز، میدان، گھر اور سب کچھ کرونا سے یکسر محفوظ ہو سکتا ہے۔ اگر صرف سکول بند کرنے سے اتنی بڑی کامیابی مل سکتی ہے تو ہم اس سلسلے میں آخری حد تک جائیں گے۔ دنیا کو کورونا کے خلاف جنگ میں ہم سے سیکھنا چاہیے۔

5۔ موٹرویز، میٹروز اور اورنج ٹرین جیسی فضول خرچیوں کو ہر محاذ پر عوام کے سامنے لایا جائے۔ باور کرایا جائے کہ غریب ملک کی غریب عوام صرف بی آر ٹی جیسے کفایت شعار منصوبوں کی متحمل ہو سکتی ہے کیونکہ یہ تیل کی بجائے لوگوں کے دھکوں سے چلتی ہے جس سے عوامی تفریح اور ورزش کا اہتمام بھی ہو جاتا ہے۔

6۔ اگر کوئی قوم صرف تقریروں، خطابوں اور سبز باغوں سے خوش ہو کر بغلیں بجائے تو اس کے لئے خود کو مشقت و اذیت میں ڈال کر کام اور محنت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ لہٰذا آسان طریقے کو ہی اختیار کیا جائے۔

7۔ جرمنی اور جاپان کی مشترکہ سرحدوں کی قانونی و اخلاقی حیثیت کو چیلنج نہ کیا جائے۔ نیز بارہ موسموں کے حقائق بھی تسلیم کیے جائیں۔

8۔ ہمیشہ ایسے دور اندیش حکمران کا انتخاب کیا جائے جو ملکی انتظام وانصرام کے لئے محض ایک نظام پر اکتفا کرنے کی حماقت نہ کرے بلکہ بیک وقت مدینہ، چین، ملائیشیا، ترکی، نیوزیلینڈ وغیرہ کے ماڈلز کے آزمانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

9۔ بیرونی قرضے لینے پہ خود کشی کرنا لازم قرار دے کر آئین کا حصہ بنائے جانے کو قصہ پارینہ سمجھا جائے۔ مزید براں یوٹرن کی اہمیت و ضرورت پر بے جا نتقید سے اجتناب برتا جائے۔ سب سے بڑھ کر عوام اور فوج اپو زیشن کے چینی چور، چینی چور کے نعروں کو سختی سے روکے کیونکہ اس قسم کے نعروں سے ہمارے چینی بھائی ناراض ہو سکتے ہیں۔

10۔ پنڈی کو اسلام آباد سے الگ نہ کیا جائے اور نہ ہی الگ سمجھنے کی حماقت کی جائے۔ کیونکہ یہ امر سخت مضر صحت ہے۔ بائیس سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد اوپر والے اور اوپر والوں سے عقیدت پختہ ہوئی تو ہم پہ بھی یہ عقدہ عیاں ہوا، کہ وہی ہوتا ہے جو منظور "وہاں” ہوتا ہے۔

11۔ وزیر اعظم ہاؤس کو بھینسوں، کٹوں اور کھٹارا گاڑیوں سے پاک کر کے تہتر سال کا گند صاف کیا جائے۔

12۔ سابقہ حکومتوں کے سیاہ کارناموں کو عوام تک پوری دیانت داری سے پہنچانے میں کوئی قانونی، غیرقانونی، عسکری، اخلاقی و غیر اخلاقی کسر باقی نہ چھوڑی جائے۔ این آر او اور چھوڑوں گا نہیں کے تکیہ ہائے کلام کا ورد حکومت کی بقا کا ضامن ہے۔ ناقدین کو مجھ پر تنقید سے پہلے جارج آرویل کا اینیمل فارم ضرور پڑھنا چاہیے تاکہ میری مجبوریوں کو سمجھ سکیں۔

13۔ اب مقتدر حلقوں کو سختی سے باور کرایا جائے کہ بغیر تیار ی اور سیاسی و معاشی سوجھ بوجھ نا رکھنے والوں کے کندھوں پر اقتدار کا بوجھ ہرگز نہ ڈالاجائے۔

14۔ پاکستانیوں اللہ نے مجھے اقتدار اس لئے بخشا ہے کہ قوم کو صبر و شکر کی مشق کرا کر سکون قبر اور اجر آخرت کا درس دے سکوں۔ لہٰذا ہمارے منشور میں صبر مطلوب اور گھبرانا ممنوع ہے۔ گھبرانے کو غیر آئینی قرار دینے کے لئے ”گھبراہٹ“ ایکٹ کا نفاذ ضروری سمجھتا ہوں۔

Facebook Comments HS