کرسمس کی مبارکباد اور فیس بکی مجاہد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرسمس کے آتے ہی فیس بکی مجاہدوں کو ایک نیا موضوع ہاتھ آ گیا ہے۔ اسلام کے یہ خود ساختہ ٹھیکیدار کرسمس کی مبارکباد دینے کو کفریہ اقدام قرار دینے کے حوالے سے بہت سے دلائل پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے لوگوں کو الفاظ کے معانی جانے بغیر ان پر فتویٰ لگانے کی عادت سی ہوتی جا رہی ہے۔ ویسے تو ہر غیر متعلقہ معاملے کو مباحثوں کا موضوع بنانا بھی ہمارا شعار ہے مثلاً چودہ فروری کو ویلنٹائن ڈے منایا جائے یا یوم حیا۔

اسی کے ساتھ ساتھ ویلنٹائن کے بارے میں ایک جھوٹی کہانی بھی سنائی جاتی ہے تاکہ لوگ یہ دن منانے سے باز رہیں۔ جو یہ دن مناتے ہیں ان کی بلا سے کوئی کچھ بھی کہتا رہے وہ یہ دن منانے سے نہیں ٹلتے۔ بات لفظوں کے معانی جانے بغیر فتوے جاری کرنے کے بارے میں ہو رہی تھی تو ایسا ہی ایک لفظ ہیلو ہے۔ جب ہمارے فیس بکی مجاہدوں کویہ خبر پتہ چلی کہ ہیلو دنیا میں سب سے زیادہ بولا جانے والا لفظ ہے تو ان کے پیٹ میں درد شروع ہو گیا۔

فوراً کہا گیا کہ ہیلو انگریزی لفظ ”ہیل“ سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے جہنم اور ہیلو یعنی ”جہنمی“ ۔ ایسے میں اہل علم میں سے کسی نے اس پر ایک مضمون لکھا اور وضاحت کی یہ لفظ ”ہالو“ سے نکلا ہے جس کا مطلب ”آپ کیسے ہیں“ تھا۔ شروع میں لوگ باقاعدہ اس کے جواب میں اپنی سلامتی کے بارے میں آگاہ کرتے تھے مراد ہے ٹھیک ہوں، اچھا ہوں وغیرہ۔ بعد میں لفظ ہیلو بن گیا اور ٹیلیفون پر مخاطب کرنے کے لیے استعمال ہونے لگا۔

یقین مانئے میں آج بھی ٹیلی فون پر ہمیشہ السلام علیکم سے آغاز کرتا ہوں ہاں اگر کوئی آگے سے بول نہ رہا ہو یا آواز کٹ رہی ہو تو ہیلو کہنے سے نہیں کتراتا مگر اس طرح کی کہانیاں بنا کر سلام کو رواج دینا کہیں کا اسلامی طریقہ نہیں ہے۔ ایک اور کہانی ہمارے ہاں سلام کرنے کے بارے میں بھی مشہور ہے۔ یہ کہانی فیس بک سے بڑھ کر پوسٹروں کی صورت میں جگہ جگہ لکھی نظر آتی ہے۔ یعنی سلام کرنے کا غلط اور صحیح طریقہ۔ غلط الفاظ پر قدغن تو خیر ٹھیک ہے مگر سلام علیکم کے بھی غلط معانی نکال کر صرف السلام علیکم کہنے پر زور دیا جاتا ہے۔

وہ تو جب ہم دبئی سدھارے تو وہاں عربوں کو سلام کرتے دیکھ کر ہکے بکے رہ گئے۔ یہ السلام علیکم تو ہمارے ہاں ہی رائج ہے عرب تو سلام علیکم ہی کہتے ہیں اور اس کا مطلب ”آپ پر سلامتی ہو“ ہی ہے۔ اب آتے ہیں کرسمس کی طرف۔ کرسمس کے بارے میں فتوے جاری کرنے والوں کے بقول اس کا مطلب ہے ”خدا کے ہاں بیٹا پیدا ہو یا خدا کے بیٹے کا جنم دن وغیرہ“ ۔ اگر ہم لفظ کرسمس کو دیکھے تو اس میں ہمیں خدا اور بیٹے کا کوئی لفظ نظر نہیں آتا۔

کرسمس بنیادی طور پر دو لفظوں سے مل کربنا ہے ”کرائسٹ“ اور ماس۔ ”کرائسٹ“ کے بارے میں ہم جانتے ہیں یہ انگریزی میں عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے جبکہ ”ماس“ کا معنیٰ ہے آمد۔ اگر ہم ان دونوں الفاظ کو ملائیں تو معنیٰ ہو گا آمد عیسی علیہ السلام۔ اب اگر کوئی ”میری کرسمس“ کہتا ہے تو یقیناً اس کی مراد عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کی مبارکباد ہی ہوتی ہے۔ مسلمان چونکہ عیسیٰ علیہ السلام کے بغیر والد کے پیدا ہونے والے نبی اور بندے ہونے کے قائل ہیں تو ان کے لیے یہ ایک محترم نبی اللہ کی پیدائش ہے۔

ہاں اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور جب ہم ”میری کرسمس“ کہہ رہے ہیں تو ہماری مراد صرف آمد عیسی علیہ السلام مبارک ہو ہوتی ہے اس لیے برا مت منائیے اور نہ ہی کوئی کفریہ مطلب اخذ کیجئے ہاں آپ کو یہ کہنا پسند نہیں تو مت کہئیے۔ ہماری طرف سے سب کرسچن بہن بھائیوں اور عیسی علیہ السلام سے محبت کرنے والے ان مسلمانوں کو میری کرسمس اور آمد عیسی علیہ السلام مبارک جو یہ کہنا کفر نہیں سمجھتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •