دنیا کی سب سے بڑی ہڑتال جاری ہے


23 دسمبر انڈیا کے پانچویں وزیراعظم چودھری چرن سنگھ کی تاریخ پیدائش ہے۔ مڈل کلاس کاشت کار گھرانے سے تعلق کی بنا پر ان کے کسان دوست اقدامات اور زرعی اصلاحات جیسی خدمات کے پیش نظر ان کے یوم پیدائش کو انڈیا میں فارمرز ڈے، کسان ڈے یا کسان دیواس کے طور پر منایا جاتا ہے۔

انڈیا میں اس سال کسان ڈے ایک منفرد تاریخ رقم کر رہا ہے۔ آج سے دو ماہ قبل یعنی ستمبر 2020 میں کاشتکاری سے متعلق تین بلز 1۔ کسان کی پیداوار، تجارت اور کامرس ایکٹ 2۔ کسان (ایمپاورمنٹ اینڈ پروٹیکشن) پرائس انشورنس اینڈ فارم سروسز ایکٹ 3۔ اہم اجناس (ترمیمی) ایکٹ۔ پہلے لوک سبھا اور پھر راجیہ سبھا سے پاس ہوئے اور آخر میں صدر مملکت کی منظوری کے بعد آرڈیننس کی شکل اختیار کر گئے۔ دراصل یہ تینوں بلز کسان کش پالیسیوں پر مبنی ہیں۔ ان بلز میں کارپوریٹ کلاس یا سرمایہ داروں کے مفادات کو مقدم رکھا گیا ہے۔ چھوٹے اور غریب کاشتکار کسان جو پہلے ہی استحصال کا شکار ہوتے ہیں مزید پس جائیں گے۔

ان قوانین کی باز گشت پر 19 اگست 2020 کو انڈین پنجاب کے کسانوں میں اضطراب پیدا ہو گیا تھا۔ بعد میں جس کا باقاعدہ آغاز راجھستان اور ہریانہ کے کسانوں کی ”دلی چلو“ تحریک سے ہوا۔ اس تحریک کا اعلان ہوتے ہی ہزاروں کسانوں نے دلی کی طرف مارچ شروع کر دیا اور پھر وہی ہوا جو ایسے مواقع پر بوکھلاہٹ کا شکار حکومتیں کرتی ہیں یعنی مظاہرین کے قافلوں کی پکڑ دھکڑ، آنسو گیس کا بے دریغ استعمال، لاٹھی چارج، سرد موسم میں دھرنے پر بیٹھے مظاہرین پر واٹر کینن سے پانی کا چھڑکاؤ، رہنماؤں پر دھڑا دھڑا ناجائز اور بے بنیاد مقدمات کا اندراج۔

نتیجتاً اب تک کم از کم دو خواتین سمیت 41 کسان جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان مظاہروں میں آل انڈیا کسان سنگھرش کوآرڈینیشن کمیٹی اور بھارتیہ کسان یونین سرفہرست ہیں۔ تاہم کسانوں پر ہونے والے اس ظلم پر انڈین اپوزیشن بھی خاموش تماشائی نہیں بنی اور احتجاج میں شامل ہو گئی۔ مگر اس سے بڑھ کر کسانوں کے دکھ اور درد کو محسوس کرتے ہوئے ملک بھر کی مزدور تنظیموں نے 26 نومبر کو ملک گیر ہڑتال کی کال دی تھی۔ جس میں خواتین، طلبا تنظیموں، مزدوروں اور کسانوں پر مشتمل 250 ملین سے زائد افراد نے شرکت کر کے دنیا کی سب سے بڑی اور منظم ہڑتال کا ریکارڈ بنا ڈالا۔ چودہ ملین سے زائد ٹرک ڈرائیور بھی کسانوں کے شانہ بشانہ آ کھڑے ہوئے اور ملک بھر میں سپلائی لائن بند کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔

12 دسمبر سے ہریانہ ہائی وے کے تمام ٹول پلازوں پر مظاہرین نے قبضہ کر رکھا ہے اور ٹریفک کو ٹول ٹیکس فری کر دیا ہے۔ دارالحکومت دلی کے گلی کوچوں اور یخ بستہ شاہراہوں پر مظاہرین نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ ہڑتال گھیراؤ، دھرنا، راستہ روکو اور مظاہروں کی حکمت عملی پر مبنی ہے۔

نہتے اور غریب مزدور کسانوں نے اپنے 9 مطالبات جن میں 1۔ تینوں کسان کش پالیسیوں پر مبنی بلز کی منسوخی 2۔ کم ازکم پیداوار پر امدادی قیمت کی یقین دہانی 3۔ اوسط پیداوار پر 50 فیصد امدادی قیمت میں اضافہ 4۔ NCR اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ائر کوالٹی کمیشن کی منسوخی 5۔ نیشنل کمیشن برائے کسان کی تجاویز پر عملدرآمد 6۔ تمام کسان کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات کا اخراج اور ان کی رہائی 7۔ زرعی مقاصد کے لیے ڈیزل کی قیمتوں میں 50 فیصد کمی 8۔ الیکٹریسٹی ایکٹ 2020 کی منسوخی 9۔ روایتی منڈی سسٹم کی بقاء شامل ہیں حکومت کو پیش کر رکھے ہیں۔ تاہم حکومت ان مطالبات کو ماننے پر تیار نہیں بلکہ حکومت نے موقف اختیار کر رکھا ہے کہ ان قوانین سے کسان اپنی پیداوار براہ راست بڑے خریداروں کو فروخت کرسکیں گے۔

تاہم دلی کی سڑکوں پر مظاہرین کی جانب سے کھڑی گئی رکاوٹوں کی وجہ سے شہری آبادی کو لاحق پریشانیوں پر متعدد درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہیں۔ جس پر فی الحال سپریم کورٹ نے کوئی واضح اور سخت حکم نامہ جاری نہ کیا ہے۔ بلکہ فریقین کو افہام و تفہیم سے معاملے کو سلجھانے کا اشارہ دیا ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ مودی حکومت کا ٹریک ریکارڈ تو ہٹ دھرمی اور بے شرمی سے عبارت ہے۔ مذہبی تعصب مودی حکومت کی بنیادی اساس ہے۔

بھارتی کسانوں کی غالب اکثریت چونکہ سکھوں پر مشتمل ہے اس لئے مودی حکومت نے متعصبانہ طرز عمل کو اپناتے ہوئے غریب سکھ کسانوں کو زیر بار کرنے، اپنے کارپوریٹ کلاس سپوٹرز اور ووٹرز کو نوازنے اور ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی بھونڈی سی کوشش ضرور کی ہے جو مظلوم سکھ کسانوں کے سامنے ہرگز بارآور ثابت نہ ہو گی۔ احتجاج تاحال جاری ہے سکھ کسان دلی کے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

ممکن ہے ان سطور کی اشاعت تک کسانوں کا احتجاج رنگ لے آئے اور یقیناً ایسا ہی ہوگا۔ کیونکہ کالی رات کے بعد سرخ سویرا ضرور آتا ہے یہی قدرت کا قانون اور فطرت ادا ہے۔

Facebook Comments HS