کیا پاکستان نیوزی لینڈ سے ٹیسٹ جیت سکے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیوزی لینڈ سے گھر میں ٹیسٹ جیتنا بہت ہی مشکل ہے۔ کیویز پچھلے اڑھائی سال سے گھر کے شیر بنے ہوئے ہیں۔ اگر پوری دہائی ( 10 سال) کی بات کی جائے تو بھی کیویز کو نیوزی لینڈ میں صرف تین ٹیمیں ہی کسی ٹیسٹ میچ میں شکست دے پائی ہے۔ ان فتح یاب ٹیموں میں آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور پاکستان شامل ہیں۔ پاکستان بھی آخری ٹیسٹ موجودہ ہیڈ کوچ مصباح الحق کی زیر قیادت جیتا تھا۔ لیکن ٹی ٹونٹی کرکٹ میں بیٹنگ وکٹس ہونے کی باوجود بلے بازوں نے جو گل کھلائے ہیں۔ اب یہ امید کم ہے کہ ٹیسٹ میچ جیتنا تو درکنار، ڈرا ہی کر لیں۔

پاکستانی ٹیم کاغذ پر کمزور تو تھی ہی پر اب بابر اعظم کی غیر موجودگی تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے۔ ریگولر کپتان کی غیر موجودگی میں درست اور میچ وننگ کمبی نیشن ترتیب دینا بھی جوئے شیر لانے سے کم کام نہ ہوگا۔ کہیں ایک باؤلر /بلے باز کم زیادہ کھلا لیا تو بس تیسرے دن ہی میچ ختم سمجھیں۔ آؤٹ آف فارم اسدشفیق کا اخراج اچھا قدم ہے لیکن اب ساری ذمہ داری حارث سہیل پر عائد ہو گی جو فٹنس مسائل سے بھی نبرد آزما ہوں گے۔ محمد عمران کو ڈیبیو کرایا جاسکتا ہے۔ وہ ڈومیسٹک سیزنز میں تواتر کے ساتھ اچھی کارکردگی دکھاتے رہے ہیں لیکن کیا نیوزی لینڈ کے باؤلرز کا توڑ کر پائیں گے؟ شان مسعود، عابد علی اور اظہر علی سے محض ایک ایک اننگز ہی اچھی کھیلنے کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔ جس سے ان کی ٹیم میں جگہ بنی رہے اور بس!

یاسر شاہ اور نسیم شاہ دونوں لازمی میچ کا حصہ ہوں گے اور دونوں کی حالیہ کارکردگی انہیں کسی کلب ٹیم میں بھی شامل کرانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ شاہین شاہ آفریدی تھکن کا شکار ہو رہے ہیں۔ کسی سیشن میں بہت عمدہ کارکردگی دکھاتے ہیں تو کہیں بے حد واجبی بن جاتے ہیں۔ محمد عباس انجری کے بعد سے اس درجہ موثر نہیں رہے۔ اب وہ اکا دکا وکٹوں پر ہی اکتفاء کرنے پر مجبور ہیں۔ سہیل خان اور عماد بٹ سے شاید کاشف بھٹی کے دورہ انگلنیڈ کی طرح صرف پانی پلانے کاکام ہی لیا جائے گا۔ شاداب کے انجرڈ ہونے کے باعث ظفر گوہر کو ٹیم میں شامل کیا جانا ایک اچھا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ وہ انڈر 19 سے اچھی باؤلنگ اور بوقت ضرورت عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے آرہے ہیں۔ ان کی شمولیت ایک اضافی اور اصل سرپرائز پیکج ہو سکتا ہے۔

پہلے ٹیسٹ میں محمدرضوان کپتانی کریں گے۔ وہ نیشنل لیول پر قیادت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ اس لیے داؤ پیچ تو خوب آزمائیں گے لیکن یہ دیکھنا دل چسپی سے خالی نہ ہو گا کہ کین ولیم سن ان کی چالوں پر کیا کرتے ہیں۔ ٹیم مینجمنٹ اور کوچنگ اسٹاف کو چاہیے کہ کپتان کو اعتماد میں لے کر کم ازکم تین پلان اے، بی اور سی کے ساتھ میدان میں اترنا چاہیے۔

کورونا اور کپتان بابراعظم کی انجری کے باعث مسائل میں جھوجھتی ٹیم پاکستان کی جیت تقریباخارج از امکان ہی ہے۔ اگر کھلاڑی کسی بھی طرح میچ کو برابری یا پانچویں دن تک لے جانے میں کامیاب ہو گئے تو یہی فتح مندی سمجھی جائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •